کمیونٹی ریڈیو سٹیشنز اپنی اہمیت کیوں کھو بیٹھے؟

کمیونٹی ریڈیو میں ہر علاقے کی مقامی زبان استعمال کی جاتی ہے، جس کی آواز اس علاقے کے ایک بڑے حصے تک پہنچتی ہے اور جسے عام طور پر خود اسی کمیونٹی کے رضاکاروں کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔

 کمیونٹی ریڈیو سٹیشنز کے ذریعے کسی علاقے کے مسائل اور معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کی رائے لی جاتی ہے یا کسی اہم تقریب یا مہم کے حوالے سے عوام کو مطلع کیا جاتا ہے (فوٹو: سکرین گریب/ انڈپینڈنٹ اردو)

ایک زمانہ تھا جب ریڈیو کو بہت شوق سے سنا جاتا تھا، لوگ کام کاج کے دوران، سفر کرتے ہوئے یا فارغ اوقات میں نہ صرف ریڈیو سنتے تھے، بلکہ مختلف پروگراموں میں خطوط کے ذریعے اپنا پیغام بھی بھجواتے تھے۔

 یہ وہی دور تھا جب ریڈیو اپنے سننے والوں کو یہ احساس دلاتے تھے کہ وہ ان کے مسائل اور معاملات سے باخبر ہیں۔

ریڈیو کے دور رس فوائد کو دیکھتے ہوئے ’کمیونٹی ریڈیو سٹیشنز‘ کا تصور ابھرا، جو کہ کمرشل اور ریاستی ریڈیو کے برعکس نہ تو منافع کمانےکے لیے تھا اور نہ ہی جس کا مقصد جغرافیائی توسیع تھا بلکہ اس کا مقصد کسی خاص علاقے یا کمیونٹی کی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔

کمیونٹی ریڈیو میں ہر علاقے کی مقامی زبان استعمال کی جاتی ہے، اس علاقے کے مسائل اور معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کی رائے لی جاتی ہے یا کسی اہم تقریب یا مہم کے حوالے سے عوام کو مطلع کیا جاتا ہے۔

یہ ایک کم لاگت والی ٹیکنالوجی ہوتی ہے جس کی آواز اس علاقے کے ایک بڑے حصے تک پہنچتی ہے اور جسے عام طور پر خود اسی کمیونٹی کے رضاکاروں کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔

حال ہی میں جامعہ پشاور کے شعبہ صحافت وابلاغیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر بخت زمان نے پاکستان اور باالخصوص خیبر پختونخوا میں ’کمیونٹی ریڈیو سٹیشنز‘ کے کردار پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا ہے، جس میں انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا ایسے ریڈیو سٹیشنز کا کردار اس صوبے میں اس قدر متاثر کن اور فعال ہے، جس طرح ہونا چاہیے تھا اور کیا کمیونٹی ریڈیو سٹیشنز کمیونٹی کی ضروریات اور عصری تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔

اس حوالے سے ڈاکٹر بخت زمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس وقت خیبر پختونخوا میں 33 ایف ایم ریڈیو سٹیشنز ہیں، جن میں سے صرف 10 کمیونٹی ریڈیو سٹیشنز ہیں۔‘

’میں نے جائزہ لیا کہ ان ریڈیو سٹیشنز میں جو موضوعات ہیں کیا وہ ایسے موضوعات ہیں جس کو کمیونٹی سننا چاہتی ہے، لہذا تحقیق کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ کمیونٹی ریڈیوز اور علاقائی ضروریات کے مابین ایک بہت بڑا خلا ہے۔‘

ڈاکٹر بخت زمان کہتے ہیں کہ ’یہی وہ بنیادی نقطہ ہے، جس کی وجہ سے لوگوں نے ریڈیو سننے میں دلچسپی لینا کم کیا، کیونکہ لوگوں کو ان میں اپنا آپ نظر نہیں آتا۔‘

’یہ بھی سامنے آیا کہ اگر کمیونٹی سے مشاورت کرکے ان کے موضوعات کو زیربحث لایا جائے تو اس سے ان ریڈیو سٹیشنز کی کریڈیبلیٹی بڑھے گی اور لوگوں کا ان پر اعتماد بھی بڑھے گا۔‘

ڈاکٹر بخت زمان نے بتایا کہ ’کمیونٹی ریڈیو سٹیشنز کی وجہ سے عوام میں شعور پھیلایا جاسکتا ہے، کئی عصری معاشرتی مسائل کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے، لہذا حکومت کے تعاون سے ان کو فعال کیا جاسکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ یہ نان کمرشل ریڈیو سٹیشنز ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی انہیں حکومت کو مختلف فیسیں ادا کرنی ہوتی ہیں باوجود اس حقیقت کے کہ کمیونٹی ریڈیو سٹیشنز پر اشتہار چلانے پر پابندی ہوتی ہے۔‘

ڈاکٹر بخت زمان کا کہنا ہے کہ ’ان کی فیسیں معاف ہونی چاہییں تاکہ یہ صحیح معنوں میں کمیونٹی کی خدمت کرسکیں۔ ساتھ ہی ان سٹیشنز میں عوام کی رائے لینے کے لیے ایک طریقہ کار ہونا چاہیے تاکہ یہ عین عوامی امنگوں پر چلتے رہیں۔ علاوہ ازیں ان کے عملے کو تربیت بھی دینی چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی