پی ڈی ایم اجلاس: لانگ مارچ یا دھرنے کے وقت کا تعین متوقع

پی ڈی ایم کے ترجمان کے مطابق حکومت کے خاتمے کے لیے مرتب کیے گئے نسخے، تجاویز و سفارشات اسلام آباد میں آج کے سربراہی اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔

اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں منگل کو ہونے والے اس اجلاس میں ممکنہ طور پر پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان شرکت کریں گے (پاکستان مسلم لیگ ن میڈیا سیل/ فائل)

حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا ایک اور سربراہی اجلاس آج ہونے جا رہا ہے جس میں لانگ مارچ کے وقت اور تاریخ کے ساتھ دھرنے سے متعلق فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے۔

پی ڈی ایم ترجمان کے مطابق اس سربراہی اجلاس میں تمام جماعتوں کے سربراہان شریک ہوں گے۔

اس سے قبل پی ڈی ایم کے اجلاس ویڈیو لنک پر ہوئے جس کی وجہ تمام جماعتوں کے سربراہان کا دستیاب نہ ہونا تھی۔

اب اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں منگل کو ہونے والے اس اجلاس میں ممکنہ طور پر پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان شرکت کریں گے۔

شہباز شریف، مریم نواز اور احسن اقبال تاحال لاہور میں ہی ہیں جبکہ نواز شریف ہمیشہ کی طرح ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔

اس کے علاوہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں لاہور میں ہونے والی پی ڈی ایم کی کی مرکزی ریلی کی تاریخ اور وقت کا بھی فیصلہ ہوگا۔

اس حوالے سے پیر کو پی ڈیم ایم سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں سربراہی اجلاس کا ایجنڈا طے کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی ڈی ایم ترجمان حافظ حمد اللہ نے سٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا: ’ہم نے موجودہ حکومت کی صورت میں مہلک بیماری سے قوم کو نجات دلانے کے لیے نسخے، تجاویز و سفارشات مرتب کر لی ہیں جو تین بجے سربراہی اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔‘

ترجمان پی ڈی ایم کا کہنا تھا: ’مارچ میں لانگ مارچ بھی ہو سکتا ہے اور دھرنا بھی ہمارے آپشن میں شامل ہے۔‘

حال ہی میں منظور ہونے والے بلوں سے متعلق سوال پر ترجمان کا کہنا تھا:  ’پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں ہونے والی قانون سازی پر سپریم کورٹ جائیں گے۔ وکلا کا پینل تشکیل دے دیا ہے ہم اب عدالت جائیں گے۔‘

انہوں نے کہا: ’رانا شمیم کا بیان حلفی سامنے ہے، ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو بھی کل سے چل رہی ہے، عدلیہ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔‘

کیا پی ڈی ایم اجلاس میں پیپلز پارٹی شریک ہو سکتی ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو نے یہ جاننے کے لیے پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ جب بھی پی ڈی ایم کا اجلاس ہوتا ہے ہم سے یہی پوچھا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا: ’یہ واضح کر دوں کہ فی الحال پی ڈی ایم میں دوبارہ شمولیت کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ابھی ہم اس پر سوچ رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’پارلیمان میں شہباز شریف سے ملاقات اس لیے کی تھی کہ وہ اپوزیشن لیڈر ہیں اور مشترکہ اجلاس میں لائحہ عمل طے کرنا تھا کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ایوان میں اپوزیشن تقسیم ہو۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ 12 نومبر کو جب بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمٰن سے ان کے گھر پر ملاقات کی تھی، تو وہاں پر بھی پی ڈی ایم میں دوبارہ شمولیت پر کوئی بات چیت نہیں کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست