ظالمو، نواز شریف آ رہا ہے؟

اچھا کریانہ سٹور وہی ہوتا ہے جہاں حسب ضرورت ہر شے دستیاب ہو۔ بیانیہ بھی، ’بیعانیہ‘ بھی۔ بات نہ بن رہی ہو تو بیانیہ، بات بننے لگے تو بیعانیہ۔

26 مارچ 2019 کو نواز شریف کے حامی لاہور میں  ان کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں (اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی آواز میں سننے کے لیے کلک کریں 

 

شرافت کی صحافت گھٹاؤں کی طرح جھوم جھوم کر اعلان کر رہی ہے کہ نواز شریف واپس تشریف لا رہے ہیں اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ عالی جناب ووٹ کو عزت دینے تشریف لا رہے ہیں یا پرانی تنخواہ پر کام کرنے؟ نیز یہ کہ اس تشریف آوری میں آقائے ولی نعمت اکیلے ہوں گے یا جہاز میں ساتھ والی نشست پر وہ مشہور زمانہ ’بیانیہ‘ بھی تشریف فرما ہوگا، جس کے سہرے لکھ لکھ کر وطن عزیز میں دانشور حضرات مجنوں ہوگئے تھے۔

نواز شریف کی سیاست وہ کوہ کنی ہے جس کے اختتام پرکوئی ندی، وادی یا چشمہ نہیں، صرف کریانہ سٹور ہوتا ہے۔ کھاتہ رجسٹر کے حساب سودو زیاں کا نام سیاسست ہے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے لطف و عنایات سے لے کر پلیٹ لیٹس کی عزیمت تک، ذات کے گنبد میں رکھے امکانات اور مفادات کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں۔ دستر خوان پر بیٹھ کر اہل قلم جس کے نام بیانیے کی تہمت دھرتے ہیں، وہ بیانیہ نہیں’ بیعانیہ‘ ہے۔ بیعانیہ کا حسن یہ ہے کہ یہاں خوب سودا نقد ہے، اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے۔ چنانچہ ’بیعانیہ‘ کے میمنہ میسرہ پر جو اہل فکر و دانش داد شجاعت دے رہے ہیں، ان میں بہت سارے وہ ہیں، بھلے وقتوں میں جنہوں نے’ خوب سودا نقد‘ لیا تھا۔

پاکستانی سیاست کا خلاصہ یہ ہے کہ سب مایا ہے۔ میاں صاحب کا مگر دعویٰ یہ ہے کہ وقت نے انہیں بدل دیا اور اب وہ سیاست دان نہیں، ایک مدبر ہیں۔ ان کی منزل محض حصول اقتدار نہیں، وہ جمہوری اقدار کے احیا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ماضی کے سارے کفارے وہ ادا کر چکے، اب ان کی منزل مقصود سیاست کو اسٹیبلشمنٹ کے تسلط سے آزاد کرنا ہے۔ ان کی واپسی کے تازہ شور میں سوال اب یہ ہے کہ وہ کھیل کے آداب بدلنے آ رہے ہیں یا ان کی یہ آمد بساط پر محض ایک متروک مہرے کا ظہور ہے۔

نواز شریف صاحب کی واپسی کی شان نزول کیا ہے؟ وہ سیاسی جدوجہد کرنے تشریف لا رہے ہیں یا کہیں کوئی ڈیل ہو چکی ہے؟

زمین پر کسی ڈیل کے شواہد ہیں نہ امکان البتہ مسلم لیگی قیادت کی بدن بولی میں جو وارفتگی ہے وہ بتا رہی ہے کہ قائد عزیمت سازگار ماحول کی یقین دہانی پر تشریف لا رہے ہیں۔ ایاز صادق فرماتے ہیں: ’میری مسکراہٹ سے اندازہ لگا لیں کہ کچھ ہونے والا ہے۔‘

معلوم نہیں مورخ کے نزدیک مونا لیزا کی مسکراہٹ زیادہ قیامت خیز ہوگی یا ایاز صادق صاحب کی، لیکن یہ طے ہے کہ عزیمت اور ن لیگ دریا کے دو کنارے ہیں۔

مشرف کا دور ہو یا عمران خان کا، مزاحمت نوازشریف صاحب کے بس کی بات نہیں۔ مشرف دور میں راتوں رات معافی نامہ دیا اور ملک چھوڑ دیا۔ عمران کے دور میں پلیٹ لیٹس کم ہوگئے اور پردیس چلے گئے۔ تب تحریک وکلا ان کے کام آئی، اب مولانا کے کارکنان مزاحمتی سیاست کا ایندھن بنے۔ میاں صاحب اپنے بیانیے سمیت بیرون ملک عافیتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس دورانیے میں کئی مقامات آہ و فغاں ایسے آئے جب نواز شریف صاحب نے دستک دے دے کر پوچھا کہ ’شاید مجھے نکال کر پچھتا رہے ہوں آپ؟‘

ان کے مزاحمتی بیانیے کی حقیقت بس اتنی سی تھی کہ میرے بغیر ن لیگ سے معاملہ نہیں ہو سکتا۔ ان کا کبھی بھی یہ معاملہ نہ تھا کہ معاملہ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ آرمی چیف کی توسیع کا مرحلہ آیا تو میاں صاحب نے اپنے بیانیے سمیت حکومتی قانون کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ اچھا کریانہ سٹور وہی ہوتا ہے جہاں حسب ضرورت ہر شے دستیاب ہو۔ بیانیہ بھی، ’بیعانیہ‘ بھی۔ بات نہ بن رہی ہو تو بیانیہ، بات بننے لگے تو بیعانیہ۔

سیاست کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرے لیے حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلم لیگی قیادت کی جانب سے کسی ممکنہ ڈیل کی نفی نہیں کی جا رہی۔ لیگی قیادت اپنی مسکراہٹ کے دیوان لکھ رہی ہے۔ گویا ڈیل کے کسی معمولی سے امکان سے بھی یہ اس قدر سرور میں ہے کہ سیاسی نیک نامی سے بے نیاز ہو چکی ہے۔ اسے احساس تک نہیں کہ کسی ممکنہ ڈیل کے تاثر کے ساتھ ہونے والی واپسی کی سیاسی قیمت کیا ہوگی۔ یہ زبان حال سے کہہ رہی ہے کہ سلیکٹڈ ہونا برا نہیں، بس سلیکشن ہماری ہونی چاہیے۔

ماضی کی سہانی یادیں جب ناسٹیلجیا بن جائیں تو ایسے ہی ہوتا ہے، لیکن فرض کریں کہ ملکی سیاست میں بساط سے ایک مہرہ ہٹا لیا جاتا ہے اور اس کی جگہ کوئی متروک مہرہ رکھ دیا جاتا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس عمل سے ووٹ کو کتنے کلو گرام عزت ملے گی؟

اہل سیاست اپنے اخلاقی وجود سے بے نیاز اور بے خبر ہیں۔ اب عالم یہ ہے کہ کسی کو کسی پر اخلاقی اعتبار سے کوئی برتری نہیں رہی۔ تازہ ڈیل کا تاثر، قطع نظر اس سے کہ یہ حقیقت ہے یا افواہ ، نہ صرف مسلم لیگ ن بلکہ سیاسی عمل کے لیے بھی تباہ کن ہو سکتا ہے۔ سیاست سے اپنے اپنے دائرے میں وابستگان کا رومان وابستہ رہے تو سیاست اپنے مقام پر رہتی ہے۔ یہ رومان دم توڑ دے تو پھر خلا پیدا ہوتا ہے اور خلا میں پھر یہ بیانیے گردش کرتے ہیں کہ جمہوریت تو ناکام ہوگئی، اب چینی ماڈل آئے یا کوئی نیا مقامی ماڈل تیار کیا جائے؟

--------

نوٹ: یہ کالم مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ