ٹھٹھہ کا گاؤں جس کی خواتین کےدن پانی بھرنے میں گزر جاتے ہیں

دہائیوں بعد بھی ہادو گوٹھ کے مکینوں کومیٹھا پانی نل کے ذریعے میسرنہیں ہوسکا ہے۔ لہٰذا گوٹھ کے مکین کنوؤں سے پانی بھرتے ہیں اوریہ کام خواتین کی ذمہ داری ہے۔

سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں ایک گاؤں ایسا بھی ہے جس کی خواتین کی زندگی کے شب و روز پانی کی تلاش میں ہی گزر جاتے ہیں۔

آٹھ سو افراد کی آبادی والے ہادو گوٹھ میں میٹھے پانی کے چار کوئیں ہیں لیکن حالیہ بارشوں کا پانی بھرنے سے کنوؤں کا پانی کڑوا ہوگیا ہے۔ اب علاقے میں میٹھے پانی کا صرف ایک ہی کنواں رہ گیا ہے۔

نذیراں بی بی بھی ان درجنوں خواتین میں سے ہیں، جو پانی بھرنے کے لیے بالٹیاں اور کولر اٹھائے اس کنویں تک جاتی ہیں۔ 

انہوں نے بتایا: ’ہماری مجبوری ہے۔ ہمارے چھوٹے بچے ہیں۔ ہمیں تو کسی بھی صورت ان کی بچوں کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ بتاتی ہیں کہ خواتین صبح اٹھ کر چائے اور کھانا پکا کر پانی بھرنے جاتی ہیں، اور دن میں ایسے تین یا چار چکر لگ جاتے ہیں۔ ’روزانہ شام ہوجاتی ہے جب پانی بھر کر واپس آتے ہیں مغرب کی اذانیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ اور پانی لانے کی وجہ سے گھر کے کام بھی نہیں ہوتے۔‘

ان کے بقول پانی لینے جانے میں ایک گھنٹہ اور واپس آنے میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ 

ہادو گوٹھ تحصیل میرپورساکرو میں ہے جو کہ دریائے سندھ اوربحیرہ عرب کے سنگم پر واقع ہے۔ تاہم دہائیوں بعد بھی اس علاقے کے مکینوں کو میٹھا پانی نل کے ذریعے میسرنہیں ہوسکا ہے۔ لہٰذا گوٹھ کے مکین کنوؤں سے پانی بھرتے ہیں اوریہ کام خواتین کی ذمہ داری ہے۔

علی الصبح گوٹھ کی خواتین ٹولیوں کی شکل میں کنوؤں سے پانی بھرنے نکلتی ہیں۔ جب گھر کی بچیاں تھوڑی بڑی ہوجاتی ہیں تو وہ بھی اپنی والدہ کے ساتھ پانی بھر کر لاتی ہیں۔

گوٹھ ہادو میں دو سال قبل نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کے تحت یورپی یونین کے تعاون سے بورنگ کرکے زمین سے میٹھا پانی حاصل کرنے کے لیے واٹر پمپ لگائے گئے تھے جو کچھ عرصے بعد ہی خراب ہوگئے اور علاقے کی خواتین دوبارہ کنوؤں سے پانی بھرنے پر مجبور ہوگئیں۔

یہ گوٹھ اس انتخابی حلقے میں موجود ہے جہاں سے قومی اور صوبائی دونوں نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رہنما منتخب ہوئے تھے لیکن ان کے ہی انتخابی حلقے میں کئی ایسے گاؤں ہیں جہاں سینکڑوں خواتین کی زندگی کے شب و روز پینے کا پانی بھرتے گزرگئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا