انسٹاگرام اور فیس بک بند ہوئے تو ’میں تباہ ہوجاؤں گی‘

’سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مسلمان خاتون کے طورپر دیکھا جانا اور قبول کیا جانا اچھا لگتا ہے۔ ہم خود کو پوشیدہ محسوس کرنے کے عادی تھے۔ میں اسے بہت یاد کروں گی۔‘

جنوب مغربی فرانس کے علاقے تولاؤس میں پانچ  اکتوبر 2020 کو لی جانے والی اس تصویر میں امریکی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس فیس بک اور انسٹاگرام کے لوگوز موبائل اور ٹیبلیٹس پر دکھائے جا رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی )

ہوسکتا ہے کہ امریکی کمپنی میٹا انکارپوریٹڈ ڈیٹا کی منتقلی کے مسائل کی وجہ سے یورپ میں فیس بک اور انسٹاگرام بند کر دے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے یہ بڑی بات کیوں ہوسکتی ہے۔ ہے ناں؟ ٹھیک بھی ہے کہ کسی بھی دن کوئی ایپ بالآخر بند ہوسکتی ہے؟

چند لوگوں کے لیے یہ اچھی بات نہیں ہے۔ بعض لوگوں کے لیے انسٹاگرام اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز عملی طور پر(یا الفاظ کی حد تک) ایک کل وقتی کام ہے۔ مجھے اس کی وضاحت کرنے کی اجازت دیں۔

بزنس آف ایپس کے اعدادوشمار کے مطابق انسٹاگرام نے ایک اندازے کے مطابق 2020 میں 24 ارب ڈالرز کمائے اور اس کے ایک ارب سے زیادہ صارفین تھے۔

انسٹاگرام اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز صارفین کے ساتھ ساتھ تخلیقی کام کرنے والی اُس بڑی برادری کی بدولت ترقی کرتے ہیں، جو انہیں آمدن کے لیے استعمال کرتی ہے۔

اس برادری میں گاہک بنانے کے لیے اشتہارات کا استعمال کرنے والے کاروباری مالکان سے لے کر مصنفین، فوٹوگرافرز، انفلوئنسرز، یوٹیوبرز اور دیگر افراد شامل ہیں۔ ساتھ ہی میرے جیسے روزمرہ کے اوسطاً صارفین جن کے لیے ایپس محض زندگی گزارنے کا ایک انداز ہیں۔

میں سمجھتی ہوں کہ اتنے بڑے پلیٹ فارم کا ممکنہ طور پر بند ہونا درحقیقت فائدے کے مقابلے میں نقصان کا زیادہ باعث بن سکتا ہے۔ یعنی لوگوں کو الگ تھلگ کرنا اور ایک دوسرے سے کاٹنا، چھوٹے کاروباروں کو کم کرنا اورلوگوں کے تخلیقی کام کرنے والے اداروں کو ہٹانا۔

تصاویر، ان کے نیچے درج کیپشن اور ویڈیوز کے ذریعے ہم بالکل مختلف دنیا میں غوطہ لگانے کے قابل ہوجاتے ہیں، جو خاص طور پر وبا کے دنوں میں فرار کی ایک اہم اور سکون بخش شکل ہو سکتی ہے۔

مجھے یاد ہے کہ میں نے انسٹاگرام کا استعمال اس وقت شروع کیا تھا جب میں نوعمر تھی۔ میں بے وقوفانہ سیلفیز اپ لوڈ کرتی اورخاندان اور دوستوں سے جڑے رہنے کے طریقے تلاش کرتی رہتی تھی۔

بالآخر اس پلیٹ پلیٹ فارم نے قدم جما لیے۔ میں لکھنے کے اپنے شوق کی طرف مائل ہوئی اور دوسرے لکھاریوں کے ساتھ رابطے اور تقریبات میں شرکت کرنے سے مجھے اپنی چھوٹی سی برادری مل گئی۔ اس طرح مجھے اپنی صلاحیتوں کو مزید فروغ دینے کا موقع ملا۔

شاعری میرے لیے ساتھی صارفین سمیت ’سادہ فیشن‘ کی دنیا میں رہنے والوں سے جڑنے کا وسیلہ بن گئی۔ یعنی فیشن کی شوقین وہ خواتین جو اپنے وجود کا اظہار مختلف پہناووں (جیسا کہ حجاب یا دوپٹہ) کے ذریعے کرتی ہیں، جو تہذیبی اور مذہبی وجوہات کی بنا پر یا محض ذاتی ترجیح کے طور پر پردے پر مشتمل ہوتا ہے۔

اس طرح مجھے موقع ملا کہ جیسی میں ہوں، ویسی رہوں۔ بالکل خام (غالباً نایاب) تجربہ جسے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے بہت سے لوگ محسوس نہیں کرتے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مسلمان خاتون کے طورپر دیکھا جانا اور قبول کیا جانا اچھا لگتا ہے۔ ہم خود کو پوشیدہ محسوس کرنے کے بہت عادی تھے۔

کئی سال تک میں نے اپنی شاعری اور پورٹریٹ شیئر کیے اور اب میرے فالورز کی تعداد 30 ہزار سے زیادہ ہے۔ اس طرح مجھے مصنف اور تخلیق کار خاتون کے طور پر کام کو وسعت دینے کا موقع ملا۔

مجھے مختلف فیشن برانڈز کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جو سادہ فیشن پر کام کرتے ہیں اور ان تصاویر کے لیے ادائیگی کرتے ہیں جو میں تیار کرتی ہوں۔ میرے تصویری کیپشن اکثر شاعرانہ ہوتے ہیں۔ تصویریں میرے لکھے ہوئے الفاظ کی ترجمانی کرتی ہیں۔

انسٹاگرام پلیٹ فارم نے ذرائع ابلاغ کی صنعت میں آگے جانے میں بھی میری مدد کی- یہ اس تمام محنت کا ایک ’ورچوئل منی پورٹ فولیو‘ بن گیا ہے, جو میں نے کئی سال کے دوران کی۔ میں اپنا پلیٹ فارم بھرتی کرنے والوں کے ساتھ شیئر کرنے اور کام تلاش کرنے کے لیے بطور سپرنگ بورڈ استعمال کرنے کے قابل تھی۔

میرا یہ بھی خیال ہے کہ میرا پلیٹ فارم اس بات کی چھوٹی سے عکاسی ہے کہ میں کون ہوں۔ مان لیا یہ میری زندگی کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے لیکن پھر بھی یہ میرا حصہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسے مکمل طور پر کھو دینا تباہ کن ہو گا۔ یہ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسٹاگرام کے کمزور پہلو نہیں ہیں۔ اس کے (قابل اعتراض طور پر ناروا) سیلفی فلٹرز اورخوبصورتی کے ناگوار معیارات جن کی اکثر ان پلیٹ فارم پر بھرمار نظر آتی ہے۔

18 سال سے کم عمر کے افراد کی طرف سے سوشل میڈیا کے استعمال (جس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے) کو ڈپریشن اور خودکشی سے جوڑا گیا ہے۔ صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے ’ہیلتھ ایشورڈ‘ کے مطابق نوجوان لوگ کہتے ہیں کہ پانچ میں سے چار بڑے سوشل پلیٹ فارمز ’ان کی پریشانیوں کو مزید بگاڑتے ہیں۔‘

یہ واضح ہے کہ ان پلیٹ فارمز پرموجود لوگوں خاص طور پر نوجوان نسل کے تحفظ کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

میٹا جیسے بڑے پلیٹ فارمز جنہیں عام طور پر فیس بک کے نام سے جانا جاتا ہے کو بھی صارفین کو بدسلوکی اور غنڈہ گردی سے بچانے اور ان کی حفاظت پرغور کرنے کی ضرورت ہے۔ رازداری کی کمی سمیت سینسرشپ کے مسائل (یا اس کی کمی) کی وجہ سے ماضی میں پلیٹ فارم پر غصے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

لیکن میں پوری شدت سے محسوس کرتی ہوں کہ ہمیں ان پلیٹ فارمز پر ہونے والے اچھے کاموں کے بارے میں لازمی طور پر غور کرنا ہوگا۔ ان میں سے بہت سے پلیٹ فارمز کے پیچھے حقیقی لوگ موجود ہیں، حقیقی کہانیوں کے ساتھ، جو سرگرم رہنے، مثبت سوچ، سچ اور اپنے آپ پر یقین کا درس دیتے ہیں۔ ’چُوز لو‘ نامی تنظیم اس کی محض ایک مثال ہے۔

’چوز لو‘ ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جس کا کام عالمی سطح پر بے گھر ہونے پناہ گزینوں کی مدد کرنا ہے۔ اس کا انسٹاگرام پلیٹ فارم امید افزا تصاویر اور فنڈ جمع کرنے کی مہمات سے بھرا ہوا ہے تاکہ ان لوگوں کی مدد کی جاسکے جو ضرورت مند ہیں۔

آپ عدم اتفاق کر سکتے ہیں لیکن میں کہوں گی کہ انسٹاگرام اور فیس بک کے بغیر دنیا وہ کڑوی گولی ہوگی جسے نگلنا بہت مشکل ہوگا۔ بس اتنا کہتی ہوں: ’مجھے اس کی کمی محسوس ہو گی۔ کیا آپ کو نہیں ہوگی؟‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی