آزادی یا خوف: امریکہ کے مہلک گن کلچر کی بنیاد کیا ہے؟

بندوق کی مارکیٹنگ نے تیزی سے لوگوں کو فسادیوں اور چوروں کے حملے سے ڈرایا اور حکمت کے تحت ذاتی اسلحے کی ضرورت پر زور دیا، گذشتہ دو دہائیاں ایک ایسا دور ہے جس میں 20 کروڑ سے زیادہ بندوقیں امریکی مارکیٹ میں فروخت ہوئیں۔

23 ستمبر 2021 کی اس تصویر میں امریکی ریاست مشی گن میں بندوق رکھنے کے حق کے حامی افراد ایک ریلی میں شریک ہیں(تصویر: اے ایف پی)

یہ 1776 کی بات ہے جب امریکہ کی مختلف کالونیز نے ابھی انگلینڈ سے اپنی آزادی کا اعلان کیا ہی تھا اور جنگ آزادی کے بعد امریکہ کے بانی اس پر بحث کر رہے تھے کہ کیا امریکیوں کو انفرادی طور پراسلحہ رکھنے کا حق ہونا چاہیے یا پھر مقامی ملیشیا کے ارکان ہی ایسا کر سکتے ہیں۔

تین صدیوں بعد امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر یووالڈی کے روب ایلیمنٹری سکول میں منگل (24 مئی) کو سلواڈور راموس نامی نوجوان نے کم از کم 19 بچوں اور دو اساتذہ کو بے دردی سے ہلاک کر دیا جس کے بعد لوگ حیران ہیں کہ امریکیوں کو اسلحے سے اتنا پیار کیوں ہے جس کی وجہ سے ایسے قتل عام کی کتنی ہی وارداتیں پیش آ چکی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا جواب ان روایات میں پوشیدہ ہے جو ملک کی برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کی بنیاد تھی اور امریکیوں شہریوں میں بڑھتا ہوا خوف کہ انہیں اپنی ذاتی حفاظت یا دفاع کے لیے بندوق کی ضرورت ہے۔

گذشتہ دو دہائیاں ایک ایسا دور ہے جس میں 20 کروڑ سے زیادہ بندوقیں امریکی مارکیٹ میں فروخت ہوئیں اور ملک ’گن کلچر 1.0‘ سے آگے بڑھ گیا جب بندوقیں کھیل اور شکار کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ ’گن کلچر 2.0‘ میں بہت سے امریکی اسلحے کو اپنے گھروں اور خاندانوں کی حفاظت کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

انڈسٹری کے ایک سابق ایگزیکٹو ریان بسے کے مطابق اس تبدیلی کو کی گن انڈسٹری کی طرف سے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کے شتہارات کے ذریعے خوب پھیلایا گیا جس نے جرائم اور نسلی فساد کے خدشات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

ریان بسے نے اس ہفتے آن لائن میگزین ’دا بلوارک‘ میں لکھا کہ ’حالیہ قتل عام اسلحے کی صنعت کے کاروباری ماڈل کا نتیجہ ہیں جو نفرت، خوف اور سازش سے فائدہ اٹھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔‘

بندوقیں اور نئی قوم:

1770 اور 1780 کی دہائیوں میں نئے امریکہ کو بنانے والوں کو بندوق کی ملکیت کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ بندوقیں ہی یورپ کے سامراجی سلطنتوں اور ان کی فوجوں کی اجارہ داری کا اصل منبہ ہیں جس کے خلاف امریکی لڑ رہے تھے۔

امریکی آئین کے خالق جیمز میڈیسن نے اسلحہ رکھنے کے فوائد کا حوالہ دیا تھا جو کسی بھی دوسری قوم کے مقابلے میں امریکیوں کے پاس سب سے زیادہ ہے۔

لیکن جیمز میڈیسن اور ملک کےدوسرے بانیوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ نئی ریاستوں کو نوزائیدہ وفاقی حکومت پر بھروسہ نہیں تھااور وہ اپنے قوانین اور اپنے خود کے ہتھیار چاہتی تھیں۔

انہوں نے تسلیم کر لیا تھا کہ لوگوں کو شکار کرنے اور جنگلی جانوروں اور چوروں سے خود کو بچانے کی ضرورت ہے لیکن اس میں کچھ مسائل بھی تھے جیسا کہ زیادہ ذاتی بندوقیں سرحدی علاقوں میں لاقانونیت کو بڑھا سکتی تھیں۔

کیا نجی بندوقیں ظلم و زیادتی سے بچانے کے لیے ضروری تھیں؟ کیا مقامی مسلح ملیشیا یہ کردار ادا نہیں کر سکتی تھیں؟ یا ملیشیا مقامی سطح پر جبر کا ذریعہ بن جاتیں؟

1791 میں ایک سمجھوتے پر دستخط کیے گئے اور بعد میں دوسری آئینی ترمیم بندوق رکھنے کے حقوق کی سب سے بڑی ضمانت بن گئی۔

اس سمھجوتے میں کہا گیا تھا: ’ایک آزاد ریاست کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے ہتھیار رکھنے اور اٹھانے کے حق کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔‘

1960 میں گن کنٹرول کی کوشش

اگلی دو صدیوں میں بندوقیں امریکی زندگی کا ایک لازمی جزو بن گئیں۔

ویک فاریسٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ یامان نے گن کلچر 1.0 کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بندوقیں شکار کے کھیل اور جنگلی جانوروں سے حفاظت کے ساتھ ساتھ مقامی امریکیوں کی فاتحین کے ہاتھوں نسل کشی سے بچنے اور غلاموں کو کنٹرول کے لیے لیے ضروری سمجھی گئیں۔

لیکن 20 ویں صدی کے اوائل تک تیزی سے مہذب بنتا ہوا امریکہ نجی اسلحے سے بھر گیا تھا اور بندوق کے جرائم کی قابل ذکر سطح کا مشاہدہ کرنے لگا جو دوسرے ممالک میں نہیں دیکھا گیا تھا۔

آنجہانی مؤرخ رچرڈ ہوفسٹڈٹر نے لکھا کہ 1900 سے 1964 کے درمیان بندقوں سے امریکہ میں دو لاکھ 65 ہزار سے زیادہ قتل، تین لاکھ 33 ہزار خودکشی کے واقعات اور ایک لاکھ 39 ہزار اتفاقی حادثات ریکارڈ کیے گئے۔

منظم جرائم اور تشدد میں اضافے کے ردِ عمل میں 1934 میں وفاقی حکومت نے مشین گنوں پر پابندی لگا دی اور گنوں کو رجسٹرڈ اور ان پر ٹیکس دینا ضروری قرار دے دیا۔

مختلف ریاستوں نے اپنے اپنے انفرادی طریقوں سے گن کنٹرول کی اصلاحات متعارف کرائیں جیسے کہ کھلے عام یا چھپا کر بندوق لے جانے کی پابندی وغیرہ۔

پولسٹر گیلپ کا کہنا ہے کہ 1959 میں 60 فیصد امریکیوں نے ذاتی ہینڈگن پر مکمل پابندی کی حمایت کی۔

جان ایف کینیڈی، رابرٹ ایف کینیڈی اور مارٹن لوتھر کنگ کے قتل نے 1968 میں سخت قوانین کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

لیکن بندوق سازوں اور تیزی سے مضبوط ہوتی ہوئی نیشنل رائفل ایسوسی ایشن (این آر اے) دوسری ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے نئی قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کو روکنے میں کامیاب رہی۔

’مقدس‘ دوسری ترمیم

اگلی دو دہائیوں کے دوران این آر اے نے رپبلکنز کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل بنایا تاکہ اس بات پر زور دیا جا سکے کہ دوسری ترمیم بندوق کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت ہے اور یہ کہ کوئی بھی قانون امریکیوں کی ’آزادی‘ پر حملہ ہے۔

برنارڈ کالج کے پروفیسر میتھیو لاکومبی کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے این آر اے کا بندوق کے مالکان کے لیے ایک ذاتی بندوق پر مبنی نظریہ اور سماجی شناخت بنانا اور اس کی تشہیر کرنا شامل تھا۔

بندوق کے مالکان اس نظریے کے گرد اکٹھے ہو گئے اور ایک طاقتور ووٹنگ بلاک بنا لیا خاص طور پر دیہی علاقوں میں جسے رپبلکن ڈیموکریٹس سے چھیننے کی کوشش کر رہے تھے۔

ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی کی پروفیسر جیسیکا ڈاسن نے کہا کہ این آر اے نے دائیں بازو کے مذہبی عناصر کے ساتھ مشترکہ مقصد بنایا، یہ ایک ایسا گروپ تھا جو امریکی ثقافت اور آئین میں مسیحیت کی برتری پر یقین رکھتا ہے۔

ڈاسن نے لکھا کہ ’نئے کرسچن رائٹ کے ’اخلاقی تنزلی، حکومت پر عدم اعتماد اور شیطان پر یقین‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے این آر اے کی قیادت نے ’دوسری ترمیم کو سیکولر حکومت کی جانب سے کسی بھی پابندی سے مبرا بنانے کے لیے زیادہ مذہبی زبان استعمال کرنا شروع کردی تھی۔‘

سیلف ڈیفنس

دوسری ترمیم پر توجہ مرکوز کرنے کی تمام کوششوں کے باوجود بندوق سازوں کو اس سے کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہوا جنہوں نے 1990 کی دہائی میں، جب بندقوں کو زیادہ تر شکار اور کھیلوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، بندوقوں کی فروخت میں زبردست کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

بسے کے مطابق اس تنزلی نے گن کلچر 2.0 کی راہ ہموار کی۔ این آر اے اور بندوق کی صنعت نے صارفین کو بتانا شروع کیا کہ انہیں اپنی حفاظت کے لیے ذاتی اسلحہ کی ضرورت ہے۔

بندوق کی مارکیٹنگ نے تیزی سے لوگوں کو فسادیوں اور چوروں کے حملے سے ڈرایا اور حکمت کے تحت ذاتی اسلحے کی ضرورت پر زور دیا۔

افریقی نژاد براک اوباما کے امریکی صدر بننے سے سفید فام قوم پرستی میں اضافہ ہوا۔

بسے نے لکھا: ’15 سال پہلے این آر اے کی سرپرستی میں اسلحے کی صنعت نے اس وقت ایک تاریک موڑ لیا جب اس نے تیزی سے بندوقوں اور ٹیکٹیکل گیئر کی مارکیٹنگ شروع کی۔‘

اسی دوران بہت سی ریاستوں نے جرائم میں اضافے کے بارے میں پیدا ہونے والی تشویش کے تناظر میں بندوقوں کو بغیر اجازت باہر لے جانے کی اجازت دے دی۔

درحقیقت گذشتہ دو دہائیوں میں پرتشدد جرائم میں کمی کا رجحان رہا ہے جب کہ اسی عرصے کے دوران بندوق سے ہونے والے قتل عام کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ویک فاریسٹ سے وابستہ یامانے نے کہا کہ یہ گن کلچر 2.0 کے لیے ایک اہم موڑ تھا جس نے ہینڈ گن کی فروخت کو زبردست فروغ دیا اور انہیں تمام نسلوں کے لوگوں نے خریدا جو باہمی دشمنی پر مبنی تشدد کے مبالغہ آمیز خوف کے میں جکڑے ہوئے تھے۔

2009 کے بعد سے اسلحے کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے جو 2013 کے بعد سے سالانہ ایک کروڑ گنز سے زیادہ ہے خاص طور پر AR-15 قسم کی اسالٹ رائفلز اور نیم خودکار پستولوں کی۔

یامانے نے لکھا: ’آج بندوق کے مالکان کی اکثریت، خاص طور وہ جنہوں نے حال ہی میں انہیں خریدا ہے، سیلف ڈیفنس یا ذاتی حفاظت کے خدشات کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ