ماشاء اللہ، سبحان اللہ کہنا تو ہراسانی نہیں

اللہ جانے یہ سڑکوں پر راہ چلتی خواتین کو مختلف طریقوں سے تنگ کرتے لوگ کون ہیں اور ان کی تربیت کہاں ہوتی ہے؟

(اے ایف پی)

دادا مرحوم جماعتِ اسلامی کے سرگرم کارکن تھے۔ ان کے کمرے میں ایک الماری دینی کتب اور جماعت کے لٹریچر سے بھری ہوئی تھی۔ الماری کے بالکل ساتھ ایک بڑا سا صوفہ پڑا ہوتا تھا جس پر لیٹ کر آرام سے کتابیں پڑھی جا سکتی تھیں۔ دادا کی طرف جب بھی جانا ہوتا ہم کوئی نہ کوئی کتاب نکال کر صوفے پر پڑ جاتے اور کچھ سمجھ میں آتا یا نہ آتا صفحے پر صفحے پڑھتے رہتے۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم، بہشتی زیور اور تفسیرِ قرآن انہی دنوں میں پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

دادا کے گھر روزانہ تین چار اردو اخبارات بھی آیا کرتے تھے۔ ہم ہفتے بعد جاتے تو تمام سنڈے میگزین ساتھ لے آتے اور پورا ہفتہ ان کا مطالعہ کرتے۔ ایسے ہی کسی روز دادا کی الماری سے ایک وظائف کی کتاب دریافت کی۔ کتاب کے ہر صفحے پر ایک وظیفہ اور اس کے نیچے اسے پڑھنے کا طریقہ اور ثواب کی تفصیل درج تھی۔ چھوٹے چھوٹے کلمات  جیسے کہ سبحان اللہ، الحمداللہ اور اللہ اکبر کہنے کا ہی اتنا ثواب ہے کہ شمار نہیں۔

ہمارے دین کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ ثواب کمانے کے لیے ہَل نہیں جوتنے پڑتے۔ ایک ذرا سا نیک عمل یا ایک کلمہ ہی انسان کے کئی سالوں کے گناہ معاف کروا دیتا ہے۔ دینی کتب تو ویسے بھی ہمارے ہر گلی کوچے میں باآسانی دستیاب ہیں۔ ہم ایسی کاہل قوم ویسے بھی شارٹ کٹ کے چکر میں لگی رہتی ہے۔ کون لمبے لمبے وظائف کرے، کسی کے ساتھ نرمی سے بات کرے، کسی کا حق ادا کرے، جھوٹ نہ بولے ہم چھوٹے چھوٹے وظائف کا ہی ورد کر کے جنت کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کی جتنی استطاعت۔ ہم نے ثواب کمانے کا یہ آسان طریقہ کچھ ایسے استعمال کرنا شروع کر دیا کہ فرشتے بھی پریشان ہیں کہ اسے نیک اعمال کے رجسٹر میں لکھوں یا بد اعمال کے رجسٹر میں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سب سے بڑی مثال ماشاءاللہ اور سبحان اللہ جیسے کلمات کی ہے۔ ان کلمات کا مقصد اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنا اور اس کی تعریف کرنا ہے۔ کسی بھی خوبصورت چیز یا احسن طریقے سے کسی عمل کو ہوتا دیکھ کر یہ کلمات کہے جاتے ہیں۔

ہم ان کلمات کا سب سے زیادہ استعمال اپنی سڑکوں پر کرتے ہیں۔ راہ چلتے کوئی خاتون نظر آ جائیں تو ان کے پاس سے گزرتے ہوئے دھیمے لہجے میں ماشاءاللہ یا سبحان اللہ کہتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ ان الفاظ کو کتنا لمبا کھینچا جائے گا، یہ خاتون کی اور اپنی رفتار کے علاوہ اپنی ڈھٹائی پر بھی انحصار کرتا ہے۔ یہ تو چلتے پھرتے ثواب کما لیتے ہیں، وہ بے چاری غصے اور بے بسی کے ساتھ سر جھکائے آگے چل پڑتی ہے۔ دل اور روح کو تسکین پہنچانے والے یہ کلمات ایسی حالت میں پگھلے ہوئے سیسے کی مانند محسوس ہوتے ہیں۔

اس میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ پلٹ کر ماشاء اللہ کہنے والے کو کچھ کہا بھی نہیں جا سکتا۔ اگر اسے روک کر دو چار باتیں سنا بھی دی جائیں تو وہ آگے سے کہہ سکتا ہے کہ ’میں نے آپ کو کیا کہا ہے یا میں تو صرف مقدس الفاظ کا ورد کر رہا تھا یا ماشاء اللہ کہنا کب سے ہراسانی میں شمار ہونے لگا؟‘

ہراسانی کو ثابت کرنا ویسے بھی مشکل کام ہے خاص طور پر ہمارے معاشرے میں جہاں خواتین کو ہی اپنے ساتھ ہونے والی ہراسانی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ اگر یہ ہراسانی مذہب کے تڑکے کے ساتھ ہو رہی ہو تو ثبوت دینا تو کجا الزام لگانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

ماشاء اللہ اور سبحان اللہ کے یہ ورد سنتے سنتے ہماری لڑکیاں سکولوں سے کالجوں اور وہاں سے یونیورسٹی تک پہنچ گئیں لیکن یہ ’کلچر‘ ابھی تک تبدیل نہیں ہوا۔ مزے کی بات یہ کہ آپ کسی لڑکے سے پوچھ لیں کہ تم نے کبھی کسی لڑکی کو ایسے کچھ کہا ہے تو وہ فوراً کانوں کو ہاتھ لگاتا اٹھ کھڑا ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ آپ کو چند صلوٰاتیں بھی سنا دے کہ آپ نے اس کے متعلق ایسا سوچنے کی جرات بھی کیسے کی۔

اب اللہ جانے یہ سڑکوں پر راہ چلتی خواتین کو مختلف طریقوں سے تنگ کرتے لوگ کون ہیں اور ان کی تربیت کہاں ہوتی ہے۔

برسوں پہلے لاہور کے قریب ایک ریزورٹ میں جانے کا موقع ملا۔ اندر جگہ جگہ خواتین کے احترام سے متعلق نوٹس لگے ہوئے تھے۔ واضح لکھا تھا کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں سختی سے نمٹا جائے گا۔ اس دن وہاں درجنوں خاندان موجود تھے۔ لڑکیاں بے فکری سے ادھر ادھر ٹہل رہی تھیں۔ ان کے انداز میں آزادی تھی، بے فکری تھی جو مجھے بہت اچھی لگی۔ کاش پورے پاکستان کا ماحول ہی ایسا ہو جائے۔ ہماری خواتین بھی مکمل اعتماد کے ساتھ سڑکوں پر چل سکیں اور ان کے پاس سے گزرتے ہوئے کوئی ان کے کان میں چپکے سے ماشاء اللہ نہ کہہ سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ