پاکستان کی دھرنا سیاست اور اس کے اثرات

حالیہ برسوں میں دھرنا سیاست کے کلچر نے اپنی جڑیں مضبوط کرلی ہیں۔ اس کلچر کے تحت جتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو باہر نکالا جا سکے اور جتنا طویل عرصہ تک انہیں سڑکوں اور چوراہوں پر رکھا جا سکے، اتنا ہی اپنے مطالبات منوانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

26 مئی 2022 کی اس تصویر میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پشاور سے اپنے لانگ مارچ کے ہمراہ کنٹینر پر اسلام آباد آتے ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

حال ہی میں پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان پشاور سے اپنا لانگ مارچ لے کر اسلام آباد آئے لیکن غیر متوقع طور پر انہوں نے اپنا دھرنا منسوخ کر دیا۔

دھرنا منسوخ کرتے ہوئے انہوں نے  موجودہ حکومت کو قبل از وقت الیکشن کی تاریخ نہ دینے کی صورت میں چند روز بعد دوبارہ لانگ مارچ کی دھمکی بھی دی، تاہم یہ پہلا یا آخری موقع نہیں ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے اپنے مطالبات نہ مانے جانے پر اسلام آباد کا محاصرہ کرنے کی دھمکی دی ہو۔

پاکستان 2013 سے لانگ مارچ کی سیاست کی لپیٹ میں ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے سیاسی نظام کو عدم استحکام، حکومتوں کے کمزور ہونے، روزمرہ زندگی میں خلل اور معاشی نقصانات کا سامنا ہے۔ گذشتہ برسوں میں دھرنا سیاست کے کلچر نے اپنی جڑیں مضبوط کرلی ہیں۔ اس کلچر کے تحت جتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو باہر نکالا جا سکے اور جتنا طویل عرصہ تک انہیں سڑکوں اور چوراہوں پر رکھا جا سکے، اتنا ہی اپنے مطالبات منوانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اگرچہ پُرامن احتجاج، دھرنے اور لانگ مارچ سیاسی کارکنوں کا بنیادی حق ہیں تاہم پاکستان میں ان ہتھکنڈوں کا معیار مختلف ہے۔ دھرنا سیاست کا کلچر پاکستانی سیاسی نظام کی غیر فعال نوعیت کی نمائندگی کرتا ہے جہاں مختلف سیاسی سٹیک ہولڈرز، اپنی شرکت کے باوجود، نظام پر مکمل اعتماد نہیں رکھتے۔

دھرنے بنیادی طور پر نظام میں خلل ڈالنے والی سیاست کی ایک شکل ہیں جس میں سیاسی کارکنان اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی سٹریٹ پاور اور اشتعال انگیز حربے استعمال کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی طرف سے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ دھرنے کے لیے اسلام آباد آنے کی دھمکی نے موجودہ حکومت کے لیے مشکلات برقرار رکھی ہیں جبکہ حکومت کو دوسری جانب سخت معاشی مسائل کا بھی سامنا ہے۔

2013 میں ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی)نے دھرنا سیاست کا رجحان اس وقت شروع کیا جب وہ عام انتخابات سے قبل ’سیاست نہیں، ریاست‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے ایک بڑا ہجوم لے کر  اسلام آباد آئے۔

طاہر القادری نے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں دھرنا دے کر کرپشن زدہ نظام کو پاک کرنے کے لیے انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا۔ اگرچہ ان کا بنیادی مطالبہ پورا نہیں ہوا تاہم انہوں نے اس وقت کی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی زیر قیادت اتحادی حکومت کو اپنے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور کیا اور اس عمل میں حکومت کمزور ہو گئی۔

اس کے بعد 2014 میں عام انتخابات میں اپنی شکست کے بعد پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور اس کا مینڈیٹ چرایا گیا۔ عمران خان نے انتخابی دھاندلی کے اپنے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور 126 دن کا دھرنا دیا۔

اگرچہ وہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو گرانے میں ناکام رہے لیکن ان کے دھرنے نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مختلف منصوبوں کا افتتاح کرنے کے لیے چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ پاکستان ملتوی کر دیا۔

یہ بتانا ضروری ہے کہ طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک  نے تحریکِ انصاف کے ساتھ اسی علاقے میں بیک وقت دھرنا دیا۔ پی ٹی آئی اور پی اے ٹی دونوں کو ’دھرنا کزن‘ کہا گیا۔

بہرحال نتائج سے قطع نظر، عمران خان کے 2014 کے دھرنے نے پاکستان میں اشتعال انگیز سیاست کے رجحان کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا۔ انہوں نے اشتعال انگیز سیاست کو تشہیر حاصل کرنے اور غیر فعال نظام کو کم از کم کسی کے مطالبے پر توجہ دینے پر مجبور کرنے کے سب سے مؤثر طریقے کے طور پر پیش کیا۔

پاناما لیکس کی اشاعت کے بعد، جس میں شریف فیملی کی برطانیہ میں آف شور جائیدادوں کا ریکارڈ شامل تھا، خان نے ایک اور دھرنے کی دھمکی دی، تاہم شریفوں کے خلاف پاناما لیکس کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد انہوں نے اپنا دھرنا ختم کردیا۔

اس کے بعد کے سالوں میں پی ٹی آئی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے بھی دھرنا سیاست میں حصہ لیا۔ ٹی ایل پی نے اپنا پہلا دھرنا 2017 میں فیض آباد میں ختم نبوت سے متعلق حلف نامے میں مبینہ ترمیم کے بعد دیا۔

یہ الزام لگایا گیا تھا کہ حلف کے الفاظ کو ’میں پختہ حلف اٹھاتا ہوں‘ سے ’میں حلف اٹھاتا ہوں‘ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ٹی ایل پی نے فیض آباد انٹرچینج  پر اپنا دھرنا دیا جو راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملاتا ہے۔ تین ہفتوں کے دھرنے نے جڑواں شہروں میں روزمرہ کی زندگی کو ٹھپ کر کے رکھ دیا جس سے حکومت کو ٹی ایل پی کے ساتھ بات چیت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

مذاکرات سے قبل مسلم لیگ ن حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی کے دھرنے کو ختم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال سے روکا گیا تھا۔ ٹی ایل پی نے نہ صرف حکومت کو مذکورہ انتخابی اصلاحات واپس لینے پر مجبور کیا بلکہ اس وقت کے وزیرِ قانون زاہد حامد کا استعفیٰ لے کر چلی گئی۔ اس مذہبی سیاسی جماعت نے اپنے گرفتار ارکان کی رہائی کو بھی ممکن بنایا اور اپنے خلاف مقدمات کو بھی ختم کروایا۔

ٹی ایل پی نے 2018 میں سپریم کورٹ کی طرف سے توہین رسالت کے جھوٹے الزام میں ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی بریت کے بعد ایک اور دھرنا دیا۔ اسی طرح ستمبر 2020 میں فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکے شائع کیے جانے کے بعد ٹی ایل پی ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹی ایل پی نے نومبر 2020 کا اپنا دھرنا پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے  فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت دینے کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد واپس لے لیا۔ اس دوران ٹی ایل پی کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی انتقال کر گئے اور ان کے بیٹے سعد حسین رضوی نے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔

فروری 2021 میں پی ٹی آئی حکومت نے 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے فیصلے تک پہنچنے کے لیے ٹی ایل پی کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کیا۔ اس کے بعد کے مہینوں میں حکومت نے ٹی ایل پی کے نئے رہنما سعد حسین رضوی کو گرفتار کیا جس کے نتیجے میں ایک اور دھرنا ان کی رہائی پر منتج ہوا اور گروپ کے خلاف تمام مقدمات کو واپس لے لیا گیا۔

ان تمام حالات کے باعث یورپی یونین میں پاکستان کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی جو پاکستان کا سب سے بڑا  تجارتی پارٹنر ہے اور خاص طور پر پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کو خطرات لاحق ہو گئے۔

پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران مولانا فضل الرحمٰن اور پیپلز پارٹی نے بالترتیب دھرنا اور لانگ مارچ بھی کیا۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہےکہ پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کی وجہ سے حکومت سے بے دخلی کے بعد پی ٹی آئی اپنے دھرنے اور اشتعال انگیز سیاست کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے سڑکوں پر واپس آ گئی ہے۔

دھرنا سیاست نے نہ صرف روزمرہ کی زندگی کو درہم برہم کیا، حکومتوں کو کمزور کیا بلکہ پاکستانی معاشرے کو تقسیم بھی کیا ہے۔ اگرچہ پُرامن احتجاج اور دھرنے ایک فعال جمہوریت کا حصہ ہیں لیکن پاکستان کی سیاسی قیادت کو دھرنوں کو منظم کرنے والے متفقہ فریم ورک پر متفق ہونا پڑے گا تاکہ وہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف نہ کریں اور ساتھ ہی ساتھ سرکاری اور نجی اداروں اور املاک کو نقصان اور توڑ پھوڑ سے تحفظ فراہم کریں۔

مصنف ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں محقق ہیں۔


نوٹ: یہ کالم مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارہ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ