شامی جنگ کی میراث: بارودی سرنگوں کا خطرہ اب بھی باقی

عالمی تنظیم ’دا لینڈ مائن مانیٹر‘ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق شام نے بارودی سرنگوں سے ہونے والے جانی نقصان کے حوالے سے افغانستان اور کولمبیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو اس سے پہلے اس لسٹ میں سرفہرست ممالک تھے۔

ایک شامی بچہ 10 مارچ 2021 کو شمال مغربی صوبے ادلب میں بے اثر دھاتی شیلز کے ڈھیر کے اوپر سر رکھے کھڑا ہے (فائل فوٹو:اے ایف پی)

دمشق کے مضافات میں اپنے محلے میں واقعے چھوٹے سے میدان میں نو سالہ مصباح آج بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ فٹ بال کھیلنے سے کتراتے ہیں۔

اس بچے کا خاندان برسوں پہلے خانہ جنگی کے باعث حمص شہر سے بے گھر ہو گیا تھا اور اب وہ پڑوس کے اپنے دوستوں کو کھیلتا ہوا دیکھ کر غم گیر ہو جاتا ہے اور اپنی مصنوعی ٹانگ کی طرف اداسی سے دیکھتا ہے، جس کی ٹانگ اپنے والد کے کھیت میں ایک بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد ضائع ہو گئی تھی۔

جیسے جیسے شام کی جنگ طول پکڑ رہی ہے، ویسے ہی مصباح کی طرح اپنے اعضا کھو دینے والے بچوں، خواتین اور عام شہریوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

ہر چھ ماہ بعد مصنوعی اعضا کے مرکز میں چیک اپ کے لیے جانا اب مصباح کے لیے معمول بن گیا ہے اور وہ اپنی معذوری کے باعث دوسروں کی ترس بھری نگاہوں کے عادی بن چکے ہیں، لیکن وہ اس سب کے باوجود ہار ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں بڑا ہو کر فٹ بال کا کھلاڑی بننا چاہتا تھا لیکن اب میں صرف تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھتا ہوں۔ میں اب ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں۔‘

شام میں بین الاقوامی طور پر ممنوعہ ہتھیاروں جیسے کلسٹر اور کیمیائی راکٹ فائر کی وجہ سے اور جنگ کی تباہی اور میزائلوں اور راکٹ فائر کی ہولناکیوں سے گزرنے کے بعد یہ ملک اب انگاروں کی سیج پر سلگ رہا ہے۔

غیر مستحکم امن کے باوجود، معصوم لوگ اب بھی مہلک جال (بارودی سرنگوں) کا سامنا کر رہے ہیں، جو ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

چند روز قبل عالمی تنظیم ’دا لینڈ مائن مانیٹر‘ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق شام میں گذشتہ برس بارودی سرنگوں کا نشانہ بننے والوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔

تنظیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق خانہ جنگی کے شکار اس ملک میں بارودی سرنگوں سے دو ہزار 729 افراد موت کے منہ میں چلے گئے یا زخمی ہوئے، جو 1999 میں قائم ہونے والی تنظیم کی جانب سے اب تک ریکارڈ کیے گئے سب سے زیادہ اعداد و شمار ہیں۔

شام نے بارودی سرنگوں سے ہونے والے جانی نقصان کے حوالے سے افغانستان اور کولمبیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو اس سے پہلے اس لسٹ میں سرفہرست ممالک تھے۔

لگاتار چھٹے سال 2020 میں، جنگوں کی بچنے والی میراث یعنی دیسی ساختہ بارودی سرنگوں یا نہ پھٹنے والے گولہ بارود کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

شام کے شمال مشرق اور شمال مغرب میں سابق تنازعات والے علاقوں یا ان خطوں میں، جو اب بھی جنگ کی لپیٹ میں ہیں، میں مزید معصوم جانوں کے ضیاع پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

رواں سال کے آغاز میں شام کے صحرا میں داعش کا دوبارہ ابھرنا بھی خطرے کا باعث ہے جب اس عالمی دہشت گرد گروپ نے فوجی دستوں اور گاڑیوں کو تباہ کرنے کے لیے سڑکوں کے کنارے بارودی سرنگیں بچھائی تھیں۔

6 نومبر کو حمص کے مضافات میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں سات افراد، جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

شام کے لیے انسانی حقوق کی تنظیم ’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کے مطابق ان کے عملے کی گاڑی کو تاریخی شہر تدمر کے راستے میں دعوا نامی صحرا کے قریب سڑک کنارے نصب بارودی سرنگ سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور اس میں سوار تمام مسافر ہلاک ہوگئے۔

شام میں ریڈ کراس کے ترجمان عدنان خزم نے سابقہ تنازعات والے علاقوں میں جاری خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے انڈپینڈنٹ عربیہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان علاقوں میں فصلوں کی کٹائی کے موسم میں خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے جب شام کے صحرا میں مقامی کھُمبیوں کی چنائی کی جاتی ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’بارودی سرنگیں لاکھوں شامی شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہلال احمر کے ساتھ مل کر آئی سی آر سی دیہی علاقوں میں اس خطرے سے بچنے کے بارے میں آگاہی مہم چلا رہی ہے۔ ہمارے رضاکار سابقہ جنگ زدہ علاقوں میں آگاہی سیشنز کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو نقصان سے بچنے کے طریقے سے آگاہ کیا جاسکے۔‘

سماجی کارکن مقامی لوگوں میں شعور بیدار کرنے اور انہیں غیر معمولی چیزوں سے محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہیں جو اصل میں بارودی سرنگیں ہو سکتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جرمنی منتقل ہونے سے قبل دمشق کے نواحی علاقے کے ایک ہسپتال میں بطور ایمرجنسی ڈاکٹر کام کرنے والے غیاث حج ہمدون نے جنگ کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا: ’کئی بچوں کے اعضا صرف اس لیے ضائع ہوگئے کیوں کہ انہوں نے کھلونوں سے ملتی جلتی چیزوں میں چھپی بارودی سرنگیں اٹھا لی تھیں جو دھماکے سے پھٹ گئیں۔ مہنگی اشیا میں چھپائی گئی اور گھروں میں نصب بارودی سرنگیں بھی کئی اموات کا باعث بنیں۔‘

ڈاکٹر غیاث کے خیال میں آج خطرہ یہ ہے کہ بارودی سرنگوں میں اضافہ جاری ہے، جن میں ان کے مقامات کا سراغ لگانے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی چیز انہیں تلاش کرنے میں اور بھی مشکل بنا دیتی ہے۔

ان کے بقول: ’ایک ایسے وقت میں جب زمین پر گولیاں اور توپ خانے سے فائرنگ کم ہوئی ہے، جنگ اب بھی آسان نہیں ہے۔ شامی باشندوں کو اب زیر زمین خطرے کا سامنا ہے۔ بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے مزید کوششیں کی جانی چاہییں اور ان سے نمٹنے کے لیے انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔‘

دا لینڈ مائن مانیٹر نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے فوجی کارروائیوں میں مصروف شامی افواج یا روسی افواج کی جانب سے اینٹی پرسنیل بارودی سرنگوں کے استعمال کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس کے متعلق لکھا ہے۔

اگرچہ شام نے بارودی سرنگوں پر پابندی کے معاہدے ’مائن بین ٹریٹی‘ پر دستخط نہیں کیے ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ تمام زخمیوں اور خاص طور پر متاثرہ بچوں سمیت معذور افراد کے لیے سماجی اور نفسیاتی مدد کو یقینی بنایا جائے۔


یہ مضمون سب سے پہلے انڈپینڈنٹ عربیہ پر شائع ہوا تھا، جسے اب یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا