2022 میں خوش کیسے رہا جا سکتا ہے؟

اگر آپ سال کا آغاز اس انداز میں کرنا چاہتے ہیں جسے آپ مستقبل میں بھی جاری رکھنا چاہیں تو ابھی بھی وقت ہے کہ اس سوچ کو تبدیل کیا جائے اور آنے والے مہینوں میں خوشی حاصل کی جائے۔

2016  میں کنگز کالج لندن کے ایک علیحدہ مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ مثبت سوچ، خاص طور پر تصور اور خود سے پُر امید گفتگو، منفی خیالات اور پریشانی کے احساسات کو کم کر سکتی ہے (فوٹو: پکسابے)

نیا سال شروع ہو چکا ہے اور چیزیں تھوڑی سی دھندلی محسوس ہو رہی ہیں۔ ہم وبا کو ختم ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، تاہم کووڈ 19 کے اومیکرون ویرینٹ اور موسم سرما کے لامتناہی سرمئی آسمانوں نے مل کر ایک اداسی تخلیق کی ہے جو2022 کا بہترین آغاز بالکل نہیں ہے۔

لیکن اگر آپ سال کا آغاز اس انداز میں کرنا چاہتے ہیں جسے آپ مستقبل میں بھی جاری رکھنا چاہیں تو ابھی بھی وقت ہے کہ اس سوچ کو تبدیل کیا جائے اور آنے والے مہینوں میں خوشی حاصل کی جائے۔

دنیا ختم ہو جانے جیسے خیالات کو چھوڑنے اور ان کی جگہ مثبت خیالات لانے کے لیے صرف چند ہفتے درکار ہیں۔

سوفی کلف عرف دی جوائے فُل کوچ نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ مثبت نفسیات کے شعبے میں کئی دہائیوں کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مثبت ذہنیت رکھنے سے ہماری جسمانی صحت بہتر ہو سکتی ہے۔ جذباتی، جسمانی اور ذہنی تھکن سے بچا جا سکتا ہے، ملازمت میں کامیابی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں اور یہاں تک کہ ہماری زندگیوں میں کئی سال کا اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

ایک دہائی تک والٹ ڈزنی اور ہال مارک کارڈز جیسی کمپنیوں میں سیلز اور مارکیٹنگ میں کام کرنے کے بعد کلف نے تین سال قبل مثبت نفسیات کے شعبے میں دوبارہ تربیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اب جوائے فُل کوچ کی حیثیت سے وہ لوگوں کو زیادہ ’خوشگوار‘ زندگی گزارنے میں مدد کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میں اس بات پر ایمان رکھتی ہوں کہ حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ممکنہ طور پر ہمارے موجودہ ماحول کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ مثبت ذہنیت رکھنے سے لچک اور ’باؤنس بیک ایبلٹی‘ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تناؤ اور زندگی کی مشکلات سے بہتر طریقے سے نمٹ سکتے ہیں۔‘

تو ایک مثبت شخص ہونے کا کیا مطلب ہے؟ اگرچہ ہم میں سے کچھ لوگوں کو یقین ہے کہ ہم قدرتی طور پر منفی یا مثبت سوچ رکھتے ہیں، کلف کا کہنا ہے کہ امید پرستی اور مایوسی شخصیت کی متعین خصوصیات نہیں ہیں۔

وہ بتاتی ہیں: ’اگر ہم زیادہ پر امید ہونا چاہیں تو ہم سب میں یہ صلاحیت موجود ہے۔ میں اپنے کوچنگ کلائنٹس کے ساتھ ایک مشق کرنا پسند کرتی ہوں جو یہ ہے کہ میں ان سے کہوں کہ وہ کسی دی گئی صورت حال کو مایوس کن اور پرامید دونوں انداز سے دیکھیں اور اس پر غور کریں جس سے وہ بہتر محسوس کرتے ہیں یا زیادہ مثبت نتائج کا باعث بنتے ہیں۔ اکثر پُرامیدی کی عینک سے انہیں روشن پہلو  دیکھنے میں مدد ملتی ہے۔‘

جو لوگ زیادہ پرامید ہوتے ہیں وہ اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے حیرت انگیز کام بھی کرسکتے ہیں۔ 2005 میں سائیکالوجیکل بلیٹن میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں دو لاکھ75 ہزار سے زائد افراد کے مطالعات کا جائزہ لیا گیا اور پتہ چلا کہ خوشگوار ذہنیت رکھنے والے لوگوں میں تمباکو نوشی کا امکان کم ہوتا ہے۔

2016  میں کنگز کالج لندن کے ایک علیحدہ مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ مثبت سوچ، خاص طور پر تصور اور خود سے پُر امید گفتگو، منفی خیالات اور پریشانی کے احساسات کو کم کر سکتی ہے۔

ہم اپنے مایوس کن ذہن کو پرامید کیسے بنا سکتے ہیں؟

جب سے یہ وبا تقریباً دو سال قبل برطانیہ پہنچی ہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے بہت سی چیزیں ہمارے اختیار سے باہر ہیں، یہی وجہ ہے کہ کلف مشورہ دیتی ہیں کہ ہمیں اس بات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ ہمارے اختیار میں کیا ہے، ، بجائے اس کے کہ ہم کیا نہیں کر سکتے۔

کلف کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ بہت کچھ غیر یقینی ہے جس سے ہم مغلوب یا پست محسوس کر سکتے ہیں لیکن اس بات پر توجہ مرکوز کرنا کہ ہم کیا کنٹرول کر سکتے ہیں اور زندگی میں ہم جن حالات کا بھی سامنا کرتے ہیں اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے سے ہمیں خود مختاری کا کچھ احساس ہوتا ہے۔

’میں نے اپنے کلائنٹس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، ان میں اپنی گھروں میں مہم جوئی تلاش کرنا، نئی قسموں کے کھانے پکانا سیکھنا یا ورک فرام ہوم کو زیادہ سے زیادہ آرام دہ بنانا شامل ہیں۔‘

کلف اپنے کلائنٹس کو ایک اور مشورہ بھی دیتی ہیں وہ جو کچھ کر رہے ہیں اور انہیں جو مل رہا ہے، حالات کے باوجود اس کا کچھ کریڈٹ خود کو دیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میں ہمیشہ اپنے کلائنٹس کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں کہ وہ ہفتے کے آخر میں ایک ’مکمل فہرست‘ لکھیں- یہ آسان لگتا ہے، لیکن ہم نے جو کچھ بھی حاصل کیا ہے اسے لکھنے میں پانچ منٹ لگانے سے ہمیں زیادہ مثبت ذہنیت پیدا کرنے اور اعتماد پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔‘

اگرچہ یہ وبا ہمارا ایک بڑا اجتماعی مسئلہ ہے اور یہ بہت آسان ہے کہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی ہماری پرامید ذہنیت میں رکاوٹ بن جائیں، یہی وجہ ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے کلف کسی ایسی چیز کا استعمال کرنے کا مشورہ دیتی ہیں جسے 'کوگنیٹیو ری فریمنگ' (ادراک کی ازسرنو تشکیل) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک تکنیک ہے جو اکثر ادراک کے طرز عمل کی تھراپی (سی بی ٹی) میں استعمال کی جاتی ہے۔

کلف وضاحت کرتی ہیں کہ ’اس کا مقصد ایسی صورت حال یا تجربہ کرنا ہے جو ہمیں پریشان کر رہا ہو اور اسے زیادہ مثبت اور شکر گزار عینک کے ذریعے دیکھنے کی کوشش کریں، لہذا ’مجھے گھر سے کام کرنا ہے‘ کہنے کے بجائے آپ اسے ’مجھے گھر سے کام کرنے کے لیے مل رہا ہے‘ کہہ سکتے ہیں، جس سے خود بخود یہ ایک زیادہ دعوت کی طرح محسوس ہوتا ہے۔‘

’میں نے یہ پچھلے سال استعمال کیا تھا جب ایک پائپ پھٹنے سے میرے باغ میں پانی بھر گیا تھا۔ بجائے اس کے کہ میں ٹریڈز پیپل نامی ویب سائٹ اور مرمت کرنے والے لوگوں سے رابطہ کرنے کی جھنجھلاہٹ میں پڑتی، میں نے یہ یاد کرنے کی کوشش کی کہ چند سال پہلے میں اپنے ذاتی باغ کے لیے کتنی بے چین تھی اور میں کتنی خوش قسمت تھی کہ یہ سب سے بڑی پریشانی تھی جس سے مجھے نمٹنا پڑا۔‘

اگرچہ ضروری نہیں کہ اپنی صورتحال کو تبدیل کرنے سے موجودہ حالات یا ان کے نتائج تبدیل ہو جاتے ہیں، یہ ہمیں مثبت رہنے حتیٰ کہ لچک پیدا کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ جب دیگر چیلنجز پیدا ہوتے ہیں تو ہم زیادہ تیزی سے رد عمل دے سکتے ہیں۔

خوشی تلاش کرنے اور مثبت رہنے کے لیے کچھ عادات یا تجاویز کیا ہیں؟

کرونا وبا کے دوران ہم میں سے بہت سارے لوگوں نے میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال اور منفی تاثر رکھنے والی خبروں پر توجہ دینے کی عادت اپنا لی ہے، لیکن ہم جو مواد اور میڈیا استعمال کر رہے ہیں اس سے آگاہ ہونا اچھا ہے۔

 اپنے فون پر گھنٹوں گزارنے یا نیٹ فلکس پر مزید کیا دیکھنا ہے اس کا فیصلہ کرنے کے بجائے، کلف حوصلہ افزا پوڈ کاسٹ سننے، خوشگوار اختتام والی کتابیں پڑھنے اور قناعت کی مشق کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ بتاتی ہیں کہ’مثبت نقطہ نظر بنانے کے لیے شاید سب سے زیادہ متاثر کن عادت قناعت پسندی پر باقاعدگی سے عمل کرنا ہے۔ یہ تھوڑا سا بے معنی لگ سکتا ہے، لیکن تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ قناعت پسند لوگ سب سے زیادہ خوش و خرم رہتے ہیں۔ آپ ہر شام ان چیزوں کی فہرست بنا سکتے ہیں جن کے آپ اس دن شکر گزار ہیں، یا کسی ایسے شخص کا دلی شکریہ کہنے کی مشق کرسکتے ہیں، جس نے آپ کی مدد کی ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ لمحے کی شکرگزاری کے لیے چند سیکنڈ نکالنے سے بھی فرق پڑ سکتا ہے۔‘

اگر آپ افسردہ محسوس کر رہے ہیں اور خوشی تلاش کرنا چاہتے ہیں تو کلف کا ’بہترین‘ مشورہ یہ ہے کہ دنوں اور ہفتوں کے دوران آپ اس پر توجہ مرکوز کریں کہ کیا اچھا لگتا ہے اور کیا نہیں۔

کلف کا کہنا ہے کہ ’یہ آسان لگتا ہے، لیکن اکثر ہم زندگی کی دوڑ میں اتنے مصروف ہوتے ہیں یا اپنے ساتھیوں کی برابری کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم اصل میں نہیں جانتے کہ ہمیں کس چیز سے خوشی ملے گی، یا ہم ان چیزوں کو نظر انداز کرتے ہیں جو ہمیں خرابی کے متعلق بتاتی ہیں۔ ہر چیز کو بہتر بنائے بغیر صرف وہ کرنےسے جو ہمیں خوشی دے، ہم اپنی زندگی میں خوشیاں بھر سکتے ہیں۔‘

’میں پڑھنے والوں کو بھی دعوت دوں گی کہ وہ ہفتے میں ایک دن اپنے آپ کو ایک ایسا کام کرنے کا چیلنج پیش کریں جو خوشی دیتا ہے۔ یہ کام چھوٹا ہوسکتا ہے۔ دھوپ میں دس منٹ کی چہل قدمی یا اپنے آپ کو پسندیدہ چاکلیٹ دینا، لیکن خوشی سے انہیں یہ دیکھنے میں مدد ملے گی کہ وہ مثبت جذبات کتنے طاقتور ہوسکتے ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین