کرم میں شادی کے لیے بہترین دن کا احوال

شادی شادی ہوتی ہے اور خوشیوں کی بہار ہوتی ہے، لیکن اگر یہ ایک دو نہیں پورے 60 جوڑوں کی ہو تو پورا شہر جھوم اٹھتا ہے۔ یہی مجھے بھی گذشتہ دنوں ضلع کرم جا کر محسوس ہوا۔

شادی شادی ہوتی ہے اور خوشیوں کی بہار ہوتی ہے، لیکن اگر یہ ایک دو نہیں پورے 60 جوڑوں کی ہو تو پورا شہر جھوم اٹھتا ہے۔ یہی مجھے بھی گذشتہ دنوں ضلع کرم جا کر محسوس ہوا۔  صدر مقام پاڑہ چنار کی جس گلی کوچے سے گزروں پھولوں غباروں سے لدھی ہوئی دولہا کی گاڑی آتی جاتی دکھائی دی۔

پوچھا یہ کیا ماجرا ہے تو معلوم ہوا کہ شگون کے اعتبار سے وہ دن شادی کے لیے بہترین تھا لہذا ان 60 جوڑوں کے علاوہ بھی جس نے شادی کرنی تھی اس ہی روز کرلی۔ لگتا تھا شادی سے جڑے کاروبار جیسے کے گاڑیوں کی سجاوٹ اور تمبو والے سب نے ایک ہی دن میں اپنے نقصانات پورا کر لیے ہوں گے۔

پاڑہ چنار کے آبادی والے علاقے کے کھلے میدان میں ایک بڑا خیمہ نصب ہے اور سپیکر پر تیز آواز میں خطاب جاری ہیں۔ باقی آدھے میدان میں رنگ برنگی سجائی ہوئی دولہا کی گاڑیاں دائرے کی صورت میں کھڑی ہیں۔ اندر 60 دولہے سکول یونیفارم کی طرح سفید شلوار قمیص میں ہار پہنے قطار میں بیٹھے ہیں۔ سٹیج مہمانان خصوصی کی لمبی لائن سے بھرا ہوا ہے۔ مقامی فوجی کمانڈر بھی اجتماعی شادی کی تقریب میں شریک ہیں لہذا باہر سکیورٹی پر بڑی تعداد میں فوجی تعینات ہیں۔

فوجی کمانڈر نے ایک لاکھ روپے کے عطیے کا اعلان بھی کیا۔

قریب ہی ایک دوسرے کھلے پلاٹ پر 60 ڈاٹسن گاڑیاں جہیز کے سامان سے لدھی کھڑی ہیں۔ اس میں ایک کمرے کا قالین، ایک بیڈ، فوم اور رنگین ٹین کا باکس دیکھے جاسکتے ہیں۔ باقی سامان جیسے کہ برتن وغیرہ مین ٹینٹ کے پاس نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس ’آل مرد حضرات‘ اجتماع میں دولہنوں تو کیا عورتوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ نہیں معلوم اس قسم کی تقریب ان کے لیے بھی کہیں منعقد کی جاتی ہے یا محض گل بوٹی والی گاڑی میں خاموشی سے بیٹھا دیا جاتا ہے۔

علاقہ غیر سے علاقہ خیر تک:

علاقہ غیر سے علاقہ خیر تک: باجوڑ کے سٹڈی سرکل

علاقہ غیر سے علاقہ خیر تک: تین سالہ بچے بھی’سرکاری ملازم‘

بتایا گیا کہ پاڑہ چنار میں ایک شادی پر تقریباً پانچ سی دس لاکھ روپے تک خرچ ہوتے ہیں جو ہر کوئی برداشت نہیں کرسکتا ہے۔ لہذا جن کی منگنیاں طویل عرصے سے ہوچکی ہیں لیکن شادی کی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں ان کی اجتماعی شادی کے ذریعے مدد کی جاتی ہے۔ پھر دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کو بھی ترجیح دی جاتی ہے۔

اس تقریب کا انعقاد امام خمینی ٹرسٹ اور ماری انڈس میانوالی کے اشتراک سے ہوا تھا لیکن اس کے روح رواں تنظیم حسینی کے نائب صدر حاجی عابد حسین بتائے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف تنظیموں سے فنڈز اکٹھے کر کے سال میں ایک یا دو بار اس قسم کی تقریب منعقد کرتے ہیں۔

حاجی عابد حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہمیں ڈھائی سو درخواستیں موصول ہوئی تھیں لیکن اتنے وسائل نہیں کہ ہر کسی کی مدد کرسکیں۔‘

اس شرماتے ہوئے دولہاؤں میں سے ایک 28 سالہ عابد حسین بھی شامل تھے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایک نجی سکول میں تدریس خدمات کے صلے میں جو کچھ ملتا ہے اس سے شادی نہیں کر پا رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اجتماعی شادی میں شامل اگر نہ ہوتا تو بھی شادی تو ہو جاتی لیکن بڑی مشکل سے ہوتی۔ ’یہاں کے اکثر نوجوان قرضہ لیتے ہیں نئی زندگی کے آغاز کے لیے۔‘

دنیا بھر میں اجتماعی شادیوں کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ اس دھواں دھار کامیابی کی واحد وجہ سہولت ہے۔ کہیں فلاحی تنظیمیں اس کارخیر کا بندوبست کرتی ہیں تو کہیں شادی کرنے والے خود بھی اخراجات میں کمی کے لیے ایسا کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان