امریکہ کی متحدہ عرب امارات کے لیے سفری وارننگ

امریکی محکمہ خارجہ نے میزائل یا ڈرون حملوں کے خطرے کے پیش نظر اپنے شہریوں کو متحدہ عرب امارات کا سفر نہ کرنے کی وارننگ جاری کی ہے۔

متحدہ عرب امارات سے تربیت یافتہ جائنٹس بریگیڈ کے یمنی جنگجو، 26 جنوری 2022 کو مارب کے مضافات میں جعفرا گاؤں کے قریب ایک پوزیشن پر کھڑے ہیں۔ گذشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات پر ایک مہلک ڈرون اور میزائل حملہ کیا گیا (تصویر: اے ایف پی)

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کو میزائل یا ڈرون حملوں کے خطرے کے پیش نظر اپنے شہریوں کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا سفر نہ کرنے کی وارننگ جاری کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی دفتر خارجہ نے اپنی تازہ ترین ٹریول ایڈوائزری میں متحدہ عرب امارات کے لیے اعلیٰ ترین سطح کی وارننگ برقرار رکھی ہے جس میں امریکیوں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ کووڈ-19 کے خطرے کے پیش نظر ملک کا سفر نہ کریں۔

امریکہ نے پیر کو یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے اہداف پر میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان واقعات کو تنازعہ میں ’پریشان کن اضافہ‘ قرار دیا۔

ایک سینئر اماراتی عہدیدار نے جمعرات کو کہا کہ یمنی باغیوں کے حملے متحدہ عرب امارات کے لیے ’نیا معمول‘ نہیں بنیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حوثی باغیوں نے رواں ماہ متحدہ عرب امارات پر دو میزائل حملے کیے تھے جن میں 17 جنوری کو ہونے والے پہلے حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ’متحدہ عرب امارات کے لیے یہ کوئی نیا معمول نہیں ہوگا۔‘

عہدےدار نے مزید کہا کہ’ ہمیں حوثی دہشت گردی کا خطرہ قبول نہیں جو ہمارے لوگوں اور طرز زندگی کو نشانہ بناتا ہے۔‘

پیر کے روز ابوظہبی نے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا تھا۔

یہ حملہ ابوظہبی پر ڈرون اور میزائل حملے میں تین افراد کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد کیا گیا- یہ متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر پہلا مہلک حملہ تھا جس کا دعویٰ حوثیوں نے کیا تھا۔

جمعرات کو عہدےدار نے کہا کہ’متحدہ عرب امارات 200 سے زائد قومیتوں کا گھر ہونے کے ناطے اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک رہے ہیں اور حالیہ حملوں نے ہمارے باشندوں کی فلاح و بہبود کے تحفظ کے ہمارے عزم کو مزید پختہ کیا ہے۔‘

یمن کے باغیوں نے اکثر سعودی عرب کو نشانہ بنایا ہے جس میں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں اور تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں سمیت بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد میں امارات کا اہم کردار رہا ہے جو حوثیوں کے خلاف یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا حمایتی ہے۔

2019 میں متحدہ عرب امارات نے یمن سے اپنی فوجیں واپس بلا لی تھیں لیکن وہ پھر بھی خطے میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

باغیوں نے متحدہ عرب امارات پر مزید حملوں سے متعلق خبردار کیا ہے، جو امریکی فوجیوں کا میزبان، امریکی اتحادی اور دنیا میں اسلحے کے سب سے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے۔

عہدےدار نے کہا کہ:’متحدہ عرب امارات میں عالمی معیار کی دفاعی صلاحیتیں موجود ہیں اور وہ مسلسل انہیں اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

’سالانہ اپ گریڈز کے علاوہ متحدہ عرب امارات اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر قومی سلامتی کو لاحق خطرات کو روکنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید نظام اور ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا