برطانوی حکومت کا حماس کو ’دہشت گرد‘ تنظیم قرار دینے کا فیصلہ

برطانیہ پہلے ہی فلسطینی گروپ حماس کے ونگ القسام بریگیڈ پر 2001 میں پابندی عائد کر چکا ہے لیکن سال 2000 کے دہشت گردی ایکٹ کے تحت یہ قدم اٹھانے سے برطانیہ میں حماس پر بھی مکمل پابندی عائد ہو جائے گی۔

برطانوی محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ حکومت برطانیہ نے فلسطینی گروپ حماس کو ’دہشت گرد‘ تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد حماس کے حامیوں کو 14 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی وزیر داخلہ پریتی پاٹل اس حوالے سے اگلے ہفتے پارلیمنٹ کے اجلاس میں حکومت کا موقف پیش کریں گی جس کے مطابق فلسطینی گروپ حماس کے سیاسی اور مسلح گروہوں میں فرق کرنا ممکن نہیں ہے۔

برطانیہ پہلے ہی حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ پر سال 2001 میں پابندی عائد کر چکا ہے لیکن سال 2000 کے دہشت گردی ایکٹ کے تحت یہ قدم اٹھانے سے برطانیہ میں حماس پر بھی مکمل پابندی عائد ہو جائے گی جیسا کہ اس سے قبل امریکہ اور یورپی یونین میں ہے۔

پریتی پاٹل نے اپنے دورہ امریکہ پر اس حوالے سے کہا تھا کہ ’ہمارا یہ فیصلہ وسیع پیمانے پر حاصل ہونے والی انٹیلی جنس معلومات اور دہشت گردی سے تعلق کی وجہ سے ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے کی سنگینی بہت زیادہ ہے۔‘

انہوں نے فلسطینی گروپ حماس کو ’مکمل طور پر یہود مخالف اور بنیاد پرست‘ تنظیم قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق یہودی کمیونٹی کے تحفظ کے لیے یہ پابندی ضروری تھی۔

اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے اس خبر کا خیر مقدم کرتے ہوئے حماس کو ایک ’شدت پسند‘ اسلامی جماعت قرار دیا ہے جو معصوم اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بناتی ہے اور اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’میں برطانیہ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں جس میں حماس کو مکمل طور پر ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ یہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر برطانوی حکومت حماس کو ’دہشت گرد‘ جماعت قرار دلوانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو برطانیہ میں حماس کا جھنڈا لہرانے، اس کے ارکان سے ملاقات کرنے یا اس کی حمایت ظاہر کرنے والا لباس یا کوئی کپڑا پہننا غیر قانونی عمل قرار پائے گا۔

سیاسی طور پر یہ قدم برطانیہ کی حزب اختلاف لیبر پارٹی کو حماس پر کوئی موقف لینے پر مجبور کر سکتا ہے۔ خیال رہے لیبر پارٹی کا بائیں بازو سے تعلق رکھنے والا دھڑا فلسطین کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

 قبل ازیں رواں ماہ ایک شخص کو حماس اور مسلح گروہ فلسطینی اسلامی جہاد کی حمایت پر مبنی ٹی شرٹ پہننے پر عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

اس گروہ پر برطانیہ میں 2005 میں پابندی عائد کی گئی تھی۔

34 سالہ فیراس الجایوسی جون میں تین مواقع پر یہ لباس پہن کر شمالی لندن کے گولڈرز گرین علاقے میں گئے تھے جہاں یہودیوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔

حماس کا موقف

حماس کا موقف ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم نہیں ہے بلکہ مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیل کے قبضے اور وہاں غیر قانونی یہودی بستیاں بسانے کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔ حماس کے مطابق اسرائیلی فوج مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے جس کا نوٹس دیگر ممالک نہیں لیتے بلکہ اسرائیل کے اتحادی ممالک حماس کے خلاف کارروائیاں کررہےہیں۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے برطانیہ کی جانب سے فلسطینی گروپ پر پابندی عائد کیے جانے پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ’حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا برطانوی ہوم آفس کا فیصلہ ہمارے فلسطینی عوام اور ان کی جدوجہد کی تاریخ کے خلاف جرم ہے۔‘

ان کے مطابق: ’استعمار کے خلاف تمام آزاد لوگوں کی جدوجہد کی مذمت ہے۔ یہ صیہونی وجود کو قائم کرنے اور اعلان بالفور کے پہلے جرم کے علاوہ برطانیہ کی طرف سے ایک بہت بڑا سیاسی، اخلاقی اور قانونی گناہ سرزد ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ صرف قبضے، اس کے مفادات اور بیانیے کو پورا کرتا ہے اور اسے اپنے جرائم کو جاری رکھنے اور انہیں بڑھانے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمارے فلسطینی عوام کے حقوق سے انکار ہے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا