کراچی میں ضمنی الیکشن: ایک شخص ہلاک، تین زخمی

کراچی کے حلقے این اے 240 میں صبح سے جاری ضمنی الیکشن کے دوران ایک شخص ہلاک  اور تین افراد زخمی ہوگئے۔

این اے 240 میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران استعمال اسلحے کا خول (تصویر: انوشہ اشرف 16062022)

کراچی کے حلقے این اے 240 میں صبح سے جاری ضمنی الیکشن کے دوران ایک شخص ہلاک  اور تین افراد زخمی ہوگئے۔

ایدھی ذرائع کے مطابق سیاسی جماعتوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے سے حالات کشیدہ ہوئے۔

 کراچی کے علاقے لانڈھی کے حلقہ این اے 240 میں متحده قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی کی وفات کے بعد خالی ہونے والی نشست پر صبح سے پولنگ کا عمل جاری تھا۔

تقریبا 11 بجے کے قریب لانڈھی نمبر پانچ میں صورت حال خراب ہوئی۔ کارکنان نے دیگر پارٹیوں پر بوگس ووٹ ڈالنے کا الزام لگایا جس کے نتیجے میں ہنگامہ آرائی ہوئی، پولنگ بوتھ کے باکس پھینکے گئے، نعرے باری کی گئی اور بوتھ نمبر 71 میں پولنگ کا عمل بند گیا۔  

اس حوالے سے ڈی آر او نے ندیم حیدر کا کہنا تھا کہ ’کہا جارہا ہے کہ بوتھ نمبر 71 سے پولنگ باکس باہر لے جائے گئے دھاندلی کے لیے۔ مگر یہ بات غلط ہے۔  یہ انتہائی حساس پولنگ سٹیشن ہے جہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے تھے۔ مگر اسے کے بابر والے کمرے میں جہاں کیمرہ نہیں تھا ادھر پولنگ بوتھ لگائے گئے۔ ہم ان بوتھس کو واپس کیمرے والے کمرے میں شفٹ کر رہے تھے اس لیے بوتھ کو اپنی جگہ سے ہلایا گیا تھا۔‘

دوسری جانب لانڈھی گوشت مارکیٹ پر بنے پولنگ اسٹیشن نمبر ایک میں پی ایس پی کے کارکنان نے ایم کیو ایم پر جعلی ووٹ ڈالوانے کا الزام عائد کیا اور انہیں بیلٹ باکس پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے سے روکا۔

تقریبا دو بجے کے قریب جناح سکول 36 بی زمان آباد کے قریب بنے پولنگ سٹیشن میں ٹی ایل پی کے کارکنان نے ایم کیو ایم کے کارکنان پر بیلٹ پیپر چوری کرنے کا الزام لگایا۔

وہیں جی ڈی اے نے این اے 240 کے الیکشن کو جعلی قرار دے دیا۔ جی ڈی اے کے رہنما اور اس ضمنی الیکشن کے امیدوار تنویر چودھری نے کہا کہ ’ووٹر فہرستوں میں کچھ اور 8300 کی سروس پر ووٹ کا اندراج کچھ اور ہے۔ پولنگ اسٹیشن کو اچانک تبدیل کی وجہ سوائے دھاندلی کے کچھ نہیں۔ جی ڈی اے مطالبہ کرتے ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اس زیادتی کا نوٹس لے اور اس معاملے میں ملوث لوگوں کو قانون کے مطابق سزا دے۔‘

ترجمان ٹی ایل پی کے مطابق تقریبا چار بجے کے قریب لانڈھی نمبر چھ پر ٹی ایل پی کی قیادت اور کارکنان پر حملہ ہوا۔ ان کی گاڑی پر شدید فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں ٹی ایل پی کا ایک کارکن زخمی ہوگیا۔

پی ایس پی ترجمان کے مطابق اسی دوران ان کے چیئرمین مصطفیٰ کمال پر فائنرنگ کی مد میں جان لیوا حملہ ہوا۔ پی ایس پی رہنما جوائنٹ سیکرٹری افتخار عالم بھی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے تھے اور انہیں دو گولیاں لگی تھیں۔ اس کے علاوہ پی ایس پی کے متعدد کارکنان گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔

اس حوالے سے ڈسٹرک ریٹرننگ افسر ندیم حیدر کا کہنا تھا کہ ’لانڈھی کے کچھ علاقوں سے فائرنگ اور کشیدگی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ رینجرز اور پولیس سے رابطہ کیا گیا تھا۔ صورتحال پر قابو پالیا گیا تھا اور مظاہرین منتشر ہوچکے تھے۔ اس کے نتیجے میں رینجرز اور پولیس کے گشت میں اضافہ بھی کردیا گیا تھا۔‘

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق لانڈھی نمبر چھ کے قریب فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کے دوران کے زخمیوں کو اٹھانے کے لیے جانی والی ایدھی ایمبولینسس پر فائرنگ کی گئی۔ البتہ تمام رضاکار محفوظ رہے۔

اسی دوران تقریبا ساڑھے پانچ بجے کے قریب پولنگ سٹیشن نمبر 51 پر حملہ ہوا اور جس کے نتیجے میں بیلٹ باکس توڑے گئے اور کئی بیلٹ پیپر ضائع ہوگئے۔

سعد ایدھی کے مطابق لانڈھی نمبر چھ کے قریب فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا جسے فوری طور پر ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح ہسپتال روانہ کیا گیا۔ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت سیف الدین کے نام سے کی گئی جس کی عمر 60 سال ہے۔

این اے 240 کے ضمنی الیکشن میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے حوالے سے وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ ’آئی جی سندھ کو وزیراعلی نے ہدایت کی ہے کہ شرپسندوں کے  خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔‘

 انہوں نے کہا کہ  جو لوگ ہنگامہ آرائی میں ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ پولیس حکام کے مطابق پانچ سے چھ لوگ زخمی ہیں جنہیں اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ کراچی کو کسی صورت میں پرانے طرز عمل پر نہیں جانے دیں گے۔‘

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 240 کے ضمنی الیکشن  میں 25 امیدوار شریک تھے۔ سات امیدواروں کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے جب کہ 18 امیدوار آزاد تھے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے محمد ابوبکر، پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے شبیر احمد قائم خانی جبکہ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے شہزادہ شہباز، مہاجر قومی موومنٹ کی جانب سے سید رفیع الدین، پاکستان مسلم  لیگ کی جانب سید فیضان انیس، گرینڈ ڈیموکریٹ الائنس کی جانب سے تنویر احمد جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ناصر رحیم اس ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے تھے۔

اس سے قبل اس حلقے میں مہاجر قومی موومنٹ اور متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں اس حلقے سے ایم کیوایم کے امیدوار اقبال محمد علی 60 ہزار سے زائد ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان