گلگت گلیشیئر برسٹ: پل ٹوٹ گیا، شاہراہ قراقرم ٹریفک کے لیے بند

حکام کا کہنا ہے کہ مکانات کے نقصانات کا درست اندازہ اتوار کی صبح لگایا جائے گا۔

سیلاب سے ہنزہ کو گلگت سے ملانے والے حسن آباد پل کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ  قریبی درجن بھر مکان بھی اس کی زد میں آئے ہیں(تصویر: ٹورسٹ پولیس گلگت) 

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ میں حکام کا کہنا ہے کہ شسپر گلیشئر پگھلنے کے نتیجے میں سیلاب سے حسن آباد پل کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ  قریبی درجن بھر مکان بھی اس کی زد میں آئے ہیں۔

چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کے دفتر کے مطابق سے جاری ایک بیان کے مطابق طغیانی کے باعث حسن آباد ہنزہ میں قراقرم ہائے وے پر ٹریفک معطل ہے۔ حکام نے مقامی آبادی کو غیر ضروری نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے کہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مکانات کے نقصانات کا درست اندازہ اتوار کی صبح میں لگایا جائے گا۔ متاثرہ خاندانوں کو موسم سرما کے خیموں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور انہیں راشن، پانی اور ایندھن فراہم کیا گیا ہے۔

حسن آباد پل آؤٹ برسٹ کی رفتار اور حجم کی وجہ سے گر گیا۔ سائٹ پر کام کرنے والے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ زیادہ رفتار اور سیلاب کے زیادہ حجم کی وجہ سے ہوا۔ اس پل کے علاوہ اس کے دو چھوٹے ہائیڈرو پاور پلانٹس بھی بہہ گئے ہیں۔

چیف سیکرٹری گلگت بلتستان محی الدین وانی نے اقبال حسین ہوم سیکرٹری، کمشنر گلگت، ڈی آئی جی گلگت، ڈی سی ہنزہ اور دیگر حکام کے ہمراہ شسپر کے حوالے سے ردعمل اور انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے علاقے کا دورہ کیا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق تمام ممکنہ متاثرہ گھرانوں کو پہلے سے خبردار کیا گیا اور بروقت وہاں سے نکالا گیا جس کی وجہ سے کوئی انسانی جانی نقصان نہیں ہوا۔ شیرآباد میں ایک جماعت خانہ کا کمپاؤنڈ اور آس پاس کے 13 مکانات کو جزوی یا مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے۔

متبادل راستے پر ٹریفک کی روانی کو منظم کیا گیا ہے اور چھوٹی گاڑیوں کے متبادل راستے کو شہر مرتضیٰ آباد سے گنیش تک ریگولیٹ کیا جا رہا ہے۔ تاہم بھاری گاڑیاں مرتضیٰ آباد سے آگے نہیں بڑھ سکتیں ہیں۔ ہائی ٹریفک کے لیے متبادل راستے کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ متبادل راستے کے دونوں سروں پر پولیس اور ٹریفک پولیس 24 گھنٹے تعینات ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہوٹل ایسوسی ایشن ہنزہ میں پھنسے ہوئے سیاحوں اور لوگوں کی مدد کے لیے مصروف ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے پٹرول پمپس پر ایندھن کی ریگولیشن کی جا رہی ہے اور سیاحوں کو صرف 30 لیٹر ایندھن دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور دیگر خوردنی اشیا کے لیے سپلائی چین، چھوٹے مزدا اور چھوٹے ٹرکوں کے ذریعے قائم کی جائے گی تاکہ وہ شیار سے گنیش تک جا سکیں۔

مقامی حکام کے مطابق سیلاب کا بہاؤ اب کم ہو گیا ہے اور نقصان کا تخمینہ جلد ہی شروع ہو جائے گا۔ شیرآباد گاؤں میں ایک ٹینٹ ویلج بھی لگایا جا رہا ہے۔ حسن آباد نالے پر ہائڈرو پلانٹ ٹو اور تھری مکمل طور پر بہہ گئے ہیں۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ دو ماہ سے پاکستان میں غیرمعمولی گرم موسم اس سیلابی کیفیت کی وجہ ہوسکتی ہے۔ 

محکمہ موسمیات کے ایک ماہانہ جائزے میں کہا گیا ہے کہ ’مارچ 2022 کا مہینہ 1961 سے لے کر اب تک کا گرم ترین مہینہ تھا۔‘ اس کے علاوہ گذشتہ ماہ ملک میں بارشیں بھی معمول سے 62 فیصد کم تھیں۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے ایک ٹویٹ میں یاد دلایا کہ ان کی وزارت نے چند روز قبل خبردار کیا تھا کہ گرم موسم کی وجہ سے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں کئی خطرناک علاقے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان قطبین کے بعد سب سے زیادہ گلیشئر والی سر زمین ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ خطہ اس طرح کی غیر معمولی موسمیاتی تبدیلی سے سب زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔

  ڈائریکٹر اکیڈمکس اور ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ بلتستان یونیورسٹی ڈاکٹر ذاکرحسین ذاکر اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ گلیشئرز نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے پیمانے  ہیں بلکہ ان تبدیلیوں  کو کافی حد تک قابو میں رکھنے کے قدرتی وسائل اور ذرائع بھی ہیں۔ تاہم  اگر اس طرح کی موسمیاتی تبدیلیاں ایک حد سے زیادہ ہو تو پھر ان کو قابو کرنا گلیشئرز کی بس سے باہر ہو سکتا ہے، ایسے میں گلیشئرز اِ ن تبدیلیوں سے ہونے والی تباہ کاریوں میں خود بھی شریک ہوتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان