اشرف غنی 10 لاکھ ڈالرز سے زیادہ نہیں لے گئے: امریکہ

سیگر کی رپورٹ میں ایک سابق سینیئر اہلکار کا حوالہ دیا گیا ہے جو غنی کے ساتھ ہیلی کاپٹر پر بھاگ گئے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ’ہر ایک کی جیب میں پانچ سے 10 ہزار ڈالرز تھے۔‘

افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی افغان صدارتی محل میں 4 اگست 2021 کو ایک تقریب کی صدارت کر رہے ہیں (تصویر: اے ایف پی)

افغان حکومت اور اس کی فوج کے خاتمے کی تفصیلات پر مبنی امریکی حکومت کے نگران ادارے کی پیر کو جاری ہونے والی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں گذشتہ برس اگست میں طالبان کے قبضے کے دوران افغان حکومت کے بینک اکاؤنٹس سے دسیوں لاکھ ڈالرز غائب ہوئے تھے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی تعمیر نو کے لیے خصوصی انسپیکٹر جنرل یا سیگرکے جائزے میں ان الزامات کی جانچ پڑتال کی گئی کہ افغان حکومت کے اہلکار ملک سے فرار ہونے پر لاکھوں ڈالرز اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی پر خاص طور پر ان ہیلی کاپٹروں پر لاکھوں ڈالرز لوڈ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا جو طالبان جنگجوؤں کے شہر میں داخل ہوتے ہی کابل سے فرار ہو گئے تھے۔

افغانستان پر طالبان کے اچانک فوجی قبضے کے بعد میڈیا رپورٹس میں یہ الزام لگایا گیا کہ غنی نے 150 ملین ڈالرز سے زیادہ کے سرکاری فنڈز چوری کیے جس نے سابق رہنما کے افغانستان چھوڑنے پر عوامی غصے کو ہوا دی تھی۔

اشرف غنی کے فرار کو بہت سے لوگ فیصلہ کن واقعے کے طور پر دیکھتے ہیں جس نے طالبان کی افواج کو کابل میں داخل ہونے اور ملک کا مکمل کنٹرول سنبھالنے کا موقع دیا۔

سیگر نے اشرف غنی کی طرف سے لاکھوں کی چوری کا ’امکان کم پایا‘ لیکن کہا کہ سابق صدر کچھ نقد رقم ضرور لے کر چلے گئے تھے لیکن ’شواہد بتاتے ہیں کہ یہ تعداد 10 لاکھ ڈالرز سے زیادہ نہیں تھی اور ہو سکتا ہے کہ یہ پانچ لاکھ ڈالرز کے قریب ہو۔‘

رپورٹ میں ایک سابق سینیئر اہلکار کا حوالہ دیا گیا ہے جو غنی کے ساتھ ہیلی کاپٹر پر بھاگ گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہر ایک کی جیب میں پانچ سے 10 ہزار ڈالرز تھے۔ کسی کے پاس لاکھوں نہیں تھے۔‘

سیگرکی رپورٹ کے عوامی ورژن میں اہلکار کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ غنی نے بھی بارہا بھاری رقم ساتھ لے جانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

 

سیگر نے اس تحقیق کی بنیاد گواہوں اور عہدیداروں کے انٹرویوز پر رکھی جنہوں نے سب نے کہا کہ انہیں ہیلی کاپٹروں پر اتنی بڑی مقدار میں نقد رقم کے کوئی آثار نظر نہیں آئے جو پہلے ہی اپنی زندگیوں کو بچانے کے لیے بھاگنے والے لوگوں سے بھرے ہوئے تھے۔

’100 ڈالر کے بلوں میں 169 ملین ڈالر، تمام رقم بنڈل کی شکل میں، ایک بلاک 7.5 فٹ (2.3 میٹر) لمبا، 3 فٹ چوڑا، اور 3 فٹ طویل ہوگا ... اس بلاک کا وزن 3 ہزار 722 پاؤنڈ یا تقریبا دو ٹن ہوتا۔‘

سیگر نے نوٹ کیا کہ گواہوں نے ہیلی کاپٹروں پر ’کم سے کم سامان‘ کی اطلاع دی جس میں کوئی کارگو ہولڈ نہیں تھا۔

لیکن دسیوں لاکھوں ڈالرز کا اتا پتہ نہیں ہے۔ سیگرکو ’صدارتی محل سے لیے گئے پانچ ملین اور (سابق افغان حکومت کی اہم انٹیلیجنس ایجنسی) نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے والٹ سے لیے گئے دسیوں ملین‘ کے شواہد ملے ہیں۔ البتہ تحقیقات میں اس بات کا تعین نہیں ہو سکا ہے کہ آیا یہ رقم سرکاری اہلکاروں نے ملک سے نکالی تھی۔

سابق افغان صدر اور ان کے بہت سے قریبی ساتھی اب متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں جہاں کی حکومت نے ان کا اور ان کے خاندان کو انسانی بنیادوں پر خوش آمدید کہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چوری شدہ افغان اثاثوں کی تحقیقات جاری ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا