دو دن میں تحریکِ انصاف کے تین ارکان کو الیکشن کمیشن کے نوٹس

دو دنوں کے دوران الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کےچیئرمین عمران خان سمیت تین ارکان کو نوٹس بھیجے گئے ہیں۔

(اے ایف پی)

گذشتہ روز پاکستان الیکشن کمیشن نے وزیرِ اعظم عمران خان کو ایک نوٹس بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے گھوٹکی کا دورہ کر کے انتخابی قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔

آج خیبر پختونخوا میں الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ محمود خان کو بھی ایک انتباہ جاری کیا ہے جس میں انہیں قبائلی اضلاع میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

صوبائی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اس تحریری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے جمعرات کو پشاور کے چیف منسٹر ہاؤس میں قبائلی جوانوں میں بلاسود قرضوں کے خط تقسیم کیے۔

اس خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی 16 نشستوں پر 20 جولائی کو ہونے والے انتخابات سے پہلے ہر قسم کے ترقیاتی کام پر پابندی عائد کی تھی اس لیے صوبائی حکومت کو الیکشن کے انعقاد تک اس قسم کے کسی پروگرام یا کام پرعمل سے گریز کرنا چاہیے تھا لیکن صوبائی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت نے ایسے اقدامات ترک نہ کیے جو صوبائی اسمبلی کے آنے والے انتخابات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں تو اس کے خلاف معاملہ مزید کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس لے جایا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل گذشتہ روز الیکشن کمیشن نے وزیرِ اعظم عمران خان کو بھی شو کاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر وضاحت پیش کریں کہ انہوں نے سندھ کے علاقے گھوٹکی کا دورہ کیوں کیا۔

یاد رہے کہ گھوٹکی میں 18 جولائی کو قومی اسمبلی کے حلقہ 205 میں ضمنی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں اور الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق اس دوران وہاں حکومتی اہلکار دورہ نہیں کر سکتے۔

وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق نے ایک ٹویٹ میں الیکشن کمیشن کے نوٹس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم گھوٹکی اپنی کابینہ کے سابق رکن کے انتقال کی تعزیت پر گئے تھے۔

اس کے علاوہ گذشتہ روز ہی الیکشن کمیشن نے اسی قسم کا ایک انتباہ صوبے کے سینیئر وزیر عاطف خان کو بھی جاری کیا ہے جس میں انہیں انتخابات سے قبل سیاحتی مقامات کے کھولنے کے اعلان سے منع کیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست