یہودی بچوں پر تھوکنے کے الزام میں امریکی خاتون پر مقدمہ

پولیس کے مطابق خاتون نے بچوں سے کہا: ’ہٹلر کو تم سب کو قتل کردینا چاہیے تھا۔ میں تمہیں مار ڈالوں گی اور جانتی ہوں کہ تم کہاں رہتے ہو۔‘

نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ  نے اعلان کیا ہے کہ شہر نیویارک کے علاقے بروکلن کی 21 سالہ کرسٹینا ڈارلنگ نامی خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے(تصویر:این وائی پی ڈی ٹوئٹر ہینڈل)

امریکی ریاست نیویارک میں ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر یہودی بچوں پر ایک گھناؤنا حملہ کرتے ہوئے انہیں دھمکیاں دیں اور ان پر تھوک دیا۔

نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (این وائے پی ڈی) نے کہا کہ نیویارک کے علاقے بروکلن کی رہائشی 21 سالہ کرسٹینا ڈارلنگ کو جن الزامات کا سامنا ہے، ان میں نفرت انگیز جرائم کا اس طرح ارتکاب بھی شامل ہے، جو 17 سال سے کم عمربچوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

نیویارک پولیس نے واقعے کی نگرانی کی ویڈیو جاری کی ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ واقعہ جمعے کو بروکلن میں ایک یہودی عبادت گاہ کے باہر پیش آیا۔

ویڈیو (جس میں آواز شامل نہیں ہے) میں دکھایا گیا ہے کہ خاتون تینوں بچوں کے پاس جاتی ہیں، ان سے غصے میں بات کرتی ہیں اور پھر تھوکتی دکھائی دے دیتی ہیں۔

نیویارک ڈیلی نیوز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون نے کہا: ’ہٹلر کو تم سب کو قتل کردینا چاہیے تھا۔ میں تمہیں مار ڈالوں گی اور جانتی ہوں کہ تم کہاں رہتے ہو۔‘

اس کے بعد وہ پیچھے مڑتی ہیں اور واپس چلی جاتی ہیں۔ کیمرے میں ان شکل کا مکمل اور واضح ریکارڈ موجود ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ 20 کے پیٹے کی ایک خاتون ہیں، جن کا قد تقریباً پانچ فٹ تین انچ ہے اور ان کے بال لمبے سیاہ ہیں۔ ویڈیو میں انہوں نے نارنجی رنگ کا سوئٹر، سیاہ پاجامہ اور گہرے یوگ ٹائپ بوٹ پہنے ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے آٹھ سالہ یہودی لڑکے پر تھوکا اور وہ ’سنگین ہراسانی‘ کے الزام میں مطلوب ہیں۔ پولیس نے خاتون کی تلاش میں عوام سے مدد کی اپیل بھی کی۔

اس سے قبل این وائی پی ڈی نے بدھ کو ٹویٹ کیا تھا: ’کیا آپ اس خاتون کوجانتے ہیں؟‘

ٹویٹ میں کہا گیا کہ ’14 جنوری کو تقریباً 12 بجکر 35 منٹ پر بروکلن میں 4017 ایونیو پی کے سامنے مشتبہ خاتون نے ایک آٹھ سالہ بچے اور دو دیگر بچوں کے پاس جا کر یہود مخالف بیانات دیے اور پھر ان پر تھوک دیا۔‘

حالیہ برسوں میں امریکہ میں یہود دشمنی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2020 میں اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (اے ڈی ایل) نے امریکہ میں یہودیوں کے خلاف توڑ پھوڑ، ہراساں کرنے اور حملے کے 2024 واقعات ریکارڈ کیے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے ڈی ایل کا کہنا ہے کہ 2019 کے بعد اس میں معمولی کمی واقع ہوئی جو خود ایک ریکارڈ توڑ سال تھا لیکن 1979 کے بعد 2020 تاریخ کا تیسرا بدترین سال تھا۔

لیگ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا: ’2020 میں یہود دشمنی کے واقعات کی دستاویزات کے آڈٹ سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ میں یہود دشمنی کی سطح بلند ہے، جن کے لیے پورے معاشرے کے مجموعی ردعمل کی ضرورت ہے۔‘

’جب کسی ایک فرد کو نفرت انگیز جرم کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس سے پوری برادری کو تکلیف پہنچتی ہے اور لوگ خود کو کمزور اور خوفزدہ محسوس کرتے ہیں۔‘

اے ڈی ایل ہر اس شخص پر زور دیتی ہے کہ جو یہودی دشمن حملے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے یا مشاہدہ کر رہا ہے کہ وہ ادارے کے حادثہ فارم کے ذریعے اس کی اطلاع دے۔

دریں اثنا این وائی پی ڈی نے کہا کہ جو بھی شخص بروکلن میں ہونے والے مذکورہ واقعے کے بارے میں معلومات رکھتا ہو وہ ٹوئٹر پر [email protected] کو پیغام بھیجے یا 800577 پر کال کرے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ