سب کچھ، پر طالبان حکومت تسلیم نہیں

سب کی بات چیت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ سب کی پالیسی یہی دکھائی دے رہی ہے کہ انگیج کریں۔ پاکستان اسی پالیسی کو بہتر کہتا رہا ہے۔

طالبان کی طرف ممالک کا رویہ اور پالیسی یکسو نہیں لیکن افغانستان کے لوگوں اور افغانستان کے خطے اور عالمی سطح پر تقریبا  ایک ہی ہے(تصویر: وزارت خارجہ پاکستان)

افغانستان پر ٹرائیکا پلس کا اسلام آباد میں اجلاس بہت اہم تھا۔

نمبر ایک اس اجلاس کا اعلامیہ افغانستان سے منسلک اہم ترین معاملات پر اہم ترین طاقتور ہمسایہ ممالک، پاکستان اور امریکہ جن کا بہت اثر افغانستان کی معاشی، اقتصادی، سیاسی اور سفارتی صورت حال پر ماضی میں رہا ہے اور یقیناً حال اور مستقبل میں بھی ہو گا، یہ ان سب کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

طالبان کی طرف ان ممالک کا رویہ اور پالیسی یکسو نہیں لیکن افغانستان کے لوگوں اور افغانستان کے خطے اور عالمی سطح پر تقریبا ایک ہی ہے۔  پندرہ نکاتی اعلامیے میں افغانستان میں قحط سالی اور بے روزگاری کا شکار عوام سے ہمدردی کا اظہار اور امداد کا بذریعہ یو این دیتے رہنے کا فیصلہ اور افغان حکومت کو ہر قسم کا تعاون کرنے کی تاکید کی گئی۔

اعلامیے میں طالبان کی انسانی حقوق کی پاسداری خاص طور پر خواتین اور اقلیتوں کے حوالے سے ان کو تعلیم اور ملازمت کی سہولت اور اجازت سر فہرست رہی۔ دوسرا اہم نکتہ یہ تھا کہ جو شہری ملک سے باہر جانا چاہیں انہیں نہ روکا جائے۔

دہشت گردی پر سب ممالک کی یکجہتی نمایاں تھی۔ افغانستان کی سرزمین ہر حال میں دہشت گردی سے صاف رکھی جائے، یہ پیغام بھی اعلامیے میں واضح طور پر دیا گیا تھا۔

جہاں تک طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا سوال ہے، چاروں ممالک بشمول پاکستان، سب کی پالیسی نہ تسلیم کرنے پر اب بھی جوں کی توں ہے۔ طالبان حکومت سے تعلق اور بات چیت قائم رکھنا یہ سب ناگزیر سمحھتے ہیں لیکن تسلیم کا درجہ ابھی نہیں ممکن۔ یہ معاملہ طالبان بھی اٹھا رہے ہیں لیکن عملی طور پر تو کام چل ہی رہے ہیں۔

نمبر دو اس 15 اگست کو افغانستان میں عبوری حکومت بننے کے بعد یہ پہلی میٹنگ تھی جس میں چاروں ممبروں نے شرکت کی۔ اس سے پہلے ماسکو میں ٹرائیکا پلس کے اجلاس میں امریکہ نے شرکت نہیں کی تھی۔ کچھ تعلق امریکہ کی غیرحاضری کا اس کے افغانستان کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کی تبدیلی سے اور نئے ایلچی ٹام ویسٹ کی تعیناتی سے تھا پر زیادہ بڑا معاملہ تو واشنگٹن کا امریکی افغان پالیسی  کے بارے میں فیصلہ سازی کا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آخر پالیسی ہو گی کیا؟ طالبان کے ہاتھوں شکست زدہ امریکہ کا فطری ردعمل تو طالبان سے لاتعلقی کا اور ان کی عبوری حکومت کو تمام مشکلات کے باوجود ڈھیر ہوتے ہوئے دیکھنا تھا۔ پاکستان پر غصہ کہ طالبان کو سیاسی اور عسکری طور پر ختم کرنے کے لیے بغیر کسی چو چراں اندھا دھند مدد نہیں کی۔

بس کچھ خام خیالی کچھ اپنی طاقت کا زعم، وہی امریکہ جس نے خود پاکستان سے شروع میں پوشیدہ رکھ کر طالبان سے رابطے قائم کیے پھر فروری 2020 میں طالبان سے معاہدہ کیا، اپنی تاریخی ناکامی کو پاکستان کے سر تھوپنے سے تھکتا ہی نہیں۔ بہرحال طالبان کی تین مہینے کی عبوری حکومت کے بعد امریکہ نے طالبان حکومت سے بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا اور جو خطے کے اہم ممالک ہیں ان کے ساتھ مل کر افغانستان کی کی حکومت کو اہم معاملات پر فیصلہ سازی کرنے کی طرف لے جایئں۔

نمبر تین ٹرائیکا پلس کے تمام ممالک نے طالبان کے اہم وفد سے ملاقات کی، اپنے بھی مسائل پر بات ہوئی۔ امریکہ کے ٹام ویسٹ بھی ملے۔ سب کی بات چیت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ سب کی پالیسی یہی دکھائی دے رہی ہے کہ انگیج کریں۔ پاکستان اسی پالیسی کو بہتر کہتا رہا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ