یکساں قومی نصاب: ’مجوزہ تبدیلیوں کو فوری شامل کرنا ممکن نہیں‘

واحد قومی نصاب کی تیاری کے ذمہ دار ادارے نیشنل کریکولم کونسل کی سربراہ ڈاکٹر مریم چغتائی کے مطابق چھٹی سے آٹھویں جماعتوں کا نصاب تیار ہو چکا ہے، جسے رواں سال اگست سے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں پڑھایا جائے گا۔

چار مارچ 2020 کو راولپنڈی میں دو طالب علم سڑک پر کتابوں کا مطالعہ کرتے جا رہے ہیں (اے ایف پی)

نیشنل کریکولم کونسل کے مطابق پاکستان میں چھٹی سے آٹھویں جماعت کے لیے یکساں قومی نصاب (سنگل نیشنل کریکولم) پالیسی کے تحت سلیبس اس سال متعارف کروایا جا رہا ہے جبکہ چھوٹی کلاسوں کا تبدیل شدہ کورس 2023 میں نافذ ہو سکے گا۔

یکساں قومی نصاب کی تیاری کے ذمہ دار ادارے نیشنل کریکولم کونسل کی سربراہ ڈاکٹر مریم چغتائی کے مطابق چھٹی سے آٹھویں جماعتوں کا نصاب تیار ہو چکا ہے، جسے رواں سال اگست سے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں پڑھایا جائے گا۔

نیشنل کریکولم کونسل کے پنجاب سے رکن پیٹر جیکب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پہلی سے پانچویں جماعت کے نصاب پر اٹھائے گئے اعتراضات کے جائزے اور تبدیلی کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’ترمیم شدہ کتابیں رواں سال مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہو سکیں گی، بلکہ ایسا 2023-2024 کے تعلیمی سال کے لیے ہی ممکن ہو سکے گا۔‘

یاد رہے کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے ملک میں ’ایک قوم، ایک نصاب‘ کی سوچ کے تحت ملک کے تعلیمی اداروں میں یکساں سلیبس متعارف کروانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

اس سلسلے میں گذشتہ سال اگست میں پہلی سے چھٹی جماعت کے لیے یکساں قومی نصاب وفاقی دارالحکومت، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے علاوہ مذہبی مدارس میں بھی متعارف کروایا گیا تھا۔

دوسری جانب صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے واحد قومی نصاب کے نفاذ سے انکار کر دیا تھا۔

یکساں قومی نصاب کے تحت سات مضامین بشمول انگریزی، ریاضی، اسلامیات، اردو، سماجی علوم اور سائنس وغیرہ کے لیے نئے کورسز ترتیب دیے گئے ہیں۔

چھوٹی کلاسوں کے لیے تیار کیے گئے نصاب پر زندگی کے مختلف شعبوں کی طرف سے اعتراضات اٹھائے گئے تھے، جن میں تعلیمی معیار کے علاوہ مذہبی اقلیتوں اور خواتین کی عکاسی پر تنقید کی گئی تھی۔

چیئرمین قومی نصاب کونسل ڈاکٹر مریم چغتائی نے چند ہفتے قبل سینیٹ کی ایک قائمہ کمیٹی میں بتایا تھا کہ مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی روشنی میں چھوٹی جماعتوں کے لیے تیار کیے گئے نصاب کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

قومی نصاب کونسل کے اسلام آباد میں ایک سینیئر اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں تصدیق کی کہ چھوٹی جماعتوں کے نصاب کے جائزے اور ضروری تبدیلیوں کا کام مکمل ہو چکا ہے اور یہ سب کچھ ایک رپورٹ کی شکل میں موجود ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ فوری طور پر مجوزہ تبدیلیوں کو کتابوں میں شامل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ سال لاکھوں کتابیں چھپی تھیں، جن میں سے بڑی تعداد ابھی مارکیٹ میں موجود ہے اور تبدیلی کی صورت میں یہ کتابیں ضائع ہو جائیں گی۔‘

کونسل کے سینیئر اہلکار کا کہنا تھا کہ ’نصاب میں تبدیلی پر زور دینے سے پبلیشرز کا بہت بڑا سرمایہ ضائع ہو جائے گا، جو ایک نئے تنازعے کے جنم کا سبب بھی بن سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’قومی نصاب کونسل کی پوری کوشش ہے کہ چھوٹی جماعتوں کے نصاب میں تجویز کی گئی تبدیلیوں کو کتابوں میں جلد از جلد شامل کر دیا جائے اور ایسا اگست 2023 تک ہو جائے گا۔‘

پیٹر جیکب کا مزید کہنا تھا کہ تبدیل شدہ نصاب پر مشتمل کتابوں کا اس سال مارکیٹ میں آنا ممکن نہیں ہے۔ ’اب پہلی سے چھٹی جماعت کو تبدیل شدہ نصاب 2023-2024 کے سیشن میں ہی پڑھایا جا سکے گا۔‘  

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بھی چھوٹی جماعتوں کے لیے تبدیل شدہ نصاب کا 2023 سے پڑھائے جانے کا عندیہ دیا تھا۔

چند روز قبل شیعہ مسلک کے علما نے بھی چھوٹی جماعتوں کے لیے تیار کیے گئے اسلامیات کے نصاب پر اعتراضات اٹھائے تھے، جنہیں کونسل کے سینیئر اہلکار نے رد کرتے ہوئے کہا کہ کئی ایک شکوے محض غلط فہمیوں پر مشتمل ہیں۔

’چھوٹی جماعتوں کی اسلامیات میں کئی مقامات پر حضرت علی اور دوسری مقدس شخصیات کا ذکر موجود ہے، ایسے میں یہ اعتراضات مناسب نہیں ہیں۔‘

چھٹی سے آٹھویں جماعت کے نصاب کی بات کرتے ہوئے کونسل کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ یہ نصاب صوبوں کو بھیجا جا رہا ہے، جو اپنی سطح پر منظوری کے بعد کتابوں کی اشاعت کی اجازت دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قومی نصاب کونسل کا اگلا ہدف نویں سے 12ویں جماعت تک کے نصاب کی تیاری ہے جس پر کام شروع ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نصاب کی تیاری کے ساتھ قومی نصاب کونسل اساتذہ کو تربیت دینے پر بھی توجہ دے رہی ہے، جس کا آغاز ہو چکا ہے، اور صرف پنجاب میں تقریبا تین لاکھ مرد و خواتین اساتذہ کو ٹریننگ دی جا چکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل