گوادر کی گلیوں میں عمان دور کی یادیں

1958 میں عمان کی ریاست سے الگ ہو کر پاکستان کا حصہ بننے والے ساحلی شہر گوادر میں تاریخی یادیں آج بھی موجود ہیں۔

1958 میں عمان کی ریاست سے الگ ہو کر پاکستان کا حصہ بننے والے ساحلی شہر گوادر میں عرب ثقافت کے نشان آج بھی موجود ہیں۔

عمانی دور سے گوادر میں رہنے والے داد کریم نے ماضی اور حال کے گوادر کا ایک خاکہ کھینچا۔

گوادر کی تاریخ

آٹھ ستمبر، 1958 کو پاکستان نے عمان سے گوادر انکلیو خریدا اور یوں گوادر باضابطہ طور پر پاکستان کا حصہ بنا۔

پاکستان کی حکومت نے یکم جولائی، 1977 کو گوادر کو ایک نو تشکیل شدہ ضلع گوادر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر کے طور پر اور 2011 میں بلوچستان کے سرمائی دارالحکومت کے طور پر صوبے میں شامل کیا۔

ہائی کورٹ آف بلوچستان کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق ضلع گوادر کی آبادی دو لاکھ 35 ہزار ہے اور یہ 15ہزار 210مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔

اس کی ساحلی پٹی تقریباً 600 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ ضلع گوادر چار تحصیلوں یعنی جیوانی، پسنی اور اورماڑہ پر مشتمل ہے۔

مسلم انسٹیٹیوٹ کی ریسرچ کے مطابق 1783 میں مسقط کے سلطان بن احمد نے خانِ آف قلات سے رابطہ کیا اور گوادر آنے میں دلچسپی ظاہر کی۔

خانِ آف قلات براہوی زبان بولنے والے حکمراں تھے، جن کی بلوچ خانیت یا حکمرانی 1512 سے 1955 تک بلوچستان کے جدید صوبے کے مرکز میں موجود تھی۔  

سلطان بن احمد کی گوادر میں دلچسپی ظاہر کرنے کے بعد خانِ آف قلات نے انہیں 1783 میں گوادر پر خودمختاری دے دی، لہذا سلطان بن احمد نے جب مسقط پر حکمرانی دوبارہ حاصل کی تو گوادر میں اپنی حکومت جاری رکھنے کے لیے وہاں ایک عرب نائب یا ایک والی مقرر کیا۔ اس طرح گوادر ایک عرصے تک عمان کا حصہ رہا۔

گوادر تزویراتی طور پر بحیرہ عرب کی شروعات اور خلیج فارس کے قریب واقع ہے۔

گوادر کا عمانی دور کیسا تھا؟

70 سالہ داد کریم گوادر کے علاقے کمہاڑی وارڈ کے رہائشی ہیں، جو ان کے مطابق گوادر کے سب سے پہلے علاقوں میں سے ایک ہے اور بندرگاہ کے بالکل نزدیک ہے۔ 

پیشے سے مچھیرے داد کریم نے بتایا کہ عمان کی ریاست کے دور میں ان کی عمر آٹھ سال تھی۔

’مجھے وہ زمانہ اچھی طرح یاد ہے۔ یہ بھی یاد ہے کہ یہ جگہ کیسی تھی۔ وہ عرب کا دور تھا اور ہم نے عمان کے والی ‏السيد ہلال بن حمد السمار البوسعيدی کو بھی دیکھا تھا۔

’ہمارے دادا اور پردادا نے سلطان قابوس بن سید کو ان کے بچپن میں اپنے کاندھوں پر بٹھایا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ بہت غربت اور تکلیف کا دور تھا۔ اس وقت انہیں کبھی روٹی ملتی تھی کبھی نہیں۔

’کبھی تو ہم صرف مچھلی اور کھجور کھا لیا کرتے تھے۔ جہازوں میں سامان ایک یا دو مہینے اس طرف آتا تھا۔ اکثر تو دو، دو تین، تین مہینوں تک جہاز نہیں آتا تھا۔

’عمان کے دور سے بسنے والے خاندانوں میں سے اب یہاں بہت کم لوگ رہ گئے ہیں۔ پرانے لوگوں میں سے اگر کوئی مل بھی جائے تو بس 10 سے 15 لوگ ملیں گے۔ باقی سب گز چکے ہیں اور وہ دور بالکل ختم ہوچکا۔‘

عمانی دور کے اور اب کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے داد کریم نے کہا کہ اس وقت کا موسم بہت گرم تھا، جب ہوا چلتی تھی تو لوگ سکون میں ہوتے تھے۔ اگر ہوا بند ہوتی تھی تو لوگ گرمی اور گھٹن برداشت کرتے تھے۔

’مگر اللہ کے فضل و کرم سے اب ہمارے گھر میں سولر پاور ہے اور اسی سے ہمارے گھر کی بجلی چلتی ہے۔ اب ہمارے پاس سب کچھ ہے۔

’اس وقت ہم صرف لالٹین جلایا کرتے تھے اور غربت کا یہ عالم تھا کہ کچھ غریب لوگوں کے پاس لالٹین بھی نہیں ہوا کرتی تھی، تو ہم کٹوری میں تیل ڈال کر اوراس میں ایک پٹی لگا کر اپنے گھروں میں چراغ جلایا کرتے تھے۔ یہ چراغ رکھنے کی جگہ شاہی بازار کی پرانی عمارتوں میں اب بھی موجود ہے۔‘

گوادر کے رورل کمیونٹی ڈویلپمنٹ کونسل (آر سی ڈی سی) کے صدر ناصر رحیم نے بتایا کہ گوادر میں 150 سے 200 سال قدیم شاہی بازار میں آج بھی دیواروں میں چراغوں کو رکھنے کی جگہ موجود ہے جنہیں روشنی کے لیے جلایا جاتا تھا۔

’اسی طرح بازاروں میں ہر 20 سے 25 قدم کے فاصلے پر ایک قطب(کھمبا) ہوا کرتا تھا۔ اس وقت کے والی ہمیشہ ایک شخص مقرر کرتے تھے جو رات کے وقت ان قطاب پر لالٹین لگاتا تھا تاکہ بازار میں روشنی رہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس وقت آمد و رفت کے اتنے ذرائع موجود نہیں تھے اور نہ ہی گوادر میں اتنی زرعی پیداوار تھی۔ اسی وجہ سے اشیا خورونوش بڑی ہی کم مقدار میں میسر ہوتی تھیں۔

’اس وقت مکران کی جانب سے آنے والی کھجور اور سمندر سے پکڑی جانے والی مچھلی ہی یہاں کی سب سے بڑی غذا تھی۔ بڑی مقدار میں چاول گندم یا شکر عمان سے لانچوں اور جہازوں میں آتے تھے۔‘

داد کریم نے ہمیں عمان کے زمانے میں بنائے جانے والے شاہی بازار اور شاہی قلعے کا دورہ کروایا۔

انہوں نے بتایا کہ عمان کا دور تو ختم ہوگیا لیکن اگر اس کے کچھ نشانات باقی ہیں تو وہ شاہی بازار میں ہیں جہاں پان، حلوائی اور کھجور کی دکانوں کے ساتھ چائے کی دکان بھی موجود تھی۔

’اس پورے بازار میں اب کوئی دکان نہیں سوائے ایک پان والے کے۔ یہ وہ واحد دکان ہے جو عمان کے زمانے سے اب تک اپنی جگہ پر موجود ہے اور چل رہی ہے۔

’اس دکان دار کے باپ دادا بھی پان کا کام کرتے تھے اور اب اس کا 80 سالہ مالک بھی یہی کام کرتا ہے۔ پورا بازار ختم ہوگیا لیکن یہ دکان آج بھی اپنی جگہ پر ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس وقت گوادر میں کئی رنگ و نسل اور مذاہب کے لوگ بستے تھے۔ یہاں اسماعیلی، ہندو اور مسیحی سب مل کر رہتے تھے۔ آغا خانیوں کا ایک بہت بڑا جماعت خانہ اس وقت سے آج تک یہاں موجود ہے۔

’یہاں شاہی قلعے کے علاوہ دو اور اونچے قلعے موجود تھے جن کی اس وقت بہت اہمیت تھی۔ اسی لیے تب زیادہ تر آبادی ان کے آس پاس ہی ہوا کرتی تھی۔

’یہ قلعے 200 سے 250 سال پرانے ہیں۔ جنگوں کے دوران انہیں پناہ گاہ  اور امن کے دوران جیلوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔‘

داد کریم نے شاہی قلعے کا دورہ کرواتے ہوئے مزید بتایا کہ یہ قلعہ عمان کے زمانے میں یہاں کی سب سے اونچی اور شاندار عمارت تھی۔ باقی مکان تو کچے ہوا کرتے تھے۔

’ہماری رہائش قلعے سے دور تھی مگر سمندر سے قریب تھی۔ اس وقت کے تمام اہم فیصلے یہاں ہوتے تھے۔ میرے والد عمان کے دور میں اس قلعے میں کئی بار جاچکے ہیں۔

’اس قلعے کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی دیواروں میںموجود چھوٹے چھوٹے سراخ دور بین کا کام کرتے تھے۔ قلعے کے اندر سے ہی سپاہی پورے علاقے پر نظر رکھتے تھے۔‘

ناصر رحیم کے مطابق قلعے کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ اس کی تعمیر ہونے سے پہلے ایرانی بلوچستان کے ایک لشکر نے پورے مکران پر حملہ کر دیا اور لوٹ مار کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’وہ گوادر کی جانب بڑھ رہے تھے اور حملہ کرنا چاہ رہے تھے۔ جب یہ اطلاع گوادر کے والی کو ملی تو انہوں نے عمان کی سرکار سے مدد مانگی۔

’اس کے بعد برطانوی نیوی کے دو جہاز گوادر کے مشرقی اور مغربی ساحل پر آکر کھڑے ہوگئے۔ لشکر والوں نے جب یہ دیکھا کہ گوادر میں مدد پہنچ چکی ہے تو انہوں نے حملہ نہیں کیا۔

’والی نے اس حملے کے بعد محسوس کیا کہ اس شہر میں ایک قلعے کی ضروت ہے جس کے بعد اس قلعے کو تعمیر کیا گیا۔‘

شاہی قلعے پر نصب ایک ماربل پر لکھی ہوئی تحریر کے مطابق ’پاکستان اور عمان کے درمیان دیرینہ تعلقات کی نشانی کے طور پر 2001 میں سلطان قابوس بن سعید کے احکامات پر اس کی مرمت کروا کے اسے واپس اصل شکل میں لایا گیا۔‘

20 مارچ، 2007 کو پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے اس کا باقاعدہ افتتاح کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا