قومی سلامتی پالیسی: ’پاکستان بھارت سے بہتر تعلقات کا خواہاں‘

پاکستان نے قومی سلامتی پالیسی کا عوامی ورژن پیش کر دیا۔ اس دستاویز میں بھارت سے متعلق کیا ہے؟

قومی سلامتی پالیسی کی دستاویز میں لفظ بھارت 12 مرتبہ آیا ہے (تصویر وزیر اعظم ہاؤس/ٹوئٹر)

حکومت پاکستان نے منظوری کے بعد قومی سلامتی پالیسی کا عوامی ورژن جاری کر دیا ہے۔ پالیسی میں بھارت سے متعلق پاکستانی موقف میں کوئی واضح تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ 

پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی کا عوامی ورژن سرورق سمیت 62 صفحات پر مشتمل ہے جس میں لفظ انڈیا یا بھارت 12 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ جس میں سے 11 مرتبہ منفی جبکہ صرف ایک مرتبہ مثبت انداز میں اس حوالے سے بات کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ قومی سلامتی پالیسی کی منظوری گذشتہ سال دسمبر کے آخر میں پہلے نیشنل سکیورٹی کمیٹی اور پھر کابینہ نے دی تھی، جس کے بعد قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا تھا کہ اس پالیسی کا کچھ حصہ عوام کے لیے بھی جاری کیا جائے گا۔

بھارت سے متعلق تمام نکات جو قومی سلامتی پالیسی کے عوامی ورژن میں موجود ہیں درج ذیل ہیں: 

  1. ’مغربی سرحد سے مواصلاتی رابطہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے تاکہ خطے اور افغانستان میں امن قائم کیا جا سکے۔ یہ اور بھی اہم ہے کیوں کہ بھارت کے جارحانہ عزائم نے اس مقصد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔‘
  2. ’سرحدی تنازعات کے حل کے لیے خصوصی توجہ درکار ہے۔ خاص کر لائن آف کنٹرول اور ان مستقل سرحدی علاقوں پر جہاں بھارت کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزی نے عوام کی جان اور مال سمیت خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔‘
  3. ’بھارت کے ایٹمی عزائم اور اس پر مبہم بیانات سمیت خطرناک ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے۔‘
  4. ’مشرق کی جانب دو طرفہ تعلقات میں خرابی مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر اور بھارت کی خود کو برتر ثابت کرنے کی سوچ کا شاخصانہ ہے۔ پاکستان اپنے پڑوسیوں سے برابری کی سطح پر تعلقات استوار کرنے کے لیے رضا مند ہے جس میں خود مختاری کا احترام اور مشترکہ اقتصادی فوائد کا خیال رکھا جائے۔‘
  5. ’جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ اور پرامن تصفیہ پاکستان کے لیے اہم سلامتی امور میں سے ایک ہے۔ بھارت کی جانب سے اگست 2019 میں لیے گئے یکطرفہ اقدامات کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام نے مسترد کر دیا ہے۔‘
  6. ’بھارت کشمیری حریت کی تحریک کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹا پراپیگنڈا کرتا رہتا ہے۔‘
  7. ’پاکستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر امن کی پالیسی کے تحت بھارت سے تعلقات میں بہتری کا خواہاں ہے۔‘
  8. ’ہاکستان میں ہندتوا طرز سیاست میں اضافہ قابل تشویش ہے اور پاکستان کی سلامتی پر براہ راست اثرانداز ہو رہا ہے۔‘
  9. ’بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کی طرف جارحیت کو سیاسی عزائم کے لیے استعمال کرنے کی روش نے مشرق میں فوجی مہم جوئی اور میزائلوں کے ذریعے جنگ کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔‘
  10. ’بھارت کی جانب سے تمام تصفیہ طلب مسائل پر یکطرفہ فیصلہ لاگو کرنے کی روش سے خطے میں امن اور سلامتی کو دیر پا خطرات درپیش ہیں۔‘  
  11. ’بھارت پاکستان سے متعلق غلط خبریں پھیلانے میں مسلسل ملوث ہے۔ پاکستان تمام مسائل کا حل مذاکرات سے نکالنے پر یقین رکھتا ہے تاہم بھارت کے حالیہ اقدامات اس جانب بڑھنے میں نمایاں رکاوٹ ہیں۔‘

پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی پر ماہرین کی رائے  

قائد اعظم یونیورسٹی میں ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹیڈیز ڈپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمہ ملک کہتی ہیں کہ قومی سلامتی پالیسی کے عوامی ورژن میں بنیادی سلامتی امور کو اجاگر کیا گیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سلمہ ملک نے کہا کہ ’یہ بات اہم ہے کہ سلامتی پالیسی کے لیے معیشت کو بنیاد بنایا گیا ہے اور سلامتی امور کے مشیر نے واضح کیا ہے کہ جب معیشت مضبوط ہو گی تب ہی دفاع مضبوط ہو گا۔‘

’اس پالیسی کی تیاری میں چھ سو سے زائد نوجوان طلبہ سے بھی رائے لی گئی جو کہ اس پالیسی کو مستقبل کے مطابق ڈھالنے میں معاون ہو گی۔ اس کے علاوہ صنف (جینڈر) اور سلامتی کے باہمی تعلق کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔‘ 

بھارت سے متعلق سوال پر ڈاکٹر سلمہ ملک کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی سات سال کی محنت کے بعد متفقہ طور پر مرتب کی گئی ہے۔ ’ہو سکتا ہے اس لیے بھارت سے متعلق روایتی موقف میں تبدیلی نہ کی گئی ہو کہ کہیں تاثر غلط نہ جائے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’عمومی طور پر پالیسی کی ایگزیکٹیو سمری اور مکمل پالیسی میں مماثلت ہوتی ہے لیکن بھارت سے متعلق روایتی موقف کوئی حتمی بات نہیں۔ ہو سکتا ہے مستقبل میں اس کے اندر تبدیلی واقع ہو جائے۔‘ 

نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز میں انٹرنیشنل ریلیشن ڈیپارٹمنٹ میں استاد قمر چیمہ سے بھی قومی سلامتی پالیسی کے عوامی ورژن سے متعلق رائے لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے 75 سال بعد قومی سلامتی پالیسی بنائی ہے جس میں دیکھا جائے تو پاکستان روایتی سلامتی کو غیر روایتی سلامتی سے تبدیل کرنا چاہتا ہے۔‘

’اس میں خوراک، آبادی، روزگار سمیت دیگر غیر روایتی سکیورٹی امور پر بھی بات ہو رہی ہے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس پر تمام اداروں کا اتفاق ہے۔‘ 

قمر چیمہ نے کہا کہ ’بھارت کے حوالے سے پاکستان کے اداروں اور عوام کی ذہنیت کا ایک مخصوص انداز ہے۔ اگر کوئی بھی بات اس مخصوص انداز سے ہٹ کر کی جائے تو یہ عوامی رائے سے ہٹ کر ہو گی۔‘

دفاعی تجزیہ کار اور پاک فوج کے سابق جنرل امجد شعیب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ماضی میں ہر سول اور عسکری ادارہ اپنے طور پر مستقبل کی ایک پالیسی بنا کر رکھتا تھا، مگر وہ صرف اپنے ادارے تک کے لیے مخصوص ہوتی تھی اور اس میں قومی سطح کی ہدایات شامل نہیں تھیں۔‘

’پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی میں قومی سطح پر ایک سمت کا تعین کر دیا گیا ہے۔ اب ہر ادارے کو علم ہو گا کہ پالیسی ترتیب دیتے ہوئے کن نکات کا خیال رکھنا ہے۔‘ 

بھارت سے متعلق قومی سلامتی پالیسی میں اختیار کیے گئے موقف پر جنرل ریٹائر امجد شعیب نے کہا کہ ’پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ جنگ میں پہل نہیں ہوگی۔ تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ اب قومی مفادات پر سمجھوتہ کر کے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جائے گا۔‘

’بہتر تعلقات دو طرفہ ہوتے ہیں۔ اتنے سالوں میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ جو روش اختیار کیے رکھی اس کے بعد یہ امید رکھنا کہ ہم ہر قیمت پر دوستی چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہو سکتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان