روس یوکرین جنگ : پاکستان کی 15 ٹن امداد روانہ

پاکستان کی جانب سے یوکرین بھیجے جانے والے امدادی سامان میں جان بچانے والی ادویات، طبی آلات، رضائیاں، کمبل اور کھانے کی اشیا شامل تھیں۔

پاکستان نے یوکرین میں جنگ سے متاثرہ افراد کے لیے اسلام آباد کے نور خان ہوائی اڈے سے 15 ٹن امدادی سامان روانہ کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک ویڈیو جاری کی جس میں انسانی امداد کو ’یوکرین کی حکومت کی درخواست پر‘ ڈبوں میں بند کر کے روانہ کیے جانے کے مناظر ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق نور خان ایئر بیس پر امدادی سامان کو یوکرینی سفیر کے حوالے کیا گیا اور اس موقع پر پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی موجود تھے۔

اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی حکومت وزیراعظم اور پاکستانی عوام اس اقدام کے ذریعے اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بھولے نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آپ مشکل صورتحال میں ہیں۔ یہ عاجزانہ امداد ہماری فکر کی عکاس ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ ضرورت مندوں تک جلد از جلد پہنچ جائے گی۔‘

تفصیلات کے مطابق امدادی سامان میں جان بچانے والی ادویات، طبی آلات، رضائیاں، کمبل اور کھانے کی اشیا شامل تھیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری مزید تفصیلات کے مطابق 15 ٹن وزنی امدادی سامان سی ون تھرٹی کی دو خصوصی پروازوں کے ذریعے پولینڈ کے شہر وارسا پہنچایا جائے گا جہاں سے اسے یوکرین منتقل کیا جائے گا۔


روس کے مطالبات اب ’زیادہ حقیقت پسندانہ‘ ہیں: یوکرینی صدر

 

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے حوالے سے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ روس کے مطالبات ’زیادہ حقیقت پسندانہ‘ ہوتے جا رہے ہیں۔

بدھ کی صبح انہوں نے قوم سے ایک ویڈیو خطاب میں کہا کہ کریملن کے ساتھ بات چیت کے لیے مزید وقت درکار ہے جو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہو رہے ہیں۔

زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ’ابھی بھی مزید کوششوں اور صبر کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی جنگ ایک معاہدے کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔‘

زیلنسکی، جو آج (بدھ کو) امریکی کانگریس سے خطاب کرنے والے ہیں، نے صدر جو بائیڈن اور یوکرین کے تمام دوستوں کا شکریہ ادا کیا جو 13.6 ارب ڈالر کی نئی امداد یوکرین بھیج رہے ہیں۔

انہوں نے روس کو سزا دینے کے لیے کیئف کو مزید ہتھیاروں اور ماسکو پر مزید پابندیوں کی اپیل کی اور روسی میزائلوں اور طیاروں کو روکنے کے لیے یوکرین میں ’نو فلائی زون‘ قائم کرنے کے اپنے مطالبے کو دہرایا۔

انہوں نے کہا کہ منگل کے روز روسی افواج یوکرین کے علاقے میں مزید اندر تک گھسنے میں ناکام رہی جو شہروں پر اپنی شدید گولہ باری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ روز تقریباً  29 ہزار شہری نو انسانی راہداریوں کے ذریعے جنگ زدہ علاقوں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں تاہم روسیوں نے محاصرے کا سامنا کرنے والے ساحلی شہر ماریوپول میں امداد کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔


روس نے ماریوپول کے ہسپتال میں 500 افراد کو یرغمال بنا لیا

یوکرین کے رہنما پاولو کیریلینکو نے کہا کہ روسی فوجیوں نے ماریوپول میں ایک ہسپتال پر قبضہ کر لیا اور منگل شب جنوبی ساحلی شہر پر ایک اور حملے کے دوران تقریباً 500 افراد کو یرغمال بنا لیا۔

کیریلینکو نے میسجنگ ایپ ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ روسی فوجیوں نے قریبی گھروں سے 400 افراد کو نکال کر انتہائی نگہداشت کے ہسپتال پہنچا کر انہیں یرغمال بنایا جہاں تقریباً 100 ڈاکٹر اور مریض پہلے سے موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’روسی فوجی ہسپتال کے اندر موجود افراد کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور کسی کو باہر جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیریلینکو نے کہا کہ ’ہسپتال سے نکلنا ناممکن ہے اور وہ ایسا کرنے والوں کو گولی مار رہے ہیں۔‘

کیریلینکو نے کہا کہ ’گولہ باری سے ہسپتال کی مرکزی عمارت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے تاہم طبی عملہ تہہ خانے میں قائم عارضی وارڈوں میں مریضوں کا علاج جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

انہوں نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ ’جنگ کے قانون کی سنگین خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف ان سنگین جرائم‘ کا نوٹس لیں۔


امریکہ آج یوکرین کے لیے 80 کروڑ ڈالر کی نئی امداد کا اعلان کرے گا

صدر جو بائیڈن بدھ کو یوکرین کے لیے 80 کروڑ ڈالر کی نئی فوجی امداد فراہم کرنے کا اعلان کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق توقع ہے کہ بائیڈن یوکرین کی صورتحال پر تقریر کے دوران اس امداد کی تفصیل بتائیں گے۔

یہ رقم 13.6 ارب ڈالر کی اضافی فوجی اور انسانی امداد میں شامل ہے جو یوکرین کے لیے امریکی بجٹ میں مختص کی گئی۔


یوکرین کا خارکیف میں روسی حملہ پسپا کرنے کا دعویٰ

یوکرین کی افواج نے منگل کی شب روسی فوجیوں کے خارکیف پر حملے کو پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

روسی فوج نے شمال کی طرف 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک مضافاتی علاقے میں قائم اپنی پوزیشنوں سے شہر پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

یوکرینی حکام نے میسجنگ ایپ ٹیلی گرام پر بتایا کہ یوکرین کی فوج ’دشمن کو اس کی سابقہ پوزیشن سے پیچھے دھکیلنے میں کامیاب رہی۔‘ انہوں نے اسے روس کے لیے ’شرمناک شکست‘ قرار دیا۔

تاہم اس جھڑپ میں دونوں طرف سے جانی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔


امریکی سینیٹ کی روس کے خلاف قرارداد منظور

امریکی سینیٹ نے روس کے صدر ولادی میر پوتن اور ان کی حکومت سے یوکرین پر حملے کے لیے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔

منگل کی شب امریکی سینیٹرز نے قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ روسی ’تشدد اور جنگی جرائم‘ کی شدید مذمت کرتی ہے۔ روسی فوجی دستے انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

سینیٹ کی قرار داد میں مزید کہا گیا کہ امریکہ پوتن اور ان کی سلامتی کونسل اور فوجی رہنماؤں کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔


یوکرینی فوجیوں کی آخری رسومات

مغربی یوکرین کے یاوریو میں ایک تربیتی اڈے پر روسی حملے میں ہلاک ہونے والے چار یوکرینی فوجیوں کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔ اتوار کو ہونے والے اس حملے میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہوئے تھے۔


ماسکو کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی: یوکرین

یوکرائن کے ایک اعلیٰ مذاکرات کار کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ بات چیت بدھ کو بھی جاری رہے گی۔

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی کے مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے کہا کہ مذاکرات میں ’بنیادی تضادات ہیں لیکن اس میں یقینا سمجھوتے کی گنجائش موجود ہے۔‘

رواں ہفتے ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والی بات چیت بیلاروس میں مذاکرات کے تین دور کے بعد ہوئی ہے جس میں اب تک کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

روسی اور یوکرین دونوں مذاکرات کاروں نے امید کا اظہار کیا ہے لیکن بات چیت کی کوئی تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔


20 ہزار مزید افراد کا ماریوپول سے انخلا

 یوکرین کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ تقریباً 20 ہزار مزید افراد جنگ زدہ شہر چھوڑنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

زیلینسکی کے دفتر کے نائب سربراہ کیریلو تیموشینکو نے بتایا کہ یہ افراد منگل کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قائم راہداری سے نجی گاڑیوں  ذریعے ماریوپول سے روانہ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ شہر سے نکلنے والی تقریباً چار ہزار گاڑیاں ماریوپول سے 260 کلومیٹر دور زیپوریزیزیہ شہر پہنچ چکی ہیں جب کہ دیگر راستے میں مختلف قصبوں میں رات گزاریں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا