انس حقانی کو ناروے کیوں آنے دیا؟ حقوق انسانی کے کارکنوں کا احتجاج

ناروے کے دارالحکومت میں متعدد صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے انس حقانی کے خلاف مقامی پولیس میں شکایت درج کرائی ہے اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان کے نمائندے انس حقانی 24 جنوری 2022 کو ناروے کے شہر اوسلو میں بین الاقوامی خصوصی نمائندوں اور طالبان کے کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ طالبان کا ایک وفد ناروے کے حکام اور افغان سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے اوسلو کا دورہ کر رہا ہے جس کی توجہ افغانستان کی انسانی بحران اور انسانی حقوق پر مرکوز ہے (اے ایف پی)

طالبان کے ناروے کے دورے پر آئے وفد میں حقانی نیٹ ورک کے ایک سینیئر رکن اور اس گروپ کے سربراہ سراج الدین حقانی کے بھائی انس حقانی کی موجودگی سے متعلق شکایات اور تنقید بڑھ گئی ہے۔

ناروے کے دارالحکومت میں متعدد صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے انس حقانی کے خلاف مقامی پولیس میں شکایت درج کرائی ہے اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

ناروے کے وزیر اعظم جونس گار سٹور نے اتوار (24 جنوری) کو تنقید کے جواب میں اخبار ڈگ بلیڈیٹ کو بتایا، ’مجھے پہلے سے معلوم نہیں تھا کہ انس حقانی طالبان کے وفد کا رکن تھا۔ جب وہ اوسلو آئے تو میں نے میڈیا میں ان کے خطوط دیکھے۔‘

اوسلو کے دورے پر گئے طالبان 15 رکنی وفد میں انس حقانی کی موجودگی پر ناروے کے متعدد ذرائع ابلاغ اور صحافیوں نے برہمی کا اظہار کیا اور طالبان بالخصوص انس حقانی کو مدعو کرنے پر وزارت خارجہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ناروے کے میڈیا اور صحافیوں نے جنوری 2008 میں کابل کے سرینا ہوٹل پر حقانی نیٹ ورک کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں ناروے کا ایک صحافی مارا گیا تھا انس حقانی کی ملک میں موجودگی پر تنقید کی ہے۔

کارسٹن تھوماسن، ناروے کے ایک صحافی جو ڈاگ بلیڈیٹ اخبار کے لیے کام کرتے تھے اور جنوری 2008 میں اس وقت کے ناروے کے وزیر خارجہ جونس گار سٹور کے ہمراہ دورے کی کوریج کے لیے کابل گئے تھے۔ وہ وسطی کابل میں سرینا ہوٹل پر حقانی نیٹ ورک کے حملے کے دوران مارے گئے تھے۔

جونس گار سٹور، جو اب ناروے کے وزیراعظم ہیں، اس حملے میں زخمی نہیں ہوئے تھے۔ ناروے میں حقانی نیٹ ورک کے ایک سینیئر رکن کی موجودگی کی وجہ سے اب وہ عوام اور میڈیا کی طرف سے بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔

ناروے کے میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ حقانی نیٹ ورک نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور یہ کہ حقانی نیٹ ورک کے رہنما اور طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اس حملے کو منظم کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

جان ایرک سملڈن، اخبار ڈگ بلیڈیٹ کے سابق نامہ نگار اور تھامسن قریبی دوست نے ناروے کے ایک ٹیلی ویژن کو بتایا کہ کارسٹن کے دوست اور ساتھی کے طور پر میں اس لیے ردعمل ظاہر کر رہا ہوں کیونکہ میرے خیال میں انس حقانی کا طالبان کے وفد کے ایک حصے کے طور پر ناروے آنا بہت خوفناک ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ حیران کن ہے کہ ناروے کی وزارت خارجہ نے طالبان کے ارکان کی فہرست کا کتنی احتیاط سے جائزہ لیا ہے۔‘

انس حقانی کے خلاف مہم شروع کرنے والے ناروے میں مقیم افغان صحافی ظاہر اطہری نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’جو لوگ افغانستان میں جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں انہیں صرف یورپی ممالک یا کسی اور جگہ کا سفر نہیں کرنا چاہیے۔ طالبان کے اوسلو کے دورے میں ناروے کی وزارت خارجہ کی کارکردگی پر کافی تنقید ہوئی ہے، لیکن خاص طور پر انس حقانی کی موجودگی نے بہت زیادہ بدامنی اور احتجاج کیا ہے۔‘

انس نے ایک ٹویٹ میں اوسلو مذاکرات پر معلومات بھی شیئر کیں۔ 

ظاہر اطہری نے کہا کہ حقانی کے خلاف متعدد شکایات کا دائر کرنا افغانستان میں ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناروے کے وزیر خارجہ اور وزیر اعظم پر بہت زیادہ عوامی دباؤ ہے اور ناروے کا میڈیا اس بارے میں مسلسل رپورٹنگ کر رہا ہے۔

انسانی حقوق کے متعدد کارکنوں نے اوسلو کے دورے کے دوران طالبان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی اور گروپ کے وفد کے سربراہ کے خلاف ناروے کے محکمہ پولیس میں شکایت بھی درج کرائی ہے اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن احسان غنی نے ناروے کی پولیس کو ایک خط میں متقی کے بارے میں شکایت کرتے ہوئے لکھا: ’مولوی امیر خان متقی، قائم مقام طالبان کے وزیر خارجہ کی قانونی ذمہ داری ہے۔‘

اس خط کے مصنفین نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر اپنی تحریر کو وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی سلسلے میں شامل نہیں کیا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ متقی سابق افغان حکومت کے خاتمے سے قبل اور اسلامی جمہوریہ افغانستان اور اس کے بین الاقوامی اتحادیوں کے خلاف طالبان کی مسلح جدوجہد کے دوران اہم فیصلہ سازی اور انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

احسان غنی کے مطابق خط میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دفتر کی درخواست کو ایک معتبر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں طالبان پر ایک درجن سے زائد جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی قیادت کی کونسل، جس میں متقی ایک اہم رکن ہیں، تمام معاملات میں گروپ کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ تھا، جس میں طالبان کی جنگی حکمت عملی کے ڈیزائن اور اس پر عمل درآمد اور اس کے نفاذ کی نگرانی بھی شامل ہے۔ احسان غنی کے مطابق یہ خط اشارہ کرتا ہے کہ طالبان کے خلاف قانونی جنگ جاری ہے۔

انس حقانی اور مولوی امیر خان متقی کے خلاف شکایات درج کرانے کے علاوہ اوسلو میں مظاہرین ناروے کی وزارت خارجہ کی عمارت اور اس ہوٹل کے سامنے جہاں طالبان کی رہائش گاہ ہے، طالبان کی موجودگی کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ ممالک طالبان کو تسلیم کرنے سے انکار کریں، جنگی مجرموں پر مقدمہ چلایا جائے، افغانستان میں لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم اور روزگار کے حقوق فراہم کریں اور طالبان کے ہاتھوں اغوا کی گئی خواتین کو رہا کیا جائے۔

اوسلو سربراہی اجلاس منگل 25 جنوری تک جاری رہے گا اور طالبان کا وفد جس میں مغربی ممالک کے نمائندے بھی شامل ہیں، بشمول افغانستان کے لیے امریکی خصوصی ایلچی، اقتصادی بحران سے نمٹنے، ایک جامع حکومت کی تشکیل اور انسانی حقوق جیسے اہم امور پر بات چیت کریں گے۔

انس حقانی یا امیر خان متقی کی جانب سے اس تنقید پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ناروے جانے والے افغان وفد کے رکن شفیع اعظم نے میڈیا کو بتایا کہ ناروے اجلاس کی فضا مثبت رہی۔ فریقین کے درمیان خواتین کی تعلیم، بینک سیکٹر اور دیگر موضوعات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہت سی کامیابیوں کے ساتھ لوٹیں گے۔

نوٹ: یہ تحریر اس سے قبل انڈپینڈنٹ فارسی پر شائع ہوچکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا