جسٹس عائشہ ملک۔۔۔مسئلہ کیا ہے؟

اب یہ محض قانونی معاملہ نہیں رہا۔ اب یہ بار ایسوسی ایشنز سے لے کر سماج تک ہر جگہ زیر بحث ہے۔۔۔ سوال یہ ہے ہم کون سی روایات قائم کرنے جا رہے ہیں۔ معمول کی تعیناتی بھی ہمارے ہاں مسئلہ فیثا غورث بن جاتی ہے اور ہم صف آرا ہو جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت کا ایک منظر (فائل فوٹو: اے ایف پی)

جناب چیف جسٹس، جن کی ریٹائرمنٹ قریب آ چکی ہے، نے ایک بار پھر جسٹس عائشہ ملک کا نام سپریم کورٹ کے جج کے طور پر تجویز کیا ہے اور سپریم کورٹ بار، تمام ہائی کورٹ بارز، اسلام آباد بار کونسل، تمام صوبائی بار کونسلز اور پاکستان بار کونسل نے اس فیصلے کے خلاف چھ جنوری کو ہڑتال کی کال دے دی ہے۔

ایک طالب علم کے طور پر میرے پیش نظر دو بنیادی سوالات ہیں۔ اول: جسٹس عائشہ ملک سے بار ایسوسی ایشنز کو اتنا اختلاف کیا ہے؟ دوم: جناب چیف جسٹس کو جسٹس عائشہ ملک پر اتنا اصرار کیوں ہے؟

معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر دو اطراف کے دلائل کو پرکھا جائے، لیکن دلائل کو پرکھنے سے پہلے زمینی اور قانونی حقائق جان لینا بہت ضروری ہے۔ ان حقائق کا ایک خلاصہ میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔

1۔  الجہاد ٹرسٹ کیس میں یہ اصول طے ہو چکا ہے کہ ہائی کورٹ سے کسی جج کو سپریم کورٹ میں سنیارٹی اور اہلیت کی بنیاد پر تعینات کیا جائے گا۔ اس تعیناتی میں کسی کے پاس کوئی صوابدیدی اختیار نہیں ہے۔

2۔  جسٹس عائشہ ملک سنیارٹی کے اعتبار سے اس وقت ہائی کورٹ لاہور میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ ان سے سینیئر تین جج موجود ہیں۔

3۔  چوتھے نمبر پر بھی جسٹس عائشہ ملک اکیلی نہیں ہیں۔ ان کے علاوہ 24 جج ایسے ہیں جو بطور جج ہائی کورٹ پانچ سال کا تجربہ رکھتے ہیں اور قابلیت اور سنیارٹی کے لحاظ سے عائشہ ملک کے برابر ہیں۔

4۔ جسٹس عائشہ ملک صاحبہ کا نام پہلے بھی سپریم کورٹ کے لیے تجویز کیا گیا لیکن جوڈیشل کمیشن میں ان کے حق میں فیصلہ نہ ہو سکا۔

5۔  اب جب جناب چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ انتہائی قریب آن پہنچی ہے، انہوں نے جسٹس عائشہ ملک کا نام ایک بار پھر تجویز کر دیا ہے اور پاکستان کی وکلا برادری نے اس فیصلے کے شان نزول پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر اس فیصلے کے خلاف ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

ان حقائق سے آگہی کے بعد اب آئیے ان سوالات کی طرف جو اس تنازعے سے پیدا ہو رہے ہیں ۔ پہلے ان دو سوالات کو دیکھتے ہیں، جن کا مخاطب وکلا برادری ہے۔

1۔ پہلا سوال یہ ہے کہ الجہاد ٹرسٹ میں جو اصول طے پایا تھا کیا وہ اب پہلی بار پامال ہونے جا رہا ہے جو وکلا برادری احتجاج کر رہی ہے؟ کیا یہی اصول جناب افتخار چوہدری کے دور میں بھی پامال نہیں ہو چکا جب لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف صاحب کو سینیئر ہونے کے باوجود سپریم کورٹ میں لانے کی بجائے لاہور ہائی کورٹ میں ہی رکھا گیا۔

ایسا کرنے کی بہت سی گفتہ اور ناگفتہ وجوہات ہیں جن کی بازگشت سے بار کیفے آج تک گونج رہے ہیں لیکن یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ موضوع یہ ہے کہ افتخار چوہدری کے دور میں یہی اصول پامال ہوا تو وکلا برادری خاموش کیوں رہی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ جب الجہاد ٹرسٹ میں طے کردہ اصول کو افتخار چوہدری صاحب کے دور میں پامال کیا گیا اور تمام بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنز ’جانثار‘ بنی رہیں تو کیا یہ اس بات کا اعلان نہیں تھا کہ عملاً اب الجہاد ٹرسٹ کیس میں طے کردہ اصول ساقط ہو چکا ہے اور اس نکتے پر بینچ اور بار کا اتفاق ہے کہ سنیارٹی کوئی ایسی چیز نہیں جو کسی کی تعیناتی کی راہ میں حائل ہو سکے؟

جب تک وکلا قیادت ان دو سوالات پر ہماری رہنمائی کرتی ہے تب تک آئیے معاملے کے دیگر پہلوؤں پربات کرتے ہیں۔ جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کے حق میں جو دلائل اب تک سامنے آئے ہیں اور اعلیٰ سطح پر آئے ہیں، ان کے مطالعے سے کچھ اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ آئیے اب ان دلائل  پر غور کرتے ہیں۔

1۔  پہلی دلیل یہ ہے کہ محض سنیارٹی کافی نہیں ہوتی۔ اہلیت بھی ضروری ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر معاملہ اہلیت کا ہے تو جسٹس صاحبہ سے سینیئر تین ججوں کی اہلیت کو کیا ہوا؟ کیا ان کے خلاف ریکارڈ پر ایسی کوئی چیز موجود ہے، جو ان کی اہلیت کو مشکوک کرے یا اس پر سوال اٹھائے؟ نیز یہ کہ پانچ سال تجربہ رکھنے والے باقی کے 24 کے قریب ججز کی اہلیت میں کیا مسئلہ ہے اور عائشہ ملک ہی کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ اس سوال کا اگر کہیں سے جواب آ جائے تو معاملہ واضح ہو سکتا ہے اور سلجھ بھی سکتا ہے۔

2۔ جناب جسٹس عمر عطا بندیال، جو عنقریب چیف جسٹس بننے والے ہیں، کا یہ موقف اخبارات میں رپورٹ ہو چکا ہے کہ جسٹس عائشہ ملک آزاد منش جج ہیں، اس لیے بار ایسوسی ایشن ان کی مخالفت کر رہی ہے۔ اس اعتراض کا جواب بار ایسوسی ایشن ہی کو دینا چاہیے البتہ اس سے ایک ضمنی سوال یہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جو تین جج محترمہ عائشہ ملک صاحبہ سے سینیئر ہیں، کیا وہ آزاد منش نہیں ہیں؟

3۔  ایک دلیل یہ دی گئی کہ سپریم کورٹ میں عورت جج کے آنے سے تاریخ رقم ہو رہی ہے، اس لیے تاریخ رقم ہونے کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ سوال اب یہ ہے کہ محض تاریخ رقم کرنے کے لیے طے شدہ قاعدے کو پامال کیا جا سکتا ہے اور کیا کسی کو محض خاتون ہونے کی بنیاد پر تین سینیئرز پر ترجیح دی جا سکتی ہے؟

آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 میں طے کر دیا گیا ہے کہ جنس کی بنیاد پر کسی سے امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ قریب یہی اصول آرٹیکل 27 میں بھی طے کیا گیا ہے، تو کیا اب تین ججز کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا جائے کہ وہ عورت نہیں ہیں اور ان کے سپریم کورٹ میں آنے سے تاریخ رقم نہیں ہو سکتی؟

کوئی محترم خاتون سپریم کورٹ کی جج بنیں تو یہ بلاشبہ ایک خوشی کی بات ہو گی لیکن قانون اور ضابطے کی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ اب اگر کوئی گنجائش نکالنا مقصود ہے تو اس کی صورت یہی ہو سکتی ہے کہ متعلقہ قانون اور ضابطے کو باقاعدہ طور پر پارلیمان یا عدالت کے ذریعے تبدیل کر دیا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر قانون کے مطابق ہی چلنا چاہیے کیونکہ قانون کی عملداری سے بھی ایک تاریخ رقم ہو رہی ہوتی ہے۔

جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں، پچھلی بار جب یہ مسئلہ زیر بحث آیا تو اس کے حق میں جو دلائل دیے جا سکتے تھے، دے دیے گئے اور ان دلائل کے رد میں جو کچھ کہا جاسکتا تھا کہہ دیا گیا۔ اب دوبارہ یہی مسئلہ سامنے آیا ہے تو سوالات کی معنویت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اب یہ محض قانونی معاملہ نہیں رہا۔ اب یہ بار ایسوسی ایشنز سے لے کر سماج تک ہر جگہ زیر بحث ہے۔ معاشرہ حیلوں سے نہیں، اپنی اعلیٰ روایات سے سرخرو ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے ہم کون سی روایات قائم کرنے جا رہے ہیں۔ معمول کی تعیناتی بھی ہمارے ہاں مسئلہ فیثا غورث بن جاتی ہے اور ہم صف آرا ہو جاتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ