کراچی سپرسٹور کی آگ قابو: تیسرے درجے کی آگ کیا ہوتی ہے؟ 

ڈیپارٹمنٹل سٹور جس میں گزشتہ روز آگ لگی، 15 منزلہ رہائشی اپارٹمنٹ کمپلیکس سومیا برج ویو کراچی کے گراؤنڈ فلور پر واقع ہے۔

تیسرے درجے کی آگ پر قابو پانا مشکل ہے۔ اس قسم کی آگ کو بجھانے میں کبھی 24 گھنٹے تو کبھی کبھی کئی دن لگ سکتے ہیں (تصاویر: ایس ایم شکیل)

کراچی کی جیل چورنگی پر واقع ایک نجی سپر سٹور میں گزشتہ روز لگنے والی آگ پر 24 گھنٹے گزرنے کے بعد قابو پا لیا گیا ہے۔

کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے چیف فائر آفیسر مبین احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سٹور میں لگنے والی آگ انتہائی خطرناک تھی، جسے تیسرے درجے کی آگ قرار دیا گیا تھا۔ جس کو بجھانے کے لیے شہر بھر کی فائر سٹیشنز سے ایک درجن سے زائد فائر ٹینڈرز، پاکستان بحریہ کے دو فائر ٹینڈرز، دو باؤزر اور ایک سنارکل کو منگوایا گیا تھا۔  

مبین احمد کے مطابق: ’اس آگ پر 24 گھنٹے کے بعد مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے اور اب کولنگ کا عمل جاری ہے۔ جس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔‘

یہ ڈیپارٹمنٹل سٹور جس میں گزشتہ روز آگ لگی، 15 منزلہ رہائشی اپارٹمنٹ کمپلیکس سومیا برج ویو کے گراؤنڈ فلور پر واقع ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ کے بعد عمارت مکمل طور پرکمزور ہوچکی ہے اور عمارت کے پانچ مرکزی پلرز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔  

اسسٹنٹ کمشنر فیروز آباد عاصمہ بتول کی ہدایت پر عمارت کو مکمل طور  پر کمزور قرار دینے کے بعد عمارت کو مکمل طور خالی کرادیا گیا ہے اور عمارت کی بجلی بھی کاٹ دی گئی ہے۔  

مقامی نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر فیروز آباد عاصمہ بتول نے کیا کہ عمارت کے اطراف کے رہائشیوں کے گھر خالی کرائے جارہے ہیں کیونکہ عمارت مکمل طور پرکمزور ہوچکی ہے۔  

فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق آگ عمارت کی پارکنگ میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی تھی۔  

واضح رہے آگ لگنے کے باعث ایک شخص جھلس کر جاں سے گیا، اورمتعدد افراد زخمی ہوئے۔ 

دوسری جانب آگ سے متعلق ایک غیر سماجی تنظیم کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس میں موقف پیش کیا گیا کہ نجی اسٹور نے عمارت کی پارکنگ کو بطور گودام استعمال کررکھا تھا۔ 

درخواست گزارایڈوکیٹ سارہ کنول اورایڈوکیٹ محمد شاہد کے وکیل نے موقف پیش کیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بھی عمارت کی پارکنگ کو بطورگودام استعمال کرنے پرخاموشی اختیارکی ہوئی تھی۔  

درخواست گزارایڈوکیٹ سارہ کنول اورایڈوکیٹ محمد شاہد نے عدالت کے سامنے مؤقف پیش کیا کہ پارکنگ کو گودام کے طورپراستعمال کرنا غیر قانونی ہے۔ درخواست پرعملدرآمد ہوتا تو شاید یہ آگ ہی نہ لگتی۔ 

درخواست میں کہا گیا کہ پارکنگ کو گودام کے طور پر استعمال کرنے سے بلڈنگ کی بنیاد بھی خطرناک ہوچکی ہیں۔  

 آگ کی کتنی اقسام ہیں؟ اور آگ کی درجہ بندی کیسے کی جاتی ہے؟  

عام طور کسی بڑی آگ کے بعد پاکستانی ٹی وی چینلز پر آگ کی تفصیلات  میں واضح طور پر بتایا جاتا ہے کہ یہ تیسرے درجے کی آگ تھی۔ آگ کی درجہ بندی کیسے کی جاتی ہے؟ سول ہسپتال کراچی کے نزدیک کی ایم سی کی فائر برگیڈ کے فائر آفیسر عبدال ذاکر کے مطابق گزشتہ روز جیل چورنگی پر لگنے والے آگ 'اندورنی آگ' تھی۔ اندرونی آگ وہ آگ ہوتی ہے جو کسی عمارت کے اندر لگے۔  

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے عبدال ذاکر  نے بتایا: ’اس کے علاوہ کسی کھلی جگہ، پارک، میدان یا کسی شاہراہ پر لگنی والی آگ کو بیرونی آگ کہا جاتا ہے، اور بیرونی آگ پر قابو پانا آسان ہوتا ہے۔ کیوں اس آگ کو آسانی سے بجھایا جاسکتا ہے۔‘  

’جب کہ اندورنی یعنی کسی بڑی عمارت خاص طور پر رہائشی عمارت میں لگی اندورنی آگ پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اس میں وہاں رہنے والے لوگوں کو باہر نکالنا، یہ خیال رکھنا کہ آگ آس پاس کی عمارتوں تک پھیل نہ جائے اور آگ کی شدت سے عمارت گر نہ جائے۔ اس لیے اندورنی آگ خطرناک ہوتی ہے۔‘  

’بیرونی آگ سے بھی زیادہ خطرناک آگ کی ایک قسم ہے۔ جسے قدرتی آگ کہا جاتا ہے۔ اس قسم میں کسی جنگل میں موجود گھاس پھوس میں گرمیوں کی موسم میں آگ لگ جاتی ہے۔ یہ آگ بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔ اس پر قابو پانا بھی بہت زیادہ مشکل ہوتا ہے۔‘

آگ کی درجہ بندی پر بات کرتے ہوئے عبدال ذاکر نے کہا ’آگ کی کوئی درجہ بندی نہیں ہوتی۔ آپ نے کبھی بھی پہلے یا دوئم درجے کی آگ کے متعلق نہیں سنا ہوگا۔ کیوں کہ پہلے اور دوسرے درجے کی آگ نہیں ہوتی۔ جب آگ انتہائی خطرناک ہوجائے تو صرف اس کے لیے کہا جاتا ہے کہ یہ تیسرے درجے کی آگ ہے۔‘

’تیسرے درجے کی آگ پر قابو پانا مشکل ہے۔ اس قسم کی آگ کو بجھانے میں کبھی 24 گھنٹے تو کبھی کبھی کئی دن لگ سکتے ہیں۔ آپ ایسے سمجھیں کہ جب سارے شہر کی فائر برگیڈ گاڑیاں اس آگ کو بجھانے کے آجائیں اس کو تسیرے درجے کی آگ کہا جائے گا۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان