کے پی کے انتخابات کے نتائج بالکل بھی غیر متوقع نہیں

یہ ‎فیصلہ عمران خان نے خود کرنا ہے کہ وہ صرف امیدوار بدل کر میدان میں اترتے ہیں یا کارکردگی اور عوام کے معاشی حالات بہتر بنا کر۔

عمران خان جتنی جلدی اس تلخ حقیقت کو سمجھ لیں اتنا ان کی پارٹی کے مستقبل کے لیے بہتر ہوگا: عادل شاہ زیب(اے ایف پی فائل فوٹو)

صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں شکست نوشتہ دیوار تھا جسے وزیر اعظم عمران خان الیکشن سے پہلے نہ صرف پڑھنے میں ناکام رہے بلکہ شکست کی وجوہات کو سمجھنے سے بھی قاصر دکھائی رہے ہیں۔

ان انتخابات سے پانچ دن پہلے یعنیٰ 14‎ دسمبر کو لکھے گئے کالم میں تحریر کرچکا ہوں کہ ’خیبرپختونخوا کے 17 اضلاع میں پی ٹی آئی کی جیت کے امکانات انتہائی مخدوش ہیں کیونکہ نہ تو دیگر پارٹیوں کے برعکس پی ٹی آئی کی توانا ٹیم نظر آرہی ہے اور نہ ہی پی ٹی آئی کارکنان میں 2013 اور 2018 والا جذبہ دکھائی دے رہا ہے۔

اور اس کی بڑِی وجہ خراب معیشت، مہنگائی اور گورننس پر اٹھنے والے سوالات ہیں۔‘

‎عمران خان کے اپنے قریبی لوگ، جن میں کئی صوبائی وزرا بھی شامل ہیں، اپنی شکست کی ذمہ داری مہنگائی کو قرار دے رہے ہیں لیکن خود عمران خان نے ٹکٹوں کی غلط تقسیم اور موروثی سیاست پر سارا ملبہ گرا دیا۔ 

وزیراعظم شاید بھول چکے ہیں لیکن 2013 اور 2018 کے انتخابات میں ‎خیبر پختونخوا کے ووٹرز نے نہ تو ٹکٹوں کی غلط تقسیم دیکھی اور نہ ہی موروثی سیاست (پرویز خٹک کے گھر سے چھ سے سات لوگ 2018 میں پارلیمان پہنچے)۔ صرف بلا دیکھا اور اتنی تعداد میں اس پر ٹھپے لگائے کہ سیاسی پنڈت آج تک حیران ہیں۔

عمران خان جتنی جلدی اس تلخ حقیقت کو سمجھ لیں اتنا ان کی پارٹی کے مستقبل کے لیے بہتر ہو گا کہ خیبر پختونخوا کی وہ عوام جنہوں نے کندھوں پر بٹھا کر پی ٹی آئی کو اقتدار دلوایا ‎اب بلدیاتی انتخابات میں انہیں کاندھوں سے اتار چکی ہے۔

‎اور ایسا کرنے کی سب سے بڑی وجہ حکومتی کارکردگی، بیڈ گوررننس اور مہنگائی ہے۔

بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ‎ان انتخابات میں پیسے لے کر پارٹی ٹکٹ دینے کے سنگین الزامات نے پی ٹی آئِی کے کرپشن کے خلاف بیانیے کو بھی بیچ چوراہے پھوڑ دیا۔ خصوصاً جب الزامات اپنی ہی پارٹی کے لوگ لگا رہے ہیں۔

‎دلچسپ بات یہ ہے کہ پیسے لے کر ٹکٹ بیچنے کی خبروں سے عمران خان کو انتخابات سے پہلے ہی وفاقی کابینہ کےایک اہم رکن نے یہ کہہ کر آگاہ کیا تھا کہ ہمارا جیتنا بہت مشکل ہے۔

‎بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست شاید کچھ لوگوں کے لیے حیران کن ہو، لیکن الیکشن سے پہلے اور الیکشن والے دن  وہاں عوام کا موڈ دیکھنے کے بعد یہ نتائج میرے لیے بالکل بھی غیر متوقع نہیں تھے۔

‎ان انتخابات میں جے یو آئی ف کی غیر متوقع اچھی کارکردگی پر بھی  سوالات اٹھائے گئے۔ کچھ نے ان کی جیت کو افغانستان سے جوڑا تو کچھ نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معمالات طے پانے کے ساتھ۔

‎لیکن حقیقیت یہ ہے کہ عوام کا موڈ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف دینے کا تھا۔ جے یو آئی ف نے گذشتہ ساڑھے تین برسوں میں جتنی واضح اور کھل کر اپوزیشن کی اس سے پارٹی نے وہ ووٹ بینک اپنی طرف مائل کیا جو موجودہ ملکی حالات کا ذمہ دارعمران خان کے ساتھ ساتھ مقتدر حلقوں کو بھی سمجھتے ہیں۔

‎ساتھ ہی نواز شریف نے اپنی پارٹی کو ہدایت کی تھی کہ جہاں جہاں مولانا کے امیدوار مضبوط ہیں وہاں ن لیگ اپنے امیدواروں کو دست بردار کروا کر کھل کر ان کی حمایت کرے ‎اور ایسا ہوا بھی۔

‎عمران خان کے لیے پی ٹی آئی کا لاڑکانہ سمجھے جانے والے صوبے میں شکست کئی لحاظ سے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔

‎ایک تو ملک بھر میں تاثر بن چکا ہے کہ خیبر پختونخوا کی عوام نے پی ٹی آئی کی کارکردگی کا پورسٹ مارٹم کردیا۔

اور دوسرا بڑا نقصان یہ کہ وہ اپوزیشن جو کبھی مل کر تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں نہیں ہرا سکتی تھی اب الگ الگ لڑکر ان کو شکست دینے کے قابل ہو چکی ہے۔

‎تیسرا بڑا نقصان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کا کھل کر سامنے آنا اورساتھ ہی پیسوں پر ٹکٹ بیچنے کے الزامات کا صوبے میں زباں زد عام ہونا ہے۔

‎خان صاحب پارٹی کی تنظیمیں تحلیل کرچکے ہیں اور پرامید ہیں کہ جنوری میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پارٹی کامیابی حاصل کرے گی۔

لیکن وہ یہاں ایک دفعہ پھرغلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ پرویز خٹک خیبر پختونخوا میں اپنے تجربے سے تھوڑا بہت ‎ڈیمیج کنٹرول تو شاید کرلیں لیکن حکمران جماعت کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج اور مسلئہ بیڈ گورننس اور مہنگائی ہے۔

جب تک اس جانب توجہ دے کر بہتری نہ لائی جائے گی، ‎آپ جتنا بھی مضبوط اور توانا امیدوار میدان میں اتاریں عوام مطمئن نہیں ہو گی۔

اگر خان صاحب پیسوں پر ٹکٹ بیچنے کے الزامات پر خاموش رہے اور تحقیقات نہ کروائیں تو عوام میں یہ تاثر مزید جڑ پکڑے گا  کہ کرپشن کے خلاف نعرے لگا کر اقتدار میں آنے والی پارٹی تو اپنے انتخابی ٹکٹ پیسوں پر بیچ رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر پیسے لے کر ٹکٹ بیچ رہے ہیں تو حکومت میں کتنی کرپشن ہو رہی ہوگی؟

‎بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ایک ماہ سے کم وقت رہ گیا ہے۔ عمران خان نے پرویز خٹک جیسےتجربہ کار کھلاڑی کو میدان میں تو اتارا ہے لیکن پہلے مرحلے کی شکست کی غلط تشخیص کے ساتھ ۔

‎عمران خان وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھ کر پارٹی شکست کی تشخیص نہیں کر پا رہے اور نہ ہی ان کے قریبی لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں اصل زمینی حقائق سے آگاہ کیا جائے۔

ورنہ یہ اتنا آسان کام ہے کہ اپنے پسندیدہ چند صحافیوں کو بھجوا کرخیبر پختونخوا کے عوام کے اصل موڈ اور زمینی حقائق کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

‎پی ٹی آئی کے اپنے سینیئر اراکین بشمول کچھ وفاقی وزرا تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ پختونخوا میں تو پھر بھی پارٹی کی کارکردگی کچھ نہ کچھ نظر آگئی لیکن پنجاب اور کراچی میں  انتخابات ہوئےتو نتائج خیبرپختونخوا سے بھی بھیانک ہوں گے۔

سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ باتیں وہ وزیراعظم صاحب کے سامنے کیوں نہیں کر پا رہے (عین ممکن ہے وزیراعظم سب اچھا ہے ہی سننا چاہتے ہوں)۔

بہرحال یہ ‎فیصلہ عمران خان نے خود ہی کرنا کہ وہ صرف امیدوار بدل کر میدان میں اترتے ہیں یا کارکردگی اور عوام کے معاشی حالات بہتر بنا کر۔


نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ