پرانی تہذیب و ثقافت اور ہمارا آج

کوئی اور سر جان مارشل، کوئی ارنسٹ مکے آئے ہم چشم براہ ہیں ۔۔۔ لیکن آخر وہ ہی کیوں؟ ہم میں سے کوئی دلاور، کوئی فضل یا کوئی پروین کیوں نہیں؟

9 فروری 2017 کو لی گئی اس تصویر میں یونیسکو کے عالمی ورثے اور آثار قدیمہ کے مقام موہن جو دڑو میں ایک نگران اسماعیل مگیری بتا رہے   ہیں کہ اس جگہ پر سٹریٹ لائٹس کے طور پر استعمال ہونے والی لالٹین رکھنے کے لیے محرابیں بھی موجود تھیں (اے ایف پی)

دسمبر کے پہلے ہفتے میں سندھ کا ثقافتی دن مناتے ہوئے اجرک کا ذکر نہ آئے یہ کیسے ممکن ہے؟ کہنے کو اجرک ایک چادر ہے جس کے مخصوص رنگ اور ڈیزائن دور سے ہی پہچانے جاتے ہیں لیکن اس کی تاریخ کھوجنے والے ساڑھے پانچ ہزار سال پہلے کے زمانے میں پہنچ جاتے ہیں۔

اس وقت علاقے کی معزز شخصیات ایسے ڈیزائن سے سجے لباس پہنا کرتی تھیں جس کا ثبوت ’شاہی پنڈت‘ (king priest) کے مجسمے کی صورت میں کراچی کے قومی عجائب گھر میں سجا ہے۔ 

ثقافت میں اجرک اور ٹوپی ایک بہت بڑے کینوس پہ فوکس کیے ہوئے دو رنگ ہیں جو بلاشبہ بہت دلکش ہیں۔ لیکن آئیے پوری پینٹنگ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے لیے پہلے ثقافت کے سٹوڈیو کی سیر لازم ہے۔

سادہ ترین تعریف کے مطابق ہمارا روزمرہ  کا معمول ہی ہماری ثقافت ہے۔ روزمرہ کے معمول کا تعلق اپنی مٹی، موسم، عقائد، لباس، خوشی /غم کے اظہار کے طریقے، فن، ادب اور زبان سے جڑا ہوتا ہے۔ سندھ کی ثقافت بھی یہیں کی زمین پہ پلی بڑھی ہے اور اسی لیے اپنے پیروں پہ کھڑی ہے۔

 یہ آج کی بات نہیں لگ بھگ پانچ ہزار سال جاتے ہیں کہ دنیا کی تین پہلی بڑی تہذیبیں بڑے دریاؤں کے کنارے آباد تھیں۔ پہلی دجلہ اور فرات کی سرزمیں ۔۔میسوپوٹیمیا۔۔ یعنی دریاؤں کے بیچ کا علاقہ ۔۔۔ (برصغیر میں ایسی جگہ کو دوآبہ کہا جاتا ہے) دوسری دریائے نیل کےکنارے مصری تہذیب جس کے Pyramids عقل والوں کو چکرائے رکھتے ہیں اور تیسری دریائے سندھ کی زرخیز وادی سے ابھرنے والی سب سے بڑی وادی سندھ کی تہذیب، جسے دنیا بھر میں انڈس ویلی سولائیزیشن کے نام سے جانا جاتا ہے اور ہم خود جس کے وارث ہیں۔

اس تہذیب کا بڑا مرکز موئن جوداڑو کو ہی مانا گیا ہے اگرچہ اس کا علاقہ اپنے عروج پر مغرب میں ہڑپہ، پنجاب اور جنوب مشرق میں گجرات تک پھیلا ہوا تھا۔

کوئی سو سال ہونے کو آئے جب بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں سر جان مارشل اور ان کی محنتی ٹیم نے ہڑپہ اور موئن جوداڑو کی ہزاروں من ریت میں دبی سانسیں پھر سے بحال کر دیں اور ایک تہذیب کو اپنی ثقافت کے رنگ میں زندہ کر دیا۔ ’موئن جو داڑو‘ جہاں ارنسٹ مکے نے ہزاروں سال سے مٹی کی تہوں میں سوئی ہوئی ’رقاص لڑکی‘ کو بیدار کیا جو آج کل نئی دہلی کے عجائب گھر میں ہزاروں ملاقاتیوں کو اپنی داستان سناتی رہتی ہے۔ دنیا اسے ڈانسنگ گرل کے نام سے جانتی ہے۔

بات ہو رہی تھی پرانی تہذیب و ثقافت کے بڑے کینوس کی، جس پہ نظر دوڑائیں تو صفائی کے اعلی انتظام، سیوریج کا مکمل نظام، شہر بھر کو پانی کی کامیاب سپلائی، ناپ تول کے صحیح پیمانے اور شہری زندگی کی مکمل تہذیب کے آثار ملتے ہیں۔

اب آئیں فلیش بیک سے واپس آج کے دور میں چلیں جہاں پہلے ہم اپنے نصف ایمان یعنی صفائی سے ہی شروع کرتے ہیں۔ جا بجا کچرے کے ڈھیر اور گندگی کے انبار ہم سے ہماری تہذیب کا تعارف پوچھتے ہیں لیکن ہم آنکھیں چرا کر گزرنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں کیونکہ ہمیں کہیں نہ کہیں پہنچ کر وقت گزارنے یا پھر کہیں نہ کہیں سے واپس گھر پہنچ کر ’نیٹ فلکس‘ سے آنکھیں چار کرنے کی جلدی ہوتی ہے۔

مکانات کے باہر اگر کوئی شہری فرائض کا مارا تھیلیوں میں باندھ کے  کچرا رکھ بھی دے تو علی الصبح کچرے سے ری سائیکل ہو جانے والی اشیا کو دوبارہ کام آنے والی اشیا کی تلاش میں بچے کھول کر پھیلا جاتے ہیں۔

اب اس کا بھی کیا کریں کہ یہ ری سائیکل انڈسٹری اربوں روپے کی صعنت ہے لہذا ان بچوں کو مکمل منصوبہ بندی کے بغیر روکنے کی جرات کون کرے؟

سنا ہے کچھ سال پہلے کچھ غیرملکیوں نے تجویز پیش کی تھی کہ یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کی طرح اس کچرے سے بجلی بنانے کے پلانٹ لگانے کی اجازت دی جائے تاکہ ایک پنتھ، دو کاج والا معاملہ ہو جائے۔ کچرا بھی ٹھکانے لگے اور بجلی بھی کچھ نہ کچھ میسر ہو جائے لیکن کچرے کی قسمت تیز نکلی اور وہ جل مرنے کی تکلیف سے بچ گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب بات کرتے ہیں آج کے سیوریج کے نظام کی جس کا پول برسات میں خاص طور پر کھل کھلا کے پیروں سے یا ٹائروں سے لپٹتا ہے۔ جاپان، ملائیشیا اور مشرق بعید کے دیگر ممالک کے لوگ مکان کے اندر جوتا نہیں لاتے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ جوتے کے گندے تلووں کے ساتھ لپٹ کر بدروحیں گھروں میں داخل ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں تو ابلتے گٹروں کا گندہ کیچڑ جوتوں سے لگ کر جانے کیسے کیسے جراثیم گھر میں داخل کرتا رہتا ہے اور ہمیں اس کا ادراک بھی نہیں۔

شہر بھر کو پانی کی سپلائی؟ سن کر ہی ہنسنے یا رونے کے بیچ کی کیفیت جسے جانے کیا کہتے ہیں، طاری ہونے لگتی ہے۔ اکیسویں صدی میں استعمال کا پانی نلکوں میں آنے کی بجائے زنگ آلود ٹینکروں میں سفر کرتا ہے، بکتا ہے اور مہنگے دام دلاتا ہے۔

ہزاروں سال پہلے پہیہ استعمال کرنے اور ناپ تول کے اعشاری نظام رائج کرنے والے یقیناً سوچ اور تحقیق کے مراحل سے گزرے ہوں گے۔ آج ہمارے ہاں تحقیق کی ضرورت کسی کو نہیں۔ باہر کی دنیا سے جو آگیا، اپنا لیا۔ چاہے وہ نظریہ ہو، تکنیکی مہارت ہو یا کسی بھی قسم کی امداد ہو۔ انگریزوں نے ریلوے لائن نہ بچھائی ہوتی تو کھدائی میں ہڑپہ اور بعد میں موئن جو داڑو کے کھنڈرات بھی شاید ٹنوں مٹی تلے دبے ہی رہتے۔

اس تہذیب کے باسی ہتھیاروں سے پاک معاشرے پر یقین رکھتے تھے لیکن ہمارے ہاں آئے دن گولیوں سے چھلنی لاشیں اپنے پیاروں کے آنے اور اپنائے جانے تک خون میں لپٹی رہتی ہیں۔ وہ تمدن مذہبی اختلافات سے اجنبی تھا جبکہ ہم مذہب کے نام پر ہر گھڑی مرنے مارنے پر آمادہ رہتے ہیں۔

اگر اس شاندار تہذیب میں رائج قدیم مہروں کی زبان اب تک نہیں پڑھی جا سکی تو ہمیں کیا؟ ہم تھوڑی کوشش کریں گے اپنا ماضی سمجھنے کی۔

کوئی اور سر جان مارشل، کوئی ارنسٹ مکے آئے ہم چشم براہ ہیں ۔۔۔ لیکن آخر وہ ہی کیوں؟ ہم میں سے کوئی دلاور، کوئی فضل یا کوئی پروین کیوں نہیں؟

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ