’مضامین میں مذہبی مواد کی موجودگی یکساں قومی نصاب کا حصہ نہیں‘

نصابی کتب میں مذہبی مواد کی موجودگی کی وضاحت کرتے ہوئے نیشنل کریکولم کونسل کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مریم چغتائی نے کہا ہے کہ ان کے ادارے نے یکساں قومی نصاب ترتیب دیا ہے، کتابیں نہیں۔

اگست سے شروع ہونے والے تعلیمی سال میں ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں پہلی سے پانچویں جماعت کے طلبہ کو یکساں قومی نصاب پڑھایا جا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی )

پاکستان میں تدریسی نصاب بنانے کے ذمہ دار ادارے نیشنل کریکولم کونسل کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مریم چغتائی نے واضح کیا ہے کہ اسلامیات کے علاوہ دیگر مضامین میں مذہبی مواد کی موجودگی نہ تو یکساں قومی نصاب (سنگل نیشنل کریکولم) کا حصہ ہے اور نہ ہی اس کا یوں شامل کیا جانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں جنرل نالج کے مضمون میں مذہبی مواد موجود تھا، جسے یکساں قومی نصاب کی تیاری کے دوران اس مضمون سے نکال دیا گیا۔ 

ڈاکٹر مریم چغتائی منگل کی رات وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے زیر اہتمام ایک ویبینار سے خطاب کر رہی تھیں، جس میں ان سے یکساں قومی نصاب سے متعلق کئی سوالات پوچھے گئے۔ 

پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے فیصلے کے تحت نیشنل کریکولم کونسل نے پورے ملک کے تعلیمی اداروں کے لیے یکساں قومی نصاب بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ 

رواں برس اگست سے شروع ہونے والے تعلیمی سال میں ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں پہلی سے پانچویں جماعت کے طلبہ کو یکساں قومی نصاب پڑھایا جا رہا ہے جبکہ بڑی کلاسز کے نصاب کی تیاری کا کام جاری ہے۔

ویبینار میں پہلا سوال ’بولو جوان‘ کی چیف ایگزیکٹو اریبہ شاہد نے کیا اور انہوں نے ڈاکٹر چغتائی سے یکساں قومی نصاب کے متعارف ہونے کے بعد درسی کتب میں مذہبی مواد کی زیادہ موجودگی کے بارے میں استفسار کیا۔

اریبہ شاہد نے اپنے سوال میں مثال دیتے ہوئے کہا کہ ریاضی اور سائنس کی کتابوں میں بھی مذہب اسلام کے حوالہ جات استعمال کیے گئے ہیں۔ 

اس پر ڈاکٹر مریم چغتائی نے وضاحت کی کہ نیشنل کریکولم کونسل نے یکساں قومی نصاب ترتیب دیا ہے، نہ کہ کتابیں، جو اس نصاب کو سامنے رکھ کر مصنفین لکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کتابوں کے مصنفین مختلف لوگ ہوتے ہیں اور ایک ہی مضمون کی ایک سے زیادہ کتب بھی ترتیب دی جا سکتی ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا: ’مصنفین کا اپنا ایک ورلڈ ویو اور نظریہ ہوسکتا ہے، جس کے باعث بعض جگہوں پر ایسی مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔‘ 

انہوں نے کہا کہ یکساں قومی نصاب ایک تعلیمی معیار کا نام ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کسی جماعت میں طالب علموں کو کم سے کم کیا سکھایا جانا چاہیے اور ہر صوبہ، علاقہ یا سکول سسٹم اس معیار کے تحت اپنی کتب ترتیب دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ 

اریبہ شاہد نے ڈاکٹر چغتائی کی توجہ یکساں قومی نصاب کے تحت چھپنے والی ایک کتاب کی طرف دلوائی، جس میں مسجد کا ’احترام‘ اور دوسرے مذاہب کا ’لحاظ‘ کرنے کا ذکر تھا۔ 

جسے ڈاکٹر چغتائی نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آنے والے وقت میں یکساں قومی نصاب کے جائزے کے وقت درست کر دیا جائے گا۔ 

اریبہ شاہد نے یکساں قومی نصاب کی کتب میں مذہب اسلام کے تہواروں کے علاوہ دسرے مذاہب کے خوشیوں کے مواقعوں کے ذکر کی تعریف کی۔ 

ڈاکٹر چغتائی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی مذہب کی تعلیم دینے کے لیے صرف اسی مذہب کے حوالے استعمال کیے جاسکتے ہیں جبکہ بچوں کی کردار سازی کسی بھی مسلمان یا غیر مسلمان شخصیت کے متعلق پڑھا کر کرسکتے ہیں۔ 

’نماز اور روزے کے طریقے عبادات ہیں اور یہ پڑھاتے ہوئے صرف مذہب اسلام سے ہی حوالہ جات استعمال ہوں گے، لیکن صلیبی جنگیں پڑھانے سے نہ کوئی بچہ عیسائی مذہب اختیار کرے گا اور نہ اشوکا کے متعلق بتانے سے کوئی بدھ ہو جائے گا۔‘ 

لیلیٰ طارق نے ایک سوال کے جواب میں پوچھا کہ ’مذہبی مدارس کو یکساں قومی نصاب مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے چھ سال کا عرصہ کیوں دیا گیا ہے؟‘

جس پر ڈاکٹر مریم چغتائی نے بتایا کہ مدارس کے 35 سے 40 لاکھ طالب علم پہلی مرتبہ کچھ بالکل نئے مضامین پڑھیں گے جبکہ کچھ مضامین وہ انگریزی میں بھی پڑھیں گے، جو ان کے لیے بہت بڑی تبدیلی ہوگی۔ 

’ایسی صورت حال میں مدارس کو اس سب کے لیے بہت بڑی سطح پر انتظامات کرنا ہوں گے اور اس میں وقت درکار ہوگا۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی مدارس کی نمائندہ تنظیم یکساں قومی نصاب کے نفاذ کے سلسلے میں پوری طرح متفق ہے، تاہم انہوں نے اس مقصد کے لیے وقت مانگا ہے، جو بالکل جائز ہے۔ 

ڈاکٹر مریم چغتائی کا کہنا تھا کہ یکساں قومی نصاب تو آگیا ہے لیکن ملک میں یکساں اور یکساں معیار قائم کرنے میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ یکساں قومی نصاب کے مطابق پڑھانے کے لیے اساتذہ کی تربیت کا سلسلہ بھی ملک بھر میں شروع ہو چکا ہے، تاہم یہ ایک بہت بڑا کام ہے اور اس پر وقت لگے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ پہلے سال کے دوران سکولوں کو رعایت دی گئی ہے کہ اگر طالب علم کو بنیادی تصور کی سمجھ آگئی ہے تو ضروری نہیں کہ اس کا روایتی انداز میں امتحان لیا جائے۔ ’استاد مختلف طریقوں سے بچے کی استعداد اور تصورات کی وضاحت کا اندازہ لگا کر طالب علموں کو اگلی جماعت میں ترقی دے سکتے ہیں۔‘ 

نیشنل کریکولم کونسل کی سربراہ نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں ان کا ادارہ یکساں قومی نصاب پر معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے فیڈ بیک لے گا۔  

’اس میں ہم والدین، اساتذہ، ماہرین، سکول مالکان اور ہر کسی سے فیڈ بیک چاہیں گے تاکہ یکساں قومی نصاب کو مزید بہتر بنایا جائے۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ اگلی جماعتوں کے لیے بنایا جانے والا نصاب صرف ماہرین کی نگرانی میں بنے گا اور وزارت تعلیم کو اس میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس