آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت پر تحریریں 1.3 کروڑ یورو میں نیلام

آئن سٹائن کے ہاتھ سے لکھی گئی تحریروں کے لیے 15 لاکھ یورو سے بولی کا آغاز ہوا جو جلد ہی نیلامی کرنے والوں کے اندازوں سے آگے نکل گئی۔

جرمن نژاد امریکی سائنس دان البرٹ آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت پر ہاتھ سے لکھی ہوئی ’نایاب‘ تحریریں پیرس میں ہونے والی ایک نیلامی میں ایک کروڑ 16 لاکھ یورو (ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر) کی ریکارڈ قیمت پر فروخت ہو گئیں۔

اس سے قبل ان قلمی تحریروں کا لگایا گیا تخمینہ نیلامی کی حتمی قیمت کے تقریباً ایک چوتھائی کے برابر تھا۔ ایک کروڑ 16 لاکھ یورو اس ذہین سائنس دان کی کسی بھی تحریر کی اب تک کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔

یہ تحریریں آئن سٹائن کے مشہور عمومی نظریہ اضافیت کے لیے کیے گئے ابتدائی کام پر مشتمل ہیں۔

عمومی نظریہ اضافیت 1915 میں شائع ہوا تھا۔

فرانسیسی نیلام گھر اگوت کی طرف سے نیلامی کا اہتمام کرنے والے برطانوی نیلام گھر کرسٹیز نے آئن سٹائن کی تحریروں کو ’نیلامی کے لیے آنے والی سب سے زیادہ قیمتی تحریریں قرار دیا ہے۔‘
 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیلامی سے قبل نیلام گھر نے اندازہ لگایا تھا کہ یہ 20 سے 30 لاکھ یورو میں فروخت ہوں گی۔

اس سے قبل 2018 میں ’خدا کا خط‘ (God Letter) کہلانے والا آئن سٹائن کا کام 28 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوا جب کہ 2017 میں خوش رہنے کے راز کے بارے میں ایک خط 15 لاکھ 60 ہزار ڈالر کی ریکارڈ قیمت پر نیلام ہوا۔

ان کی ہاتھ سے لکھی گئی تحریروں کے لیے منگل کو 15 لاکھ یورو سے بولی کا آغاز ہوا جو جلد ہی نیلامی کرنے والوں کے اندازوں سے آگے نکل گئی۔

چند منٹ بعد دو بولی دہندگان میدان میں رہ گئے جو ٹیلی فون پر مقابلہ کرتے ہوئے بولی کی رقم میں دو، دو لاکھ یورو کا اضافہ کرتے رہے۔

کامیاب بولی دہندہ کی شناخت یا شہریت کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔ نیلامی کے عمل کو تقریباً ایک کلیکٹرز اور تماشائیوں نے دیکھا تاہم تمام بولیاں ٹیلی فون کے ذریعے لگائی گئیں۔

نیلام ہونے والی 54 صفحات پر مشتمل دستاویزات آئن سٹائن اور ان کے قریبی دوست مشیل بیسو نے 1913 سے 1914 کے درمیان زیورخ، سوئٹزر لینڈ میں لکھیں۔

نیلام ہاؤس کرسٹیز نے بیسو کا شکریہ کیا جنہوں نے ان تحریروں کو آنے والے وقت کے لیے محفوظ کیا۔

کرسٹیز کے مطابق یہ تقریباً ایک معجزہ ہے کیونکہ آئن سٹائن اپنی تحریروں کو محفوظ نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ انہیں محض ایسی دستاویزات سمجھتے تھے جس پر کام جاری تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا