ٹی ٹی پی سے مذاکرات، معاملہ پیچیدہ ہو سکتا ہے

حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات معطل ہیں لیکن اگر دونوں فریق مذاکرات میں اپنے سخت موقف پر قائم رہے تو معاملہ پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

پاکستانی طالبان اب افغانستان میں ماضی کی نسبت زیادہ آزادی محسوس کرتے ہیں: طاہر خان (اے ایف پی)

’ہم نے پاکستان، چین اور ازبکستان کے رہنماؤں کو ملاقاتوں میں مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے مسلح گروپس کے ساتھ سیاسی عمل کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں اور اسلامی امارت افغانستان کی حکومت اس میں تعاون اور سہولت کاری کرسکتی ہے۔‘

یہ کہنا تھا افغانستان میں طالبان حکومت کے ایک عہدے دار کا جن سے میری دسمبر میں کابل میں ملاقات ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ چین کا اپنے مسلح مخالفین سے متعلق موقف بہت سخت ہے اور وہ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکاری ہیں۔

ازبکستان کا بھی یہی موقف تھا کہ ان کے شدت پسندوں نے بہت جرائم کیے ہیں اور ان کے ساتھ مصالحت مشکل ہے۔

تاہم افغان عہدیدار کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رہنماؤں نے تحریک طالبان پاکستان کو اسلام آباد کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی تجويز پيش کی تھی اور یہ عمل شروع بھی ہو گیا تھا اور اعتماد سازی کے لیے نومبر میں ایک ماہ کی جنگ بندی بھی ہوئی تھی۔

افغان عہدیدار کا کہنا تھا کہ غیرملکی شدت پسند طالبان حکومت کو میراث میں ملے ہیں اور ان کی نظر میں یہ لوگ ایک بوجھ ہیں۔ تاہم ان کے بقول افغان طالبان حکومت کے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ پاکستانی طالبان کو نکال دے یا پاکستان کے حوالے کرے۔

دیگر طالبان رہنماؤں کی طرح ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کسی کو بھی دوسرے ملک کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

لیکن پاکستان شاید اس طرح کے بیانات سے مطمئن نظر نہیں آتا اور بلوچستان کے علاقوں نوشکی اور پنجگورمیں فوجی مراکز پرحالیہ حملوں کے بعد پاکستان فوج کے بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور افغانستان اور بھارت میں اپنے منصوبہ سازوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔

بھارت کا نام تو ہر وقت آتا ہے لیکن افغان طالبان کی حکومت کی موجودگی میں افغانستان کا ذکر لوگوں کے لیے حیران کن ضرور ہوگا۔ افغان طالبان نے پاکستان فوج کے بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

پاکستانی طالبان افغان طالبان کے امیر کو اپنا سربراہ سمجھتے ہیں اور ایسا 2007 میں بیت اللہ محسود اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے ٹی ٹی پی کی تشکیل کے وقت سے چلا آ رہا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے باظابطہ قیام سے بہت پہلے جب افغانستان میں غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو افغان طالبان کے جنگجو قبائلی علاقوں میں پاکستانی شدت پسندوں کے مہمان تھے اور ایک لحاظ سے پاکستانی طالبان اب افغان طالبان کے مہمان ہیں۔

افغان طالبان کی مہمان نوازی کی مثال ملا محمد عمر نے اسامہ بن لادن کی مہمان نوازی کی صورت میں قائم کی کہ اپنی حکومت کو قربان کر کے امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ 20 سال تک جنگ لڑی۔

طالبان کے رہبری شوری کے ایک رکن کے مطابق جب اگست میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد قندھار میں شوری کا پہلا اجلاس ہو رہا تھا تو وہاں تقاریر میں کہا گیا کہ شریعت کی رو سے افغان طالبان کو کسی اور کو اپنی ’جہادی سرگرمیوں‘ سے منع کرنے کا حق نہیں۔

اسی اجلاس میں طالبان کے مذہبی سکالروں ’شیوخ‘ کی تجاویز میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسلامی نظام پر کسی کا دباؤ برداشت نہ کیا جائے اور نہ حکومت میں کسی اور کو جگہ دی جائے۔

اسی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان طالبان کی حکومت کے لیے پاکستانی طالبان پر کوئی خاطر خواہ دباؤ ڈالنا ممکن نہیں۔

ویسے بھی افغان طالبان نے ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات کی میز سجا دی تھی لیکن اب یہ دونوں فریقوں کی ذمہ داری ہے کہ کس طرح اپنے معاملات طے کریں اور ویسے بھی ثالث یا سہولت کار کی ذمہ داری بنتی بھی نہیں۔ پرانے تعلق اور ایک جیسے نظریات کی بدولت افغان طالبان پاکستانی طالبان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

پاکستانی طالبان اب افغانستان میں ماضی کی نسبت زیادہ آزادی محسوس کرتے ہیں۔ امریکی ڈرون حملوں کا خطرہ تقریباً ٹل گیا ہے۔

اب ٹی ٹی پی کے لیے سابق افغان فورسز کے آپریشن کا خطرہ بھی باقی نہیں رہا اور ملا فقیر محمد، مفتی خالد بلتی جیسے اہم رہنماؤں سمیت ٹی ٹی پی کے سینکڑوں شدت پسند افغان طالبان کے اگست میں جیلوں پر حملوں کے بعد رہا ہوچکے ہیں۔

مفتی خالد، جو طالبان کے ترجمان بھی رہے تھے، گذشتہ ماہ مشرقی صوبے ننگرہار میں قتل کر دیے گئے۔

آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے بعد مفتی خالد نے حملے کی ذمہ داری لینے لیے پاکستانی صحافیوں کو فون کیا تھا۔

وہ اشرف غنی کی سابق حکومت میں 2015 میں گرفتار ہوئے تھے اور 2017 میں اس وقت کے افغان قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر نے مفتی خالد کو پانچ افغان طالبان رہنماؤں کے بدلے میں پاکستان کے حوالے کرنے کی پیشکش کی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ پانچ افغان رہنما اس وقت بلوچستان کی جیلوں میں تھے البتہ ٹی ٹی پی اراکین کے لیے ایک چیلنج سامنے آیا ہے۔

خالد مفتی کا حالیہ اغوا اور پراسرار قتل اور مالاکنڈ کے لیے ٹی ٹی پی کے گورنر مفتی برجان پر مشرقی صوبے کنڑ میں گذشتہ ماہ قاتلانہ حملہ گروپ کے لیے تشویش کا باعث ہوگا۔ 

پاکستان میں شاید ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور عوام کی اکثریت کا خیال تھا کہ افغان طالبان کے آنے کے بعد پاکستان میں تشدد کے واقعات میں کمی آئے گی لیکن معاملہ کچھ مختلف ہی ہوگیا۔

ٹی ٹی پی نے نو دسمبر کو ایک ماہ کی جنگ بندی میں توسیع کرنے سے انکار کے بعد پاکستان میں دوبارہ حملے شروع کیے ہیں۔ وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ تشدد میں اضافے کے بعد چاروں صوبوں میں سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی اور بلوچ مسلح گروپس کے درمیان رابطوں کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔ بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملوں کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

اسلام آباد میں پولیس پر حالیہ حملہ بھی حیران کن ہے۔ شیخ رشید نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا اور ٹی ٹی پی نے واقعے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

ٹی ٹی پی سے تقریباً تمام ناراض گروپس، جن میں جماعت الاحرار اور حزب الاحرار شامل ہیں، واپس ٹی ٹی پی کا حصہ بن چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مذاکرات کی معطلی سے متعلق شیخ رشید کے بیان سے چند ہفتے پہلے پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بھی مذاکراتی عمل میں تعطل کی بات کی تھی۔

ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے 26 جنوری کو مجھے بتایا کہ ایک قبائلی جرگے نے ٹی ٹی پی کے ساتھ رابطہ کیا تھا ’لیکن ہم نے ثالث یعنی امارت اسلامیہ (افغان طالبان) کے پاس بھیجا۔ لہذا ہمارے جرگے سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔‘

قابل اعتماد ذرائع کے مطابق گذشتہ ماہ افغانستان جانے والے قبائلی مشیران کا دوبارہ افغانستان جانے کا منصوبہ بن رہا ہے۔ ٹی ٹی پی کے مطالبات کی باقاعدہ تفصیل تو سامنے نہیں آئی لیکن وہ پہلے مرحلے میں اپنے تقریباً 100 شدت پسندوں کی رہائی چاہتے ہیں۔

خبروں کے مطابق ٹی ٹی پی کا سابق قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا سے انضمام ختم کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا لیکن سو کے لگ بھگ طالبان قیدیوں کی جیل سے رہائی پر پاکستانی انکار مذاکرات میں تعطل کا بظاہر سبب بنا ہے۔ پاکستان کے لیے شاید اس موقعے پر یہ مطالبات تسلیم کرنا مشکل ہوگا لیکن اعتماد سازی کے لیے کوئی نہ کوئی اقدام تو کرنا ہوگا۔

ابھی تو مذاکرات روک لیے گئے ہیں اور بڑا چیلنج اس عمل کی دوبارہ بحالی ہے۔ مذاکرات میں اگر دونوں اپنے سخت موقف پر قائم رہے تو معاملہ پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ