شادی کے بعد خاتون کے قانونی نام میں تبدیلی، مگر کس قیمت پر؟

یشفہ ان سینکڑوں خواتین میں سے ایک ہیں جنہیں درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے شادی اور طلاق کے بعد نادرا ریکارڈ سمیت تعلیمی اسناد میں نام کی تبدیلی کے طویل اور اکتا دینے والے عمل سے گزرنا پڑا۔

فیصل آباد کی یشفہ زندگی میں دو مرتبہ اپنا قانونی نام تبدیل کروانے کے طویل اور اکتا دینے والے عمل سے گزری ہیں لیکن اگر انہیں وقت پر اور درست معلومات میسر ہوتیں تو اس کی نوبت ہی نہ آتی۔

یشفہ نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ ’میری شادی 2017 میں ہوئی اور اس کے چار ماہ بعد ہم نادرا آفس میں ریکارڈ اپ ڈیٹ کروانے گئے۔

’میرے خاندان اور ارد گرد تقریباً تمام ہی خواتین نے شادی کے بعد شوہر کا نام اپنے نام کے ساتھ لکھوایا تھا تو میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس معاملے میں کچھ زیادہ سوچ بچار نہیں کی۔‘

یشفہ کے مطابق نام کی تبدیلی کے بعد تب تک انہیں غلطی کا احساس نہ ہوا جب تک کہ وہ ملازمت کے لیے ایک نجی سکول نہ گئیں۔

’نادرا ریکارڈ میں تبدیلی کے بعد جب میں نے ایک نجی سکول میں ملازمت کے لیے درخواست دی تو وہاں پہلی مرتبہ نشاندہی کی گئی کہ اب میری میٹرک، ایس ایف ایسی اور بی ایس کی سند قابل قبول نہیں رہیں کیوں کہ ان پر میرا نام کچھ اور ہے اور شناختی کارڈ پر کچھ اور۔‘

یشفہ کے مطابق تعلیمی اسناد میں ان کے نام کے ساتھ والد کا نام درج تھا جس کی وجہ سے اس نجی تعلیمی ادارے نے اسناد کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

مستقبل میں ملازمت کے حصول سے رکاوٹیں دور کرنے کے لیے یشفہ اور ان کے شوہر نے فیصلہ کیا کہ اب تعلیمی اسناد پر بھی نیا نام درج کروا لیا جائے۔

اس عمل پر بات کرتے ہوئے یشفہ کا کہنا تھا کہ ’بہت تھکا دینے والے عمل کے بعد میٹرک کے راولپنڈی بورڈ میں اپنا نام تبدیل کروایا۔ میٹرک کی سند پر ایف ایس سی اور بی ایس کی اسناد پر نام تبدیل ہوئے۔

’مجھے یاد ہے کہ اس دوران تقریباً تین مرتبہ ہم نے اخبار میں اشتہار بھی دیا کہ میرا پرانا نام کیا تھا اور اب نیا نام کیا ہے۔ اس سارے عمل میں پانچ سے چھ ماہ لگ گئے۔‘

وفاقی محتسب برائے تحفظ نسواں کشمالہ طارق کے مطابق شناختی کارڈ پر شادی کے بعد خواتین کے نام میں تبدیلی سے جڑی پیچیدگیوں کا آسان حل نکالنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ نادرا کی ذمہ داری ہے کہ شادی شدہ خاتون کے نام کی تبدیلی کے بعد وہ خود ہی تمام متعلقہ اداروں جیسا کہ تعلیمی بورڈز، بینک، پاسپورٹ آفس وغیرہ کو ایک سرکلر کے ذریعے آگاہ کر دے۔

’اب تو شہریوں کا تمام ریکارڈ آن لائن اور سینٹرالائز ہے تو ایسا کرنے میں کوئی بڑی رکاوٹ بھی نہیں ہونی چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے علاوہ جب ایک شادی شدہ جوڑا نادرا ریکارڈ میں تبدیلی کے لیے پہنچے تو متعلقہ افسر کو انہیں نام میں تبدیلی کے بعد پیش آنے والی مشکلات سے مکمل آگاہی بھی دینی چاہیے تاکہ کوئی بھی خاتون تمام تر ضروری معلومات کے بعد اپنے لیے درست فیصلہ لے سکے۔‘

نادرا کے ترجمان کے مطابق نادرا دفاتر میں شادی شدہ جوڑوں کو خواتین کے ناموں میں کنیت کی تبدیلی سے جڑی پیچیدگیوں پر آگاہی دی جاتی ہے تاکہ وہ بہتر فیصلہ لے سکیں۔

چند سال پہلے راولپنڈی کی صدف اور محمد عمر کو یہ ضروری معلومات اور آگاہی نہیں دی گئی تھی۔

صدف نے اپنے نام میں تبدیلی کے عمل کی یاداشتیں دہراتےہوئے بتایا کہ ’نئے رشتے کی بنیاد کے فوراً بعد میرے شناختی کارڈ کی میعاد پوری ہو گئی۔

’اس پر میرے شوہر کا خیال تھا کہ اب انہیں اپنے نام سے فیملی شروع کرنی چاہیے۔ ہم نادرا آفس گئے اور میں نے اپنا نام صدف کرامت سے صدف عمر لکھوا لیا۔

’اس کے مستقبل میں کیا اثرات ہونے والے ہیں اس بارے میں مجھے کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی کسی متعلقہ افسر نے اس پر رہنمائی کی۔

’بس شوہر کا شناختی کارڈ، نکاح نامہ اور بجلی کا بل نادرا آفس میں دیا اور نام تبدیل ہو گیا۔ کچھ دن بعد کارڈ بھی بن کر آ گیا۔‘

صدف نے شادی کے بعد تعلیمی سرگرمی جاری رکھی اور بی اے اور ایم اے کیا۔

ایم اے کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے پیش نظر ڈگری نکلوانے کے لیے درخواست دی تو ڈگری کالج نے پہلے بی اے کی ڈگری جمع کروانے کا تقاضا کیا۔ بی اے کی ڈگری نکلوانے کے لیے فارم جمع کروایا تو پھر بھی صدف کو غلطی کا احساس نہ ہوا۔

’جب بی اے کی ڈگری لینے پہنچی تو معلوم ہوا کہ وہ تو مجھے مل نہیں سکتی کیوں کہ ایف ایس سی اور میٹرک کی اسناد پر میرا نام صدف کامران تھا اور شناختی کارڈ پر اب صدف عمر۔

’اب بھی غلطی کا احساس نہیں ہوا۔ سوچا کہ اسناد میں نام تبدیل کروا لیتے ہیں۔ جب اس کا طریقہ کار معلوم کیا تو وہ انتہائی اکتا دینے والا اور طویل تھا۔

’میں ایک ملازمت کے لیے درخواست دینا چاہتی تھی اور اگر اتنا طویل انتظار کیا جاتا تو پھر تو وہ موقع ہاتھ سے نکل جاتا۔ اس صورت حال میں پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ نام تبدیل کروا کر غلطی ہوئی ہے۔‘

صدف کا کہنا تھا کہ ’میرے شوہر نے کچھ قانونی ماہرین سے مشورہ کیا اور پھر یہ فیصلہ لیا گیا کہ نادرا ریکارڈ میں نام تبدیل کروا لیا جائے جس کا طریقہ کار نسبتاً آسان تھا۔‘

جو سہولت صدف کو میسر آئی وہ یشفہ کو نہ ہوئی کیوں کہ ان کی شادی چند سال ہی چل پائی اور پھر انہوں نے شوہر سے طلاق لے لی۔ طلاق کے بعد بھی یشفہ کی تعلیمی اسناد پر شوہر کا نام موجود رہا۔

یشفہ نے بتایا کہ ’طلاق کے بعد بس میرے گھر والوں کو جلدی تھی کہ کسی طرح میرے نادرا ریکارڈ میں نام دوبارہ وہی ہو جائے جو شادی سے پہلے تھا۔

’میں ایم فِل کرنا چاہتی تھی اس لیے مجھے اچھے سے اندازہ تھا کہ اگر نام تبدیل ہو گیا تو پھر دوبارہ سے تعلیمی اسناد پر بھی نام تبدیل کروانا پڑے گا اور اس تھکا دینے والے اور طویل عمل میں ایم فِل کے داخلوں کا وقت گزر جائے گا۔ مگر ایسا ہی ہوا۔ اور میں ایم فِل میں وقت پر داخلہ نہ لے سکی۔‘

یشفہ کے مطابق ’طلاق کے بعد نادرا میں نام تبدیل کروانا مشکل عمل نہیں تھا لیکن تعلیمی اسناد میں نام تبدیل کروانے کے عمل نے مجھے تھکا دیا۔‘

جب یشفہ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اس عمل سے کیا اخذ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’نام تبدیل کرنے یا نہ کرنے سے آپ کی شادی شدہ زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑنا۔ اس کے اثرات ایسے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہی کروایا جائے تو بہتر ہے۔‘

وفاقی خاتون محتسب کشمالہ طارق کے مطابق شادی کے بعد خواتین کے نادرا ریکارڈ میں شوہروں کے ناموں کا اندراج انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں شادی کے بعد خواتین کے شناختی کارڈ پر شوہروں کے ناموں کا اندراج خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ سب سے بڑا تحفظ شوہر کے ترکے میں خواتین کے حقوق کا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’شادی سے پہلے بھی اپنے شناختی کارڈ پر وہ ایک مرد یعنی اپنے والد کے نام سے منسوب تھیں اور شادی کے بعد بھی وہ ایک اور مرد یعنی اپنے شوہر کے نام سے منسوب ہوتی ہیں۔ اس صورت حال کو ہم پدر شاہی نہیں کہہ سکتے۔‘

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ شادی کے بعد نام میں تبدیلی کا عمل بلا تفریق مذہب تمام خواتین کو یکساں متاثر کرتا ہے۔ 

نادرا کے ترجمان کا ماننا ہے کہ شادی شدہ خواتین کے شناختی ریکارڈ کی پالیسی میں تبدیلی آنے سے اب خواتین کو ایسے مسائل کا سامنا نہیں ہو گا۔

انہوں نے شہریوں بشمول شادی شدہ خواتین کے کوائف کے اندراج پر تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’نادرا کے پاس کسی بھی شہری کے کوائف کے لیے کئی قسم کے گوشوارے موجود ہیں۔

’ان گوشواروں میں سے صرف نام، مستقل پتہ، موجودہ پتہ، شناختی علامت، والد یا شوہر کا نام جیسے چند گوشوارے ہی شناختی کارڈ پر پرنٹ ہوتے ہیں۔ باقی تمام گوشوارے ریکارڈ کا حصہ بنانے کے لیے اکٹھے کیے جاتے ہیں۔‘

اس حوالے جب چیئرمین نادرا طارق ملک سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’شادی کے بعد خاتون کے شناختی کارڈ پر والد کے نام کی بجائے ان کے شوہر کا نام پرنٹ کرنے کی پالیسی چلی آ رہی تھی۔

’ہمارے سامنے اس پالیسی کے خلاف کئی انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں نے آواز اٹھائی۔

’جب میں نے اس پالیسی پر غور کیا تو پتہ چلا کہ ایسا صرف رواج یا رسم کے طور پر ہی کیا جا رہا تھا۔ قانون میں ایسا کرنے یا نہ کرنے کی کوئی شق یا قدغن نہیں تھی۔‘

طارق ملک نے بتایا کہ ’اب نادرا شادی شدہ خاتون کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنے شناختی کارڈ کے پرنٹ میں والد کا نام رکھنا چاہتی ہیں یا شوہر کا۔

’وہ جو بھی صورت اختیار کریں اس سے صرف شناختی کارڈ کی پرنٹنگ پر فرق پڑے گا۔ نادرا کے پس پس دیدہ ریکارڈ میں موجود ان کے باقی گوشواروں میں شوہر کا نام یا والد کا نام مستقل رہے گا۔

شادی شدہ مردوں کے نادرا ریکارڈ پر بات کرتے ہوئے چیئرمین نادرا نے بتایا کہ ’ہر مرد کے شناختی کارڈ پر ان کے والد کا نام تحریر ہوتا ہے لیکن پس دیدہ ریکارڈ کے گوشواروں میں بیوی کا نام بھی محفوظ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شادی شدہ خواتین کو شناختی کارڈ کے پرنٹ ایبل یا قابل نشر گوشواروں میں شوہر یا والد کے نام رکھنے کا اختیار دینے کی پالیسی کے مقصد پر چیئرمین نادرا طارق ملک کا کہنا تھا کہ ’اس پالیسی میں تبدیلی کا مقصد یہ تھا کہ میں نے شناختی کارڈ کو ایک عورت کے تناظر سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔

’ہم نے غیر سرکاری پالیسی کو توڑ دیا ہے اور خواتین کو اب اپنے والد یا شوہر کے نام کے ساتھ خود کو رجسٹر کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

’یہ خواتین کی پسند ہے کہ وہ اپنے لیےکیا چاہتیں ہیں، نہ کہ مرد کی۔ اب شناختی کارڈ کی پرنٹنگ کی حد تک دونوں صنفوں کے شناختی کارڈ برابر ہو گئے ہیں۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر سے شہریوں کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے۔ 

شادی شدہ خواتین کے ناموں میں تبدیلی پر بات کرتے ہوئے طارق ملک نے بتایا کہ ’جہاں تک بات ہے کہ شادی کے بعد خاتون شوہر کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنا لیتی ہیں۔ یہ چیز پہلے بھی ان کے ذاتی اختیار میں تھی اور اب بھی ذاتی اختیار میں ہے۔

’اپنے نام میں ایسی تبدیلی کرتے ہوئے نادرا افسران انہیں اس کے اثرات سے متعلق ضرور آگاہ کرتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ نادرا جنوری 2022 تک 18 یا 18 سال سے زائد عمر کے کل 12 کروڑ افراد یعنی 96 فیصد بالغ آبادی کو شناخت کارڈ جاری کر چکا ہے۔ ان میں ساڑھے چار کروڑ خواتین بھی شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین