ابوظہبی حملہ: ’حوثی باغیوں نے پانچ بچوں کا واحد سہارا چھین لیا‘

معمور کا تعلق خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے گاؤں ایسوڑی سے تھا اور ائیر پورٹ میں آئل ٹینکر کی کمپنی میں بطور ٹرک ڈرائیور کام کرتے تھے۔

معمور داوڑابو ظہبی میں ایئر پورٹ پر آئل ٹینکر کی کمپنی میں بطور ٹرک ڈرائیور کام کرتے تھے(تصویر بشکریہ اہل خانہ)

’ایک سال سے زائد ہو گیا تھا کہ کرونا کے باعث پروازیں بند ہونے کی وجہ سے وہ گھر نہیں آئے اور ابھی چند دنوں میں آنے کا ارادہ تھا لیکن حوثی باغیوں نے پانچ بچوں کا واحد سہارا ان سے چھین لیا۔‘

یہ کہنا تھا متحدہ عرب امارات کے ایئر پورٹ پر حملے کے دوران مارے جانے والے معمور داوڑ کے بھائی نسیم داوڑ کا، جو اپنے بھائی کے چلے جانے پر صدمے میں تھے اور ان کو یقین نہیں آ رہا کہ ان کے بھائی کے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔

نسيم نے بتایا کہ ان کے بھائی مزدوری کی غرص سے گذشتہ 20 سالوں سے ابوظہبی میں تھے اور گھر کے اخراجات اٹھاتے تھے۔

’ایک ہفتہ پہلے ان کے ساتھ بات ہوئی تو وہ کہہ رہے تھے کہ گھر آنے کا منصوبہ بنا رہا ہوں اور اپنے بچوں کو بھی یاد کر رہا ہوں۔‘

معمور داوڑ گذشتہ دنوں متحدہ عرب امارات میں حوثی باغیوں کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

معمور کا تعلق خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے گاؤں ایسوڑی سے تھا اور وہ ایئر پورٹ میں آئل ٹینکر کی کمپنی میں بطور ٹرک ڈرائیور کام کرتے تھے۔

ان کی نماز جنازہ جمعرات کو اپنے آبائی گاؤں میں ادا کر دی گئی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثی باغیوں نے ابوظہبی ایئر پورٹ پر تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنایا تھا جس میں ایک پاکستانی اور دو بھارتی ہلاک ہو گئے تھے۔

نسيم نے بتایا کہ معمور کے پانچ بچے ہیں اور تمام سکول میں پڑھتے ہیں لیکن والد کے جانے کے بعد اب وہ بچوں کے اخراجات کے لیے فکر مند ہیں۔

’بچوں کی تمام تر ذمہ داری اب ہم پر ہے اور ہم ان کا والد کی طرح خیال رکھیں گے لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ حکومت کو ان کے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری لینی چاہیے۔‘

نسیم سے جب پوچھا گیا کہ کیا متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے کچھ تفصیلات شیئر کی گئیں کہ معمور دوران حملہ کہاں پر تھے، تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں صرف یہ بتایا گیا کہ وہ ڈیوٹی پر تھے کہ حملے کے زد میں آگئے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معمور کے چچا زاد بھائی نظام اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ معمور نرم مزاج اور ہنس مکھ انسان تھے اور مہینے میں ایک دو بار ان کے ساتھ فون پر بات ہوتی تھی۔

’کبھی کبھی دیار غیر میں رہ کر مزدوری کرنے کا گلہ بھی کرتے لیکن مجبوری کی وجہ سے دل پر پتھر رکھ کر وہاں مزدوری کر کے گھر کا چولہا جلاتے تھے کیونکہ مزدوری کے سوا ان کا کوئی چارا نہیں تھا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان