مس یونیورس ٹائٹل کی ہرناز سندھو کے ساتھ 21 سال بعد بھارت واپسی

بھارتی ریاست چندی گڑھ سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ ماڈل اور اداکارہ ہرناز سندھو دنیا کی 70ویں مس یونیورس منتخب ہوئی ہیں۔

مس یونیورس کا ٹائٹل 21 سال بعد ایک بار پھر بھارت کے نام ہوگیا ہے، جب اتوار کو ہرناز سندھو دنیا کی 70ویں مس یونیورس منتخب ہوئیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق سابق مس یونیورس میکسیکو کی اینڈریا میزا نے اپنی جان نشین، ہرناز سندھو کو اسرائیل کے شہر ایلات میں منعقدہ مس یونیورس کی تقریب میں تاج پہنایا۔  

ماڈل اور اداکارہ ہرناز ساندھو کا انتخاب 80 امیدواروں میں سے ہوا۔ جنوبی افریقہ کی لالیلہ مسوانے دوسری رنر اپ اور پراگوئے کی نادیہ فریرا پہلی رنر اپ ٹھہریں۔

تقریب میں قومی ملبوسات اور تیراکی کے کپڑوں کی نمائش کے ساتھ ساتھ امیدواروں سے سوالات بھی پوچھے گئے تاکہ ان کی عوامی خطابت (Public Speaking) میں مہارت کو جانچا جاسکے۔

بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ بالی وڈ ہنگامہ کے مطابق ٹاپ تھری کے راؤنڈ میں جب مس انڈیا ہرناز سندھو سے پوچھا گیا کہ وہ دباؤ کا سامنا کرنے والی آج کل کی نوجوان خواتین کو کیا تجویز دینا چاہیں گی تو ان کا کہنا تھا: ’آج کل کے نوجوان کے لیے سب سے بڑا دباؤ خود اعتمادی ہے۔ یہ جاننا کہ آپ الگ ہیں، آپ کو خوبصورت بناتا ہے۔ اپنے آپ کو دوسروں سے تشبیہ دینا چھوڑیں اور دنیا میں ہونے والے اہم معاملات پر بات کریں۔ باہر آئیں، اپنے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ اپنی زندگی کے رہنما آپ خود ہیں۔ آپ اپنی آواز خود ہیں۔ میں نے خود پر یقین کیا اور اسی لیے میں آج یہاں کھڑی ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مس یونیورس منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا: ’میں ان سب کی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا اور مجھ پر یقین رکھا۔ میں اب اس تاج کی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے تیار ہوں۔‘

21 سال بعد مس یونیورس کا تاج بھارت واپس آیا ہے۔ اس سے قبل 2000 میں لارا دتا اور 1994 میں سشمیتا سین مس یونیورس منتخب ہوئی تھیں۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق 21 سالہ ہرناز بھارتی پنجاب کے شہر چندی گڑھ سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ ایک ماڈل ہیں اور پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رہی ہیں۔

مقابلہ حسن میں انہوں اپنا پہلا ٹائٹل 17 سال کی عمر میں جیتا تھا، جب وہ 2017 میں ٹائمز فریش فیس کی فاتح منتخب ہوئیں۔ وہ دو پنجابی فلوں میں بھی کام کر چکی ہیں۔

مقابلے میں سیاسی تناؤ

حالیہ ہفتوں میں مس یونیورس مقابلہ اسرائیل میں ہونے کی وجہ سے خبروں میں بھی رہا۔

فلسطین کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے ملک ملیشیا نے مقابلے میں کسی امیدوار کو نہیں بھیجا، جبکہ جنوبی افریقہ کی حکومت، جو فلسطین کی حمایت کرتی ہے، نے اپنے ملک کی نمائندہ سے تقریب میں شرکت کرنے کے ان کے فیصلے پر سپورٹ واپس لے لی۔

گذشتہ ماہ ایک انٹرویو میں اینڈریا میزا نے امیدواروں پر زور دیا تھا کہ وہ سیاست کو اس مقابلے سے دور رکھیں کیونکہ اجلاس کا مقصد مختلف پس منظر رکھنے والی خواتین کو ایک ساتھ لانا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’جب آپ وہاں ہوتے ہیں، آپ اپنی سیاست کو اور اپنے مذہب کو بھول جاتے ہیں۔‘

اسرائیل کی وزارت سیاحت کی عہدیدار سارہ سالانسکی نے کہا کہ اسرائیل کو اس سال تقریب کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا کیونکہ اس کی ویکسینیشن مہم کامیاب رہی۔  

مقابلہ حسن میں ایک اور خلل کرونا (کوورنا) وائرس کی نئی قسم ’اومیکرون‘ کے آنے کی وجہ سے آیا، جب اسرائیل نے اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے غیر ملکی سیاحوں کے لیے اپنی سرحدیں بند کردیں۔

مس یونیورس کی زیادہ تر امیدوار نئے ضابطے آنے سے قبل ملک میں ہی تھیں اور جو بعد میں آئیں انہیں 72 گھنٹے کے قرنطینہ کے بعد داخلے کی اجازت دی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سٹائل