ابوظہبی دھماکے: ایک پاکستانی دو بھارتی ہلاک، حوثیوں نے ذمہ داری قبول کر لی

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ مزید معلومات کے لیے مقامی حکام سے رابطے میں ہے۔ عرب پارلیمنٹ، اردن اور بحرین کی دھماکوں کی مذمت۔

17 جنوری، 2022 کو ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے باہر کھڑے چند افراد (تصویر: اے ایف پی)

متحدہ عرب امارات کے سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کے سٹوریج ٹینک کے قریب سوموار کو آگ لگنے کے بعد تین پٹرولیم ٹینکرز دھماکے سے پھٹ گئے۔

ان دھماکوں میں ایک پاکستانی اور دو بھارتی شہری ہلاک ہوئے۔ وام کے مطابق تین ہلاکتوں کے علاوہ چھ افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ دھماکے محمد بن زید سٹی کے قریب ICAD 3، مصفح کے علاقے میں ہوئے۔ 

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسے متحدہ عرب امارات کے حکام کے ذریعے ہلاکتوں اور زخمیوں کا معلوم ہوا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق ’ابوظہبی پولیس نے ابوظہبی میں ہمارے سفارت خانے کو اس واقعے میں ایک پاکستانی کی موت کے بارے میں مطلع کر دیا۔‘

بیان کے مطابق سفارت خانہ اس سلسلے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے مقامی حکام سے قریبی رابطے میں ہے۔

عرب پارلیمنٹ، اردن اور بحرین نے ان دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مقامی پولیس نے تصدیق کی کہ آگ صبح کے وقت لگی، جس سے تین پٹرولیم ٹینکرز میں دھماکے ہوئے۔

ابوظہبی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب نئے تعمیراتی علاقے میں بھی ایک جگہ پر مختصر پیمانے پر آتشزدگی کی اطلاع ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یمن کی ایران سے منسلک حوثی تحریک نے پیر کو حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

یمن کی حوثی تحریک کے فوجی ترجمان کے مطابق اس عسکری گروہ نے ’متحدہ عرب امارات میں گہرائی تک‘ ایک فوجی آپریشن شروع کیا ہے اور آنے والے گھنٹوں میں اس کی تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ اتحادی افواج نے حال ہی میں یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑائی میں شمولیت اختیار کی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے 2019 میں یمن میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑے پیمانے پر کم کر دیا تھا لیکن یمنی افواج کے ذریعے اسے مسلح اور تربیت دی گئی ہے۔

ایمرجنسی سروسز کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ 

متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ممکنہ طور پر ڈرون نما کوئی چیز ان علاقوں میں گری جس کے بعد آگ لگ گئی۔

العربیہ کے نامہ نگار نے بتایا کہ دونوں مقامات پر آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور فضائی ٹریفک متاثر نہیں ہوئی ہے۔ دھماکوں سے کسی خاص مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

یواے ای نے 2015 میں عرب اتحاد کے حصے کے طور پر یمن کی خانہ جنگی میں حصہ لیا تھا۔ اس نے2019 میں اپنی کارروائیوں کو کم کردیا تھا۔ اس کے ایک مال بردارجہاز روابی کو حوثی ملیشیا نے یکم جنوری کی رات اغوا کر لیا تھا۔

عرب اتحاد کے مطابق یہ جہاز یمن کے جزیرے السقطری سے سعودی عرب کی بندرگاہ جازان کی طرف جا رہا تھا۔ اس میں جزیرے میں قائم کیے گئے ایک فیلڈ ہسپتال کا طبی سامان لدا ہوا تھا جبکہ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جہاز میں فوجی سازوسامان تھا۔

جہاز میں سات بھارتی ملاح، ایتھوپیا، انڈونیشیا، فلپائن اور میانمار سے تعلق رکھنے والا ایک، ایک سیلر سوار تھے۔

یمن کی جنگ

یمن کی سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے پیر کو بھی مارب صوبے کے جنوبی محاذوں پر زمینی پیش قدمی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے مارب کے جنوب میں ام ریش عسکری کیمپ میں حوثی ملیشیا کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔

گذشتہ گھنٹوں کے دوران میں سرکاری افواج حریب ضلع میں وسیع رقبہ آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئی۔

العربیہ اردو کے مطابق دوسری جانب مسلح افواج کے میڈیا مرکز کے ذرائع نے بتایا کہ سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے آج صبح کئی محاذوں سے ایک وسیع حملہ کیا۔

اس کے دوران میں نئی علاقے اور ٹھکانے حوثی ملیشیا کے قبضے سے آزاد کرا لیے گئے۔ لڑائی کے نتیجے میں درجنوں حوثی ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں چار عسکری گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے ایران نواز ملیشیا کی عسکری کمک اور سواریوں کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ حملوں میں حوثیوں کا بھاری جانی و مادی نقصان ہوا۔

یاد رہے کہ العمالقہ بریگیڈز اور سرکاری فوج نے گذشتہ دنوں کے دوران میں شبوہ اور مارب دونوں صوبوں میں کئی کامیابیاں حاصل کی تھیں۔

شبوہ صوبہ پوری طرح آزاد کرایا جا چکا ہے جب کہ مارب میں لڑائی اور پیش قدمی کا سلسلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ مارب شہر میں اس وقت 30 لاکھ کے قریب لوگ رہ رہے ہیں۔ ان میں تقریبا 10 لاکھ وہ افراد ہیں جو یمن کے دیگر علاقوں سے فرار ہو کر یہاں پہنچے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا