سندھ کی صوفی سرزمین کو مذہبی انتہا پسندی کا خطرہ؟

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹیڈیز نے نوجوانوں کے ساتھ بات چیت سے ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بڑھتی انتہاپسندی کا نوٹس لے۔

19 اپریل 2007 کو پاکستان کے شہر کراچی میں مذہبی انتہاپسندی کے خلاف ایک مظاہرہ (اے ایف پی)

غیر سرکاری ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹیڈیز نے پاکستان اور خاص طور پر ماضی کی پر امن اور صوفی سرزمین سندھ میں بڑھتی مذہبی انتہاپسندی، پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تمام اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

ادارے نے ’ریاست، سماج، مذہب اور سیاست سندھی نوجوانوں کے نگاہ سے‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے جو ’ماضی میں مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کا مرکز سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہاں مذہبی انتہاپسندی پنپ رہی ہے اور دیگر فرقوں کے لوگوں اور لسانی اقلیتوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔‘

پاکستان کی مذہبی اقیلت ہندوؤں کی اکثریت سندھ میں مقیم ہے مگر رپورٹ کے مطابق ہندو لڑکیوں کو اغوا کرکے زبردستی مذہب تبدیلی اور شادی کے ساتھ ساتھ ہندو عبادت گاہوں کی توہیں کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ہی شمالی سندھ کے ضلع گھوٹکی کے شہر ڈھرکی میں ہندو تاجر کو زمین کے مبینہ تنازع پر قتل کردیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت سے پہلے ریکارڈ کی گئی ویڈیوز میں تاجر ستن لال اپنے تحفظ کی اپیل کرتے نظر آئے اور چند لوگوں کے نام بھی لیا جن پر انہیں شک تھا کہ وہ انہیں قتل کریں گے۔

گذشتہ کئی سالوں میں ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا، شادیوں اور زبردستی مذہب تبدیلی کی بھی رپورٹس ملتی رہتی ہیں، جبکہ حالیہ ماہ میں ہندوؤں کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کے بھی متعدد واقعات رپورٹ ہوئے۔

ادارے کے مطابق اس رپورٹ کو مرتب کرنے کے لیے شہروں اور دیہات سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور طالبات کے ورک شاپ منعقد کیے گئے، تاکہ ان نوجوانوں کو اپنے مشاہدے اور خیالات کا اظہار کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم دیا جائے۔ ان ورک شاپس میں ادارے سمیت سول سوسائٹی اور  میڈیا کی شخصیات نے بھی شرکت کی۔

اس بات چیت کے سلسلے کے بعد مرتب ہونے والی رپورٹ میں کہا کیا گیا ہے کہ حکومت کو مذہب کی بنیاد پر قومیت کی معاشرتی اور سیاسی  قیمت اور نقصان کا مکمل تجزیہ کرنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مذہبی  بنیاد پرستی کے پیشِ نظر میں ملک میں مذہبی انتہا پسندی کا سنگین مسئلہ بدتر ہونے کا امکان ہے، اور اس مسئلے کے موثر حل کے لیے ضروری ہے کہ ریاست اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھے اور  بتدریج اور  بہترین پالیسی کے ذریعے مذہب اور سیاست کی علیحدگی کے اقدامات کرے۔

رپورٹ کے مطابق: ’تعلیمی نظام کو  بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔تعلیم کو شمولیت اور شرکت پر مبنی ہونا چاہیے۔ نصاب کو اقلیتوں کی عکاسی میں حساس ہونا چاہیے۔ جائزہ  و تشخیص اسباق کو زبانی یاد کرنے کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے، بلکہ پاکستان کے مستقبل کے رہنماؤں میں تنقیدی اور عقلی سوچ  کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ خواتین کو با اختیار بنانے اور صنفی حقوق  کی بحث اور دائرہ کار کے ساتھ ساتھ خواتین کے معاشی اور سیاسی حقوق اور خواجہ سراؤں اور مخنث کمیونٹی اور ان گروہوں سے رواں رکھے جانے والے معاشرتی  برتاؤ جیسے حساس موضوعات  کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے سندھ یونیورسٹی جامشورو کی استاد امر سندھو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا: ’سندھ کی پنجاب اور بلوچستان کی سرحدوں والے اضلاع میں مذہبی انتہاپسندی شدت سے موجود ہے اور نہ صرف موجود ہے بلکہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں میں منتقل بھی ہورہی ہے۔‘

امر سندھو سیاسی جدوجہد کا مقابلہ کرنے کے لیے مذہب کے نام کا استعمال ریاستی پالیسی رہی ہے، مگر اب صورت حال بگڑ رہی ہے کیونکہ اب کا اس استعمال اور گروہ بھی کرنا شروع ہوگئے ہیں۔ ’ان گروہوں میں مذہبی اور سیاسی گروہ شامل ہیں اور وہ اپنا نظریہ دہشت اور تشدد کے ذریعے ان کی مخالف مذہبی یا سیاسی رائے رکھنے والوں پر استعمال کرتے ہیں۔‘

ماضی کی نسبت سندھ میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے اسباب پر بات کرتے ہوئے امر سندھو نے بتایا کہ 1990 کی دہائی تک سندھ میں ترقی پسند طبقہ کامیاب تھا اور سندھ کا ادب بھی ترقی پسندانہ تھا، جس کی وجہ سے متنازع نصاب کے باجود سندھ کے نوجوان سیاست اور سماجی نقطہ نظر کی تناظر میں ترقی پسند رہے ہیں۔ ’یہ نقطہ نظر سیاسی اور نظریاتی جماعتوں اور بات چیت کے ماحول کے باعث بنا۔‘

مگر امر سندھو کہتی ہیں کہ اب ایسا نہیں رہا ہے۔ ’سندھ یونیورسٹی میں اب نئے آنے والے طالب علموں کی سوچ کو دیکھ کر مجھے اپنی کلاس میں محتاط ہوکر بات کرنا پڑتی ہے، کہ کہیں پنجاب کی یونیورسٹیوں کی طرح ہمارے طلبہ کسی بات پر کوئی ردعمل نہ دینا شروع کردیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان