سعودی کافی کا ورثہ جو نسل در نسل چلتا ہے

سعودی عرب کی اس کافی کو ’قہوہ‘ کہا جاتا ہے اور خاص اجزا شامل کیے جانے کی وجہ سے اس کا ذائقہ مشرق وسطیٰ اور مغرب کی کافی سے مختلف ہوتا ہے۔

سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے جزان میں رہنے والے فرح المالکی کے لیے کافی کے پودے کاشت کرنا ایک پیشے سے بڑھ کر ہے۔

یہ ایک ایسی روایت ہے جو ان کے خاندان میں نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔ 91 سالہ فرح المالکی کافی کاشت کرنے کی طویل تاریخ رکھتے ہیں جو پندرہویں صدی میں ایتھوپیا اور یمن سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلی ہوئی تھی۔

فرح المالکی کہتے ہیں کہ ’میرے والد کو یہ ورثہ ان کے والد سے ملا اور میں نے اسے اپنانے کے بعد اپنے بیٹوں اور پوتوں کو منتقل کیا ہے۔‘

ان کے نو بیٹے ہیں اور وہ سب اپنے والد کے کام میں ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ سعودی عرب کا علاقہ جزان خولانی کافی کے بیجوں کے لیے معروف ہے جن کو الائچی اور زعفران کے ساتھ ملا کر کافی کو پیلا رنگ دیا جاتا ہے۔

اس کافی کو مقامی زبان میں ’قہوہ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ عام طور پر مشرق وسطیٰ اور مغرب میں رائج کڑوی کسیلی کافی سے کافی مختلف ہوتا ہے۔

یہ قہوہ سعودی عرب کی ثقافت کا ایک اہم جز ہے اور یہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ سعودی حکومت نے 2022 کو ‘سعودی کافی کا سال‘ قرار دے رکھا ہے۔

 اس قہوے کو مہمانوں کو کھجوروں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور یہ روایت سعودی عرب کے گھروں اور محلوں میں یکساں مقبول ہے۔

سعودی معاشرے میں قہوے کو مہمان نوازی اور خوش اخلاقی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

فرح المالکی ادھیڑ عمر ہونے کے باوجود روایتی لباس پہنے اور خنجر لگائے اپنے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ ’ہمیں جو مسئلہ درپیش تھا وہ پانی کی کمی کا تھا۔‘

لیکن سعودی حکومت نے، جو اپنی معیشت کا دارومدار تیل سے ہٹا کر اسے متنوع کرنے کی کوشش کر رہی، سعودی کافی کو فروغ دینے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔

سعودی حکومت نے تمام ریستورانوں کو ہدایت دے رکھی ہے وہ عربی کافی کی جگہ سعودی کافی کی اصطلاح استعمال کریں۔

2021 کے اختتام تک سعودی عرب میں موجود 600 کھیتوں میں کافی کے چار لاکھ درخت موجود تھے جو سالانہ 800 ٹن کافی پیدا کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب 2025 تک خولانی بیجوں کے 12 لاکھ درخت کاشت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

فرح المالکی کے 42 سالہ بیٹے احمد المالکی کہتے ہیں کہ انہیں خولانی کافی کے بیجوں کی کافی معلومات ہیں۔

ان کے مطابق ان کے کھیتوں میں موجود تمام درخت قدرتی طور پر کاشت کیے جاتے ہیں اور ان پر کیمیکلز کا استعمال نہیں کیا جاتا۔

المالکی خاندان کے کھیت سالانہ 2.5 ٹن کافی کے بیج پیدا کرتے ہیں۔

تاریخ دان اور فرح المالکی کے رشتہ دار یحیحی المالکی کے مطابق جزان کا علاقہ خولانی کافی کے بیجوں کے لیے موزوں ہے جس کی وجہ یہاں کا گرم مرطوب موسم ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا