ہنزہ میں پل ٹوٹنے کے بعد بحالی کی سرگرمیاں جاری: وزیر اعلی

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حسن آباد نالے پر متبادل پل نصب کرنے کے لیے ٹیمیں جائزہ لے رہی ہیں۔

گلگت بلتستان میں شیشپر گلیشیئر کی جھیل پھٹنے سے پیدا ہونے والی طغیانی سے مکانات اور حسن آباد پل بہہ جانے کے بعد اتوار کو علاقے میں انتظامیہ کی بحالی کی سرگرمیاں جاری ہیں اور متبادل پل بنانے کے کام کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے ہنزہ آنے جانے کے لیے بڑی گاڑیوں پر پابندی عائد کردی ہے اور متبادل روٹ سے صرف چھوٹی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق پولیس کی بھاری نفری متبادل روٹ پر تعینات کردی گئی ہے اور ہنزہ میں سیاحوں کو 30 لیٹر تک پیٹرول یا ڈیزل دیا جائے گا۔ گذتشہ روز جھیل کے پھٹنے کے بعد حسن آباد نالے میں سیلابی ریلے سے حسن آباد پل ٹوٹ گیا تھا۔

اس کے بعد شاہراہ قراقرم کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اس سے مصنوعات کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث ہنزہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ 

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حسن آباد نالے پر متبادل پل نصب کرنے کے لیے ٹیمیں جائزہ لے رہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے ایک بیان میں کہا کہ شیشپر گلیشیئر پگھلنے سے جھیل میں پانی کے اخراج میں تیزی پیدا ہوئی اور یہی چیز تباہی کا سبب بنی۔ اس کے بعد  کےانتظامیہ و دیگر تمام متعلقہ اداروں کو فوری ایکشن کا حکم دے دیا گیا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں کہا گیا کہ انتظامیہ و محکمہ تعمیرات کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ضلع نگر سے متبادل سڑک پر ٹریفک کی آمد و رفت یقینی بنائیں اور حسن آباد میں متبادل عارضی پل کی فوری تعمیر پر کام کریں۔ وزیراعلیٰ کا بیان میں کہنا تھا کہ انہوں نے محکمہ سیاحت اور ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ سیاحوں کی مدد میں پیش پیش ہوں اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کریں۔  

اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے ریسکیو 1222 کو بھی ہائی الرٹ رہنے کا حکم جاری کیا ہے۔ 

انہوں نے انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کو متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں تمام اہم پلوں کا بھی جائزہ لینے کا حکم دیا ہے تاکہ کسی ہنگامی صورت حال کے لیے تیار رہا جائے۔ 

اس کے علاوہ وزیراعلیٰ خالد خورشید کے ہدایات کے مطابق پیر کو چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) حسن آباد نالے کا دورے کریں گے اور منہدم پل سمیت دیگر نقصانات کا جائزہ لیں گے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ سے دو ماہ سے پاکستان میں غیرمعمولی گرم موسم اس سیلابی کیفیت کی وجہ ہوسکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے ایک ماہانہ جائزے میں کہا گیا ہے کہ ’مارچ 2022 کا مہینہ 1961 سے لے کر اب تک کا گرم ترین مہینہ تھا۔‘ اس کے علاوہ گذشتہ ماہ ملک میں بارشیں بھی معمول سے 62 فیصد کم تھیں۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے ایک ٹویٹ میں یاد دلایا کہ ان کی وزارت نے چند روز قبل خبردار کیا تھا کہ گرم موسم کی وجہ سے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں کئی خطرناک علاقے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے رہائشی انتظامیہ پر تنقید کر رہے ہیں اور واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

روشن دن دیا میری نے کہا کہ علاقے می 300 سے زائد گلیشیئر جھیلیں ہیں اور ایک کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے کہ جو آگے کا لائحہ عمل تیار کرے۔

آصف کھوجا نے کہا کہ سیلابی نالوں کے راستے میں گھر بنائیں گے تو یہی ہوگا۔

اشتیاق برچہ نے لکھا کہ نقصان کی وجہ اداروں میں کرپشن ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات