رفال کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان جے ٹین سی خرید رہا ہے؟

پاکستان سٹرٹیجک فورم کے مطابق یہ چینی ساختہ طیارے 23 مارچ کی پریڈ سے پہلے پاکستان کو سپرد کر دیے جائیں گے جو پاکستان ڈے کی پریڈ میں حصہ لیں گے۔

پہلی بار جے ٹین اے نے 2019 میں پاکستان ڈے پریڈ میں شرکت تھی اس وقت چھ طیاروں کو فارمیشن کو چینی ہواباز اڑا رہے تھے (اے ایف پی)

آج کل پاکستان کے عسکری فورمز میں خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان جے ایف 17 تھنڈر کے بلاک تھری کے ساتھ ساتھ پاک فضائیہ کے بیڑے میں جے ٹین سی لڑاکا طیارے بھی شامل کر رہا ہے۔

ایئر فورس کے ترجمان نے فی الحال اس حوالے سے کچھ بھی کہنے سے معذرت کی ہے کہ معاہدہ کس نوعیت کا ہے اور پہلی کھیپ کب پاکستان کو ملے گی، لیکن ملک کے طاقت ور وزیر شیخ رشید کے بیان نے دفاعی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے کہ جے ٹین سی پاکستان ڈے کی پریڈ میں شرکت کریں گے اور فضائی کرتب کا مظاہرہ کریں گے۔

یہاں پر غور طلب بات یہ ہے کہ وہ (شیخ رشید) کہہ رہے ہیں کہ رفال کے مقابلے میں پاکستان ایئر فورس جے ٹین سی اڑائے گی۔

پہلی بار جے ٹین اے نے 2019 میں پاکستان ڈے پریڈ میں شرکت تھی اس وقت چھ طیاروں کو فارمیشن کو چینی ہواباز اڑا رہے تھے۔ اس فارمیشن کا نام بائی ہے جو کہ چینی فضائیہ میں کرتب دکھاتی ہے۔ جب ان جہازوں نے اسلام آباد کی فضاؤں میں رنگ بکھیرے تو شائقین نے بہت داد دی۔

یہ چہ مگوئیاں 2019 سے ہی شروع ہو گئی تھیں کہ پاکستان جے ٹین طیارے ضرور خریدے گا۔ یہاں پر جو بات غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستانی ہواباز ہی اس بار جے ٹین سی کو اڑائیں گے۔ اس کا مطلب ہے معاہدہ ہو چکا ہے پہلی کھیپ فروری میں پاکستان کو مل جائے گی کیونکہ پریڈ مارچ میں ہے۔ دفاعی حلقے کہہ رہے ہیں کہ 36 جہاز آئیں گے جس میں 18 طیاروں پر مشتمل دو سکواڈرن ہوں گے۔

پاکستان سٹرٹیجک فورم کے مطابق یہ چینی ساختہ طیارے 23 مارچ کی پریڈ سے پہلے پاکستان کو سپرد کر دیے جائیں گے جو پاکستان ڈے کی پریڈ میں حصہ لیں گے۔ اس کا انجن چینی ساخت کا ہو گا۔ جے ٹین سی میڈیم ویٹ فائٹر کومبیٹ ایئر کرافٹ ہے اور سنگل انجن طیارہ ہے۔

جے ایف 17 تھنڈر اور جے ٹین سی کا تقابلی جائزہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دونوں طیارے الگ الگ بہترین خصوصیات کے مالک ہیں۔ انڈیا کے فرانسیسی ساخت کے رفال کے مقابلے میں جے ٹین سی کو لایا جا رہا ہے۔ جے ٹین سی اس وقت ایف 16 بلاک 70 72 کے ہم پلہ ہیں۔ پاکستان کے پاس جو ایف 16 ہیں ان کا تعلق بلاک 52 پلس سے ہیں۔

جے ٹین سی کے نام میں شاید ایف کا اضافہ کیا جائے کیونکہ پاکستان کے بیشتر طیاروں میں ایف آتا ہے۔ یہ 4.5 پلس پلس جنریشن طیارہ ہے۔ یہ چین کی ایئر فورس میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کا انجن چینی ساختہ ہے جس میں ڈبلیو ایس ٹین بی یا ڈبلیو ایس ٹین سی نصب ہو گا۔ اس کے ریڈار میں 1400ٹی آر ایم ہیں جبکہ رفال کے ریڈار آر بی ای ٹو میں یہ 1200 ہیں۔ اس میں فضا سے فضا، فضا سے زمین اور فضا سے سمندر میں ٹارگٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

جے 10 پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس چین کا حصہ 2004 میں بنا تھا اس کا نام جے ٹین اے تھا۔ جے ٹین کے مختلف ویریئنٹ ہیں جن میں جے 10 اے ، جے ٹین بی اور جے ٹین سی شامل ہیں۔ جے ٹین کو ویگرس ڈریگن بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کو ملنے والے طیاروں میں اے ای ایس اے ریڈار نصب ہوں گے۔

چین کے بعد پاکستان وہ دوسرا ملک ہو گا جو اس طیارے کو استعمال کرے گا۔ پاکستانی کے جے ٹین سی ہندوستان کے رفال کو ٹکر دیں گے۔ پہلے مرحلے میں دو سکواڈرن پاکستان آ رہے ہیں اس کے بعد دیگر جہاز بھی خریدے جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم جے ٹین سی چینی ساخت کا ہے اور رفال کے مقابلے میں کم قیمت ہے۔ پاکستان چین کی ٹیکنالوجی کو سمجھتا ہے اس لیے جے ٹین سی کو آپریشنل کرنے میں دقت پیش نہیں آئے گی۔

دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس میں جدید ترین ریڈار نظام نصب ہے وہ بہت جدید ریڈار ہے اور امریکی طیارے جے ایف 35 میں بالکل ایسا ریڈار نصب ہے۔ اس کے ساتھ اس میں پی ایل 15 میزائل نصب ہے اس کی رینج 200 کلومیٹر ہے۔ پی اے ایف کی فرسٹ شاٹ صلاحیت رفال کے برابر ہو جائے گی۔

رفال کے خلاف موثر دفاعی صلاحیت

ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ اکرام اللہ بھٹی کہتے ہیں کہ جے ٹین سی کے آنے سے پاکستان ایئر فورس کی قوت میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ ملٹی رول جہاز ہے جو تمام وہ کام کر سکتا ہے جو ایف 16 کرتا ہے اور یہ جے ایف 17 تھنڈر سے جدید ہے۔ اس میں ہتھیار لے کر جانے کی صلاحیت زیادہ ہے۔ اس میں پی ایل 15میزائل نصب ہے جو رفال کا مقابلہ کرے گا۔ اس کے آنے سے ہمیں رفال کے خلاف موثر دفاعی صلاحیت حاصل ہو جائے گی۔ ایئرفورس مزید بہتر پوزیشن میں آ جائے گی۔‘

اگر ہم رفال اور جے ٹین سی کا تقابلی جائزہ لیں تو رفال کی سپیڈ کی حد 1912 کلومیٹر ہے جبکہ جے ٹین سی کی رفتار کی حد 2400 کلومیٹر 2.2 ماک ہے۔ جے ٹین سی میں ایسا ریڈار لگا ہے جس میں 14 سو ٹرانسمیٹر ریسور موڈیول نصب ہیں جبکہ رفال کے ریڈار میں آر بی ای 2 میں 838 موڈیول ہیں۔

جے ٹین سی کا تھرسٹ لائٹ ہے جوکہ اس کو بہتر انجن پرفارمنس دیکھانے کا موقع دیتا ہے۔ جے ٹین سی کے ہتھیاروں میں پی ایل 15 اور رفال میں میٹ یور لگے ہیں۔ دونوں جہاز کروز میزائل سے لیس ہو سکتے ہیں۔

جے ٹین سی کی فیری رینج 3200 کلومیٹر ہے، جب کہ رفال کی رینج کی 3700 کلومیٹر ہے۔ جے ٹین کی سروس سیلنگ 18 ہزار میٹر ہے اور رفال کی سروس سیلنگ 15835 میٹر ہے لیکن مشین نہیں یہاں پر پائلٹ کی کارکردگی زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ ڈاگ فائٹ میں وہ ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے کرے گا۔

پاکستان جے ٹین سی جب یہاں لائے گا تو اس کی دیکھ بھال اپ گریڈیشن آسان ہو گی کیونکہ پہلے ہی چین اور پاکستان کے اشتراک سے بننے والا طیارہ جے ایف 17 تھنڈر کی صورت میں یہاں موجود ہے۔

بلاک تھری کو آج باقاعدہ پاک فضائیہ میں شامل کر دیا گیا اور پی اے سی جے ایف 17 سی کے آٹھ یونٹ کامرہ میں فضائی بیڑے میں شامل ہو گئے۔ فروری میں جے ٹین سی پاک فضائیہ کو موصول ہوں گے اور فورس کی استعداد کار میں اضافہ کر دیں گے۔

جے ٹین سی کی خصوصیات

 اس چینی ساختہ لڑاکا طیارے کی لمبائی 16.03 میٹر ہے۔

Length 16.03m

 ونگ سپین 9.25 میٹر۔

Wingspan 9.25 m

 اونچائی 17.10 انچ۔

Height 5.43m  17 ft 10 inch

ونگ ایریا 360 سکوائر فٹ۔

Wing Area 360 sq ft

 اس کا ایمپٹی ویٹ آٹھ ہزار 850 کے جی ہے اور گراس ویٹ دس ہزار 500 کے جی ہے۔

Empty weight 8850 kg

Gross weight 10500 kg

اس کے انجن 79.43 کے این ہے اور تھرسٹ 125 کے این ہے۔

Engine 79.43 Thrust 125 kn

کارکردگی 

اس کی رفتار 2.0 اور 2.2 ماک ہے۔

Speed is Mach 2.0 till 2.2

رینج 2250 کلومیڑ

Range 2250 km

 کومبیٹ رینج 1300 کلومیٹر،

Combat Range 1300 km

 سروس سیلنگ 56 ہزار فٹ۔

Service Ceiling

56000 ft

 ریٹ آف کلائم 59000 فٹ

Rate of Climb

59000 ft

 اور رول ریٹ 300 پلس ڈگری فی سیکنڈ ہے۔

Roll rate 300 plus per second

طیارے پر نصب میزائل

ایئر ٹو ایئر پی ایل ٹین ای ہائی آف بور سائٹ اور پی ایل 15 بی وی آر اور ایئر ٹو سرفیس میزائلز کے ڈی 88 اور وائے جے 91 اس پر نصب ہیں۔

PL-10 High off bore sight, PL-15 BBR

Air to Surface Missiles

KD-88 , YJ-91

 اس کے علاوہ دیگر میزائل بھی اس پر نصب ہوتے ہیں۔

لیزر گائیڈڈ بم ایل ٹی 2 ، گلائیڈ بم ایل ایس 6 ایس او ڈبلیو ، جی بی 3 ، جی بی 2 اے، جی بی 3 اے شامل ہیں۔

Bombs laser guided bombs LT-2

Glide bombs (LS-6, GB3, GB2A, GB3A)

سیٹلائٹ گائیڈڈ بمز میں ایف ٹی ون اور ان گائیڈڈ بمز میں 250 کے جی۔ 500 کے جی شامل ہیں۔

Satellite guided bombs

Ft-1 unguided bombs 250 kg 500 kg

 ایویانکس

 تو اس میں سی ایم 802اے کے جی ٹارگٹنگ پوڈ فار کے ڈی 88 اور وائی جے 91 کے لیے نصب ہے اس کے ساتھ کے جی 600 الیکٹرانک کاؤنٹرپوڈ بلیو سکائی نیوی گیشن، جیمنگ پوڈ کے جی 300، کے جی 600، کے جی 800 اور کے جی 900 اور اٹیک پوڈ شامل ہیں۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان