کشمیری ہریسہ جسے ’عمران خان کا انتظار ہے‘

لالہ زار کیفے کے غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ ’سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نواز شریف تک سب نے ہمارا ہریسہ کھایا اور پسند کیا ہے البتہ عمران خان ابھی تک ہمارا ہریسہ کھانے نہیں آئے۔‘

غلام مصطفیٰ لالہ پریشان ہیں کہ لوگ کشمیری کھانے بنانے ترک کر رہے ہیں (سکرین گریب)

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں لالہ زار کیفے پر بننے والا کشمیری ہریسہ لاہور اور کراچی تک سوغات کے طور پر بھیجا جاتا ہے۔ 

ہریسہ سردیوں کا پکوان ہے، جو مونگ، چھولے کی دال اور بکرے کی ران کے گوشت کو ابالنے کے بعد پیس کر تیار کیا جاتا ہے اور اسے روٹی یا نان کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔

ہریسہ بنانے کا طریقہ

لالہ زار کیفے کے غلام مصطفیٰ لالہ نے بتایا کہ ہریسہ کی تیاری دال ابالنے سے شروع ہوتی ہے۔ دال کو ابال کر اس کا پیسٹ بنا لیا جاتا ہے، جس کے بعد اس میں پانی، سرخ مرچ، خشک پیاز، الائچی، نمک، سونف، لونگ اور زیرہ شامل کیے جاتے ہیں۔

دال ابلنے کے بعد پیس کر دیگ میں ڈال دیتے ہیں۔ پھر بکرے کی ران سے گوشت اور ہڈی الگ کی جاتی ہے۔

گوشت کو پریشر ککر میں ابالنے کے لیے چولہے پر چڑھا دیتے ہیں جبکہ ہڈیوں کا سوپ بنایا جاتا ہے۔ یہ سوپ اور ہڈیوں کا گودہ بھی دیگ میں ڈال دیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جب گوشت گل جائے تو اس کو پتھر پر لکڑی سے کوٹ کر دیگ میں ڈالا جاتا ہے۔ یہ اشیا شامل کرنے کے بعد انہیں لکڑی کی ڈوئی سے اچھی طرح چلایا جاتا ہے تاکہ وہ یکجا ہو جائیں۔

اب اسے آگ پر چڑھا دیتے ہیں اور تیار ہونے تک اس میں چمچ چلاتے ہیں۔ جب تیار ہو جائے تو دیسی گھی کا تڑکا لگایا جاتا ہے۔ 

ہریسہ کا ’میک اپ‘

غلام مصطفیٰ لالہ ہریسہ کا میک اپ بھی تیار کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ دو مزید ڈیشز میتھ ماز اور رستہ بناتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ہریسہ کا میک اپ ہے جو ہریسہ کے ذائقے کو دو بالا کرتا ہے۔ 

میتھ ماز بنانے کا طریقہ

بکرے کے سینے کا گوشت کو، جسے پلے کہا جاتا ہے، کاٹ کر اس کا قیمہ بنایا جاتا ہے، اس میں آملہ بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اس کو ابال کر میتھی ڈال کر دیسی گھی میں تیار کیا جاتا ہے۔ 

رستہ

رستے ویسے تو بڑے ہوتے ہیں لیکن ہریسہ کے لیے چھوٹے بنائے جاتے ہیں۔ رستے بھی گوشت کوٹ کر بنائے جاتے ہیں۔

اس کا الگ سالن بنتا ہے۔ ہریسہ جب تیار ہوتا ہے تو یہ دونوں چیزیں اس میں  ڈالی جاتی ہیں، تینوں کا ذائقہ الگ الگ ہے۔ 

 

لالہ زار کا ہریسہ عمران خان کا منتظر ہے

غلام مصطفیٰ لالہ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر سابق وزیراعظم نواز شریف تک سب نے ہمارا ہریسہ کھایا اور پسند کیا ہے البتہ عمران خان ابھی تک ہمارا ہریسہ کھانے نہیں آئے۔‘ 

ہریسہ کا تحفہ

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہریسہ کھانے کے شوقین خود کھانے کے ساتھ اپنے گھر کے لیے پارسل لے جانا نہیں بھولتے۔ وہیں پاکستان میں رہنے والے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی ہریسہ کا تحفہ بھیجا جاتا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ ان کا ہریسہ لاہور اور کراچی تک سوغات کے طور پر بھیجا جاتا ہے۔ ہر ہفتے، اتوار 10 سے 15 کلو ہریسہ تحفہ بھیجنے کے لیے پارسل کروایا جاتا ہے۔ 

’میرے بعد ہریسہ نہیں بنے گا‘

غلام مصطفیٰ لالہ پریشان ہیں کہ لوگ کشمیری کھانے بنانے ترک کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق گھروں میں ہریسہ بنانے کا رواج بالکل ہی ختم ہو چکا ہے۔

’میں نے تو اپنے والد کے کام کو جاری رکھا لیکن اب مجھے نہیں لگتا کہ میرے بعد یہاں ہریسہ بنے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا