عمران خان میں ہمت ہے تو اسمبلی توڑ دیں: بلاول

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 27 فروری سے کراچی سے عوامی مارچ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی ’مزید وکٹیں‘ گریں گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری  نو  فروری 2022 کو ملتان  میں ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے (تصویر: ویڈیو سکرین گریب/ پیپلز پارٹی میڈیا سیل ٹوئٹر اکاؤنٹ)

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم عمران خان میں ہمت ہے تو وہ ان کی پارٹی کی جانب سے 27 فروری سے شروع ہونے والے عوامی مارچ سے پہلے اسمبلی توڑ دیں۔

بدھ کو ملتان میں رانا سجاد حسین کی پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کے موقعے پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کا عوامی مارچ 27 فروری کو کراچی سے شروع ہوگا۔‘

انہوں نے کہا: ’پیپلز پارٹی نے اس کٹھ پتلی، نااہل اور سلیکٹڈ حکومت کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔‘

پیپلز پارٹی چیئرمین نے عالمی مالیاتی ادارے سے ہونے والے حکومتی معاہدے کو ’پی ٹی آئی اور آئی ایم ایف کی ڈیل‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی: 'جب یہ لوگ آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کر رہے تھے، آئی ایم کا بجٹ پاس کروا رہے تھے تو ہم نے ان کو تب بھی خبردار کیا تھا کہ یہ عوام دوست بجٹ نہیں ہے، یہ غریب دشمن اور ملک دشمن معاہدہ ہے۔ یہ ہماری خودمختاری کا سودا ہے۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست پر سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی رہنما یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے مزید کہا: ’ہمارے کچھ دوستوں کا یہ خیال تھا کہ سینیٹ الیکشن سے پہلے ہم استعفیٰ دے دیں، اس سے بھاگ جائیں اور عمران خان کے لیے کھلا میدان چھوڑ دیں لیکن ہم نے کہا کہ ہم سلیکٹڈ کا مقابلہ کریں گے اور وزیراعظم کو ان کے اپنے گھر میں گھس کر انہیں شکست دی۔‘

بقول بلاول: ’ہم نے ہر الیکشن میں ان کا مقابلہ کیا ہے اور پیپلز پارٹی کے جیالے سچے ثابت ہوئے ہیں۔ ہر ضمنی الیکشن میں عمران خان کو شکشت کو سامنا کرنا پڑا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ’مارچ کا مہینہ بہت دور ہے، عوام آج پِس رہے ہیں۔آج غربت اور بے روزگاری عروج پر ہے۔ آج سے نکلیں۔ لانگ مارچ میں انشا اللہ پیپلز پارٹی کامیاب ہوگی۔‘

ساتھ ہی انہوں نے پیپلز پارٹی کے جیالوں کو مخاطب کرکے کہا: ’آپ کی کامیابیاں لانگ مارچ شروع ہونے سے پہلے آنی شروع ہوگئی ہیں۔ یہ جیالوں کی جیت ہے کہ ہمارا مارچ شروع ہونے سے پہلے ہمارے کچھ دوست جو پہلے عدم اعتماد کو نہیں مانتے تھے، اب وہ بھی اسے مان رہے ہیں اور عمران خان کو ہٹانے کے لیے مہم چلارہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر ہلچل شروع ہوچکی ہے اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے لاہور اہم ملاقاتوں کا مرکز بن گیا ہے۔اس سلسلے میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری گذشتہ ایک ہفتے سے لاہور میں ہیں، جہاں پہلے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے گھر ظہرانے پر انہوں نے لیگی قیادت سے ملاقات کی اور پھر چوہدری برادران کی رہائش گاہ پر ق لیگی قیادت سے بھی ملاقات ہوئی۔

بلاول نے اپنے جیالوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’اسلام آباد پہنچتے ہوئے پورا ملک آپ کے ساتھ ہوگا۔ کوئی انکار نہیں کرسکے گا کہ اس وزیراعظم پر حملہ ہونا ہے۔‘

انہوں نے پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل واوڈا کی نااہلی کا حوالہ دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کارکنوں کو مخاطب کرکے کہا: ’آپ کا مارچ شروع ہونے سے پہلے عمران خان کی وکٹیں گرنا شروع ہوگئی ہیں۔ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے مزید وکٹیں گریں گی۔‘

بلاول بھٹو نے مزید کہا: ’عمران جو سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں، ہمیں لیکچر دینے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم انہیں چیلنج کرتے ہیں کہ اگر آپ گھبرا نہیں رہے، اگر آپ بزدل نہیں ہیں تو ہمارے مارچ کی ضرورت ہی نہیں۔  ہمارا مارچ شروع ہونے سے پہلے اسمبلی توڑ دیں۔ اگر آپ میں ہمت ہے اور آپ کو یقین ہے کہ عوام آپ کو ہی ووٹ دیں گے تو الیکشن سے کیوں ڈرتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست