لمحوں کی خطا، صدیوں کی سزا

کسی اور کی جنگ کی خاطر اپنے بچوں کے تعلیمی نصاب میں من پسند تبدیلیاں کرنا ایک ایسی غلطی تھی جس کی تلافی شاید کبھی ممکن نہ ہو سکے۔

راولپنڈی میں ایک سکول میں بچے کلاس لے رہے ہیں۔ مختلف طبقات کے لیے مختلف نصاب تعلیم  کا ہونا معاشرے میں تقسیم کی ایک وجہ بنا (اے ایف پی فائل)

12ویں صدی قبل مسیح میں یونان کے علاقے سپارٹا کی ملکہ ہیلن کو ٹرائے شہر کے شہزادہ پیرس نے اغوا کرلیا۔ ملکہ کو واپس لانے کے لیے یونان اور ٹرائے کے درمیان ایک جنگ لڑی گئی جسے ٹروجن وار کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس جنگ میں یونانیوں نے 10 سال تک ٹرائے کا محاصرہ کیے رکھا مگر مخالف فوج کے مضبوط دفاع کو نہ توڑ سکے۔ جب شہر میں داخلے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو یونانی جرنیل اوڈیسییس نے ایک ماہر بڑھئی سے لکڑی کا تقریباً 25 فٹ اونچا اور 10 فٹ چوڑا گھوڑا بنوایا اور ایک ترکیب کے تحت اس میں چند ساتھیوں سمیت چھپ گیا۔

یونانیوں نے وہ گھوڑا ٹرائے شہر کے باہر رکھ دیا اور خود وہاں سے چلے گئے۔ ٹرائے کے سپاہیوں نے یونانیوں کو واپس جاتا دیکھ کر گھوڑے کو مال غنیمت سمجھا اور اسے شہر کے اندر لے گئے۔

جب اندھیرے اور نیند نے ٹرائے کے باسیوں کو اپنی آغوش میں لے لیا تو گھوڑے کے پیٹ سے اوڈیسیس اور اس کے ساتھی چپکے سے باہر نکلے اور شہر کا دروازہ کھول دیا۔ رات کی تاریکی میں یونانی لشکر بھی واپس آ چکا تھا جو دروازہ کھلنے پر شہر میں داخل ہوا اور ٹرائے کو تاخت و تاراج کردیا۔

وہ لکڑی کا گھوڑا جسے آج ٹروجن ہارس کے نام سے جانا جاتا ہے، جنگ جیتنے کا بنیادی سبب بنا۔ شہر میں لے جاتے ہوئے ٹرائے کی فوج کو ذرا خیال نہیں آیا کہ بغیر کسی وجہ کے چھوڑا جانے والا یہ گھوڑا دشمن کی ایک چال ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بظاہر ایک چھوٹی سی لاپروائی کی جس کا خمیازہ انہیں ناقابل تلافی نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

ایسی ہی ایک چھوٹی غلطی ٹائی ٹینک جہاز کے روانہ ہوتے وقت کی گئی جب ڈیوڈ بلیئر،  جو عملے کا رکن تھا مگر اب جہاز کے ساتھ نہیں جا رہا تھا، اتفاقیہ طور پر ٹائی ٹینک کے سٹوریج لاکر کی چابیاں کپتان کے حوالے کرنا بھول گیا۔ اس لاکر میں دوربین موجود تھی جس کی مدد سے جہاز کے ایک بلند مقام ’کروز نیسٹ‘ پر کھڑے ہو کر ارد گرد منڈلاتے خطرے کے بارے میں اطلاع دی جا سکتی تھی۔ دوربین کے دستیاب نہ ہونے سے ٹائی ٹینک کے کپتان کو سمندر میں آئس برگ کی موجودگی کی بروقت اطلاع نہ دی جا سکی اور یوں 15 اپریل 1912 کو دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز ایک برفانی تودے سے ٹکرا کر سمندر کی تہہ میں دفن ہو گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بظاہر چھوٹی لگنے والی غلطیاں قوموں کی تاریخ اور مستقبل کا فیصلہ کر جاتی ہیں۔ ایک ایسی ہی غلطی پاکستان سے بھی ہوئی جس کے ہمارے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

1980 کی دہائی میں امریکہ اور سابقہ سویت یونین (موجودہ روس) کے درمیان سرد جنگ عروج پر تھی۔ سویت یونین افغانستان پہنچ چکا تھا اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھانا چاہتا تھا۔ اس صورت حال میں صدر ضیا الحق نے سی آئی اے کی مدد سے پاکستان میں جہادی تعلیمات کو فروغ دیا اور روس کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں کیں۔ اس وقت نصاب میں چند اسباق کی شمولیت بظاہر معمولی بات لگی۔ لیکن اس سے ملک تدریسی اعتبار سے کئی طبقات میں تقسیم ہوگیا۔

ایک خاص نقطۂ نظر کے فروغ کے لیے ہم نے ذرائع ابلاغ پر افغانستان میں روس کے خلاف  لڑنے والوں کو ہیرو کے طور پر پیش کیا۔ نتیجتاً، کلاشنکوف اور جنگی کلچر عام ہو گیا اور یوں ایک معتدل معاشرے کو شدت پسندی کی جانب گامزن کر دیا گیا۔

جب ہم امریکی سرد جنگ کا ’ٹروجن ہارس‘ اپنے ملک میں لے آئے تو اس کے پیٹ سے انتہا پسندی، نفرت اور فرقہ واریت کے جن باہر نکل آئے جنہوں نے امن و آشتی اور بھائی چارے کی پریوں کو یہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا۔ 90-1989 میں سویت یونین ٹوٹا تو امریکہ اس خطے سے چلا گیا مگر جاتے جاتے ہم پر پریسلر امینڈمنٹ کے ذریعے معاشی پابندیاں عائد کر گیا۔ احساس ہوا کہ روس سے دشمنی تو لے ہی بیٹھے تھے، حالات بدلنے پر امریکہ بھی ساتھ چھوڑ گیا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اپنے ہی معاشرے میں مذہبی شدت پسندی کے بیج بو چکے ہیں۔ چند ارب ڈالرز کی امداد سے ملنے والے معاشی سکون کا نشہ اترنے پر معلوم ہوا کہ سرد جنگ میں کودنے سے ہمارے معاشرتی خدوخال ہی تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں۔

سو، ہمارے اگلے 30 قیمتی سال صرف ملک کے اتحاد کو قائم رکھنے، فرقہ واریت اور صوبائی تعصبات کی آگ بجھاتے اور جہل مسلسل سے لڑتے ہوئے گزر گئے۔ یوں بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ایشیائی ممالک ہم سے آگے نکل گئے۔ کئی بار ڈیفالٹر ہونے سے بھی بچے۔

کسی اور کی جنگ کی خاطر اپنے بچوں کے تعلیمی نصاب میں من پسند تبدیلیاں کرنا ایک ایسی غلطی تھی جس کی تلافی شاید کبھی ممکن نہ ہو سکے۔

ان حالات میں بعض نجی تعلیمی اداروں نے مروجہ نصاب تعلیم سے اختلاف کi وجہ سے اپنا سلیبس ترتیب دے دیا۔ اسی طرح کچھ مذہبی عناصر نے بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے حکومتی نصاب سے ہٹ کر اپنی کتب متعارف کروا دیں۔ یوں، مختلف طبقات کے لیے مختلف نصاب تعلیم کا ہونا معاشرے میں تقسیم کی ایک وجہ بنا۔

کئی دہائیوں بعد، نجی شعبہ تعلیم سے ناراضی مول لے کر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پورے ملک (سندھ کے علاوہ، کیونکہ وہاں کی صوبائی حکومت سے اس بات پر اتفاق نہیں ہو سکا) کے بچوں کے لیے یکساں نصاب رائج کیا جائے گا۔ امید ہے اس سے قومی یکجہتی کے فروغ میں مدد ملے گی۔ تعلیم کے ایک جیسے مواقع ملنے سے بہت سے علاقوں کا احساس محرومی بھی ختم ہو گا۔ لیکن سلیبس کے حوالے سے اس بات کا خیال ضرور رکھا جائے کہ تاریخی اعتبار سے درست ہو، سائنسی تحقیق کو فروغ دیتا ہو اور پورے پاکستان کی نمائندگی کرتا ہو۔

یہ لمحہ ہمارے سنبھلنے کا ہے۔ ورنہ وہی ہو گا جو ماضی میں قوموں کی جانب سے کی گئی غلطیوں کا ہوتا آیا ہے کہ

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

(مظفر رزمی)

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ