’میرا پاکستان میرا گھر‘: کیا عام آدمی کا اپنا گھر بن پائے گا؟

پاکستان میں اپنا گھر بنانا ہر پاکستانی کا خواب ہے اور اس سلسلے میں رہنمائی کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کمرشل بینکوں کے ساتھ مل کر فیصل آباد میں ’میرا پاکستان میرا گھر‘ پروگرام کے تحت ایک میلے کا انعقاد کیا۔

پاکستان میں اپنا گھر بنانا ہر پاکستانی کا خواب ہے لیکن تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے یہ خواب مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں شہریوں کی مالی معاونت اور رہنمائی کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کمرشل بینکوں کے ساتھ مل کر فیصل آباد میں ’میرا پاکستان میرا گھر‘ پروگرام کے تحت ایک میلے کا انعقاد کیا۔

اس میلے میں مختلف کمرشل بینکوں، ڈویلپرز اور کنٹریکٹرز کی طرف سے سٹالز لگائے گئے تھے۔

بینکوں کی طرف سے موقع پر ہی شہریوں سے درخواستیں وصول کرکے انہیں قرض کی ادائیگی کے حوالے سے منظوری کے خطوط جاری کیے گئے جبکہ ڈویلپرز اور کنٹریکٹرز کی طرف سے بھی گھر خرید کر یا بنا کر دینے کے معاہدے کیے گئے۔

اس میلے میں شریک ایک شہری نوید احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب حکومت نے پہلی دفعہ گھر بنا کر دینے کے لیے درخواستیں مانگی تھیں تو انہوں نے اس وقت درخواست دی تھی لیکن انہیں ابھی تک کوئی رسپانس نہیں آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’اب لاگت یا لیبر کے اخراجات میں تقریباً 40 فیصد سے زائد فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ ابھی دو ماہ پہلے ایک دوست نے 625 روپے میں سیمنٹ کی بوری خریدی تھی، کل وہ بتا رہا تھا کہ اب بوری 890 روپے کی ہو گئی ہے۔ اس طرح روزانہ کی بنیاد پر ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ کسی نے کیا پلاٹ لینا ہے اور کیا گھر بنانا ہے۔‘

بقول نوید احمد: ’آج سے تقریباً دو سال قبل جو گھر 70 لاکھ روپے کا تھا، وہ اب ایک کروڑ دس، پندرہ لاکھ روپے کا ہے۔ اتنا زیادہ فرق آ گیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی میلے میں شریک ایک اور شہری غلام سرور پنوں نے بتایا کہ وہ کئی سالوں سے کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں اور ابھی تک اپنا گھر بنانے کا خواب پورا نہیں کر سکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم گھر لینے کے لیے آئے ہیں۔ پانچ مرلے کا گھر کہ چلو زیادہ نہیں تو پانچ مرلے کا گھر تو ہونا چاہیے انسان کے لیے۔‘

انہوں نے بتایا کہ انہیں جب سے یہ پتہ چلا ہے کہ حکومت گھر خریدنے یا بنانے کے لیے قرض دے رہی ہے وہ تب سے بینکوں کے چکر لگا رہے ہیں۔

’کسی بینک نے قرض نہیں دیا۔ کچھ کہہ دیتے ہیں کہ آپ کی عمر زیادہ ہو گئی ہے جبکہ کوئی کہہ دیتا ہے کہ اپنی بینک سٹیٹمنٹ لائیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ ذاتی کاروبار کرتے ہیں، جس کی ماہانہ آمدن ایک لاکھ روپے سے کم ہے اور اس سے ان کے ماہانہ اخراجات بمشکل ہی پورے ہوتے ہیں۔

غلام سرور نے مزید بتایا کہ وہ جس مکان میں رہائش پذیر ہیں، اس کا کرایہ 45 ہزار روپے ہے۔ ’میرا خیال تھا کہ چلو 50 ہزار بھی قسط دے دیں تو اپنا گھر بن جائے گا، لیکن قیمتیں دگنی ہوگئی ہیں۔ اب تو ملازم آدمی یا چھوٹا موٹا کاروباری آدمی گھر بنا ہی نہیں سکتا۔ بیشک پانچ مرلے کا ہی کیوں نہ بنانا ہو۔‘

اس حوالے سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ثمر حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کمرشل بینک شہریوں کو گھر خریدنے یا بنانے کے لیے جو قرض دے رہے ہیں، اس کا اوسط حجم 33 سے 35 لاکھ روپے ہے لیکن قرض لینے کی جو انتہائی حد ہے وہ ایک کروڑ روپے تک ہے۔‘

’ایک کروڑ روپے میں یہ تمام قیمتیں بڑھنے کے باوجود ایک گھر بن سکتا ہے۔ ایک گھر خریدا جا سکتا ہے، بنایا جا سکتا ہے لیکن ضروریات کے مطابق جس کے پاس کوئی گھر موجود نہیں ہے، اس کے لیے کافی ہے۔‘

ثمر حسین کے مطابق: ’ماڈل گھر 100 گز پر بنا ہوا ہے، اس کے اندر ایک ماسٹر بیڈ، ایک بچوں کا بیڈروم، ایک کچن اور باتھ روم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب بھی یہ ممکن ہے کہ لوگ بینک سے قرض لے کر اپنا گھر بنا سکتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس وقت بینک مجموعی طور پر ہر ہفتے ساڑھے چار ارب روپے کے قرض کی درخواستوں کی منظوری دے رہے ہیں اور ڈھائی سے تین ارب روپے تقسیم کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جن کے پاس کسی قسم کی بینک سٹیٹمنٹ موجود نہیں ہے یا ان کے پاس بینک اکاؤنٹ ہی نہیں ہے اور ان کے پاس کوئی ملازمت بھی نہیں ہے، وہ بھی اس سکیم کے تحت قرض حاصل کر سکتے ہیں۔‘

’اگر آپ کا ٹھیلہ ہے یا فرض کریں کہ آپ کی ایک پنکچر کی دکان ہے تو آپ کہاں سے سیلری سرٹیفکیٹ یا بینک سٹیٹمنٹ لائیں گے۔ ایسے افراد کے لیے بھی اس سکیم کے اندر سہولت پیدا کی گئی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’سٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کی مدد سے ایک سکور کارڈ بنایا ہے، جس میں ایسے لوگوں کے اخراجات کے نمبرز ڈالے جاتے ہیں یعنی یہ کہ وہ کرایہ کتنا ادا کرتے ہیں، بچوں کی فیس کتنی دیتے ہیں، ماہانہ موبائل کا ٹاپ اپ کتنا کرواتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔‘

’ان تمام چیزوں کے نمبرز کو لے کر ایک کمپیوٹر سسٹم بنایا گیا ہے۔ ایک ماڈل بنایا گیا ہے جو تمام بینکوں کے پاس دستیاب ہے۔ وہ یہ نمبرز سسٹم میں ڈالتے ہیں کہ اس آدمی کے اگر خرچے اتنے ہیں تو اس کی آمدن کتنی ہونی چاہیے۔ پھر اس انکم کو لے کر بینک قسطیں بنا لیتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ’اس وقت بینک اگرچہ کم تعداد میں ہی سہی لیکن ایسے درخواست گزاروں کو قرض دے رہے ہیں اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔‘

ثمر حسین کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ’میرا پاکستان میرا گھر‘ سکیم کے تحت میلے کا انعقاد کیا ہی اس لیے ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سکیم کے فوائد سے آگاہی دی جاسکے کیونکہ ’سٹیٹ بینک کو پتہ ہے کہ لوگوں کو اس بارے میں پتہ نہیں ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا