دیوبند کا پاکستان

برصغیر کی ایک غیر معمولی سیاسی تحریک آج بھارت میں دارالعلوم اور ایک آدھ حلقہ انتخاب تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ دوسری طرف پاکستان ہے جہاں اقتدار کے موسم مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کے بغیر ادھورے رہتے ہیں۔

30 مارچ 2022 کو لی گئی اس تصویر میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف (بائیں) اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام  کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن (دائیں) کی بات سن رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یہ تحریر آپ کالم نگار کی زبانی یہاں سن بھی سکتے ہیں۔


تحریک دیوبند نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی لیکن سیاسی، سماجی اور مذہبی سطح پر جو عروج اسے پاکستان میں ملا، اس کا عشر عشیر بھی اسے بھارت میں نہ مل سکا۔

اتفاقات زمانہ کی یہ کروٹ سیاست اور مذہب کے طالب علموں کو دعوت فکر دے رہی ہے۔ اس دعوت عام میں اگر جمعیت علمائے اسلام بھی شریک ہو جائے تو شاید اس کی بہت سی گرہیں کھل جائیں جو قومی سیاست میں اس کے لیے معاون اور فائدہ مند ثابت ہوں۔

دیوبند میں سے مولانا شبیر احمد عثمانی نے اگر چہ قیام پاکستان کی حمایت کی تھی لیکن اسے استثنیٰ ہی سمجھا جاتا ہے۔ ان کا مولانا حسین احمد مدنی سے کوئی تقابل ہی نہ تھا۔ دیوبند کا موقف وہی تھا جوشیخ الہند کا تھا۔ اہل دیوبند کے ہاں مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی کا موقف ان کے تفردات کے باب میں ہی لکھا گیا۔ چنانچہ جے یو آئی بھی اپنی سیاسی فکری وراثت کی نسبت مولانا شبیر احمد عثمانی سے نہیں، مولانا حسین احمد مدنی سے جوڑتی ہے۔

عجیب بات مگر یہ ہے کہ ساری مخالفت کے باوجود تحریک دیوبند کو پاکستان میں انتہائی سازگار ماحول ملا اور وہ  اس وقت پاکستان کے قومی بیانیے کی طاقت ور ترین آواز ہے لیکن ساری حمایت کے باوجود بھارت میں اس کا دائرہ عمل سکڑتا چلا گیا، جو اس وقت نیک چلنی کے چند فدویانہ مظاہر تک محدود ہو چکا ہے۔

دیوبند کا مذہبی حوالہ اپنی جگہ لیکن اصل میں یہ ایک سیاسی تحریک تھی اور اس کے قیام کی وجوہات بھی سیاسی تھیں۔ برصغیر کی اس غیر معمولی سیاسی تحریک کا آج بھارت کی سیاست میں کہیں کوئی قابل ذکر وجود ہے تو بتائیے؟ عالم یہ ہے کہ دیوبند کا اپنا حلقہ بھی بی جے پی جیت رہی ہے اور دارالعلوم کے اکابرین کے صاحبزادے عمیر مدنی صاحب کو صرف تین ہزار پانچ سو ایک ووٹ ملتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 70 فیصد ہے۔ اس علاقے میں کھڑے ہو کر بی جے پی کا برجیش سنگھ کہتا ہے کہ ہم بہت جلد اس علاقے کا نام دیوبند سے بدل کر’دیو ورند‘ رکھ دیں گے۔ بھارت میں دیوبند کی سیاسی تحریک کی مبلغ حیثیت کا خلاصہ بس یہی ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برصغیر کی ایک غیر معمولی سیاسی تحریک آج بھارت میں دارالعلوم اور ایک آدھ حلقہ انتخاب تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ دوسری طرف پاکستان ہے جہاں جے یو آئی قومی سیاسی بیانیے میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہے۔ پی ڈی ایم میں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں موجود ہیں لیکن اس کی قیادت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے پاس ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نہ صرف قومی سیاسی بیانیے میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں بلکہ اقتدار کے موسم بھی ان کی جماعت کے بغیر ادھورے رہتے ہیں۔ جس طرح سالن ہرن کے گوشت کا ہو یا گوبھی کا، نمک کے بغیر بے مزہ رہتا ہے بالکل اسی طرح حکومت ن کی ہو یا پی پی پی کی، وہ جے یو آئی کے بغیر پھیکی رہتی ہے۔

علم کی دنیا میں بھی پاکستان میں دیوبند کا مقام نمایاں ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد قرارداد مقاصد میں مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی بروئے کار آئے اور اب ریاستی سطح پر دینی معاملات میں رہنمائی کے لیے مولانا تقی عثمانی صاحب سے رجوع کیا جاتا ہے۔ بینکاری کے نظام میں، غلط یا صحیح سے قطع نظر، ان کے فکری اثرات غیر معمولی حد تک نمایاں ہیں۔

تبلیغ دین میں جو مقام تبلیغی جماعت کا ہے سب کے سامنے ہے۔ تبلیغی جماعت ہی کے مولانا طارق جمیل صاحب کی مقبولیت اور احترام  بھی معمولی نہیں ہے۔ ان کی نیک نامی کو خود جے یو آئی کے شکوؤں نے گہنا رکھا ہے تو وہ ایک الگ بات ہے، اہل اقتدار اور ریاست نے ہمیشہ ان کی عزت افزائی اور پزیرائی کی ہے۔

عالم یہ ہے کہ جے یو آئی کے لیے جو بھی فرد کسی بھی درجے میں چیلنج بنتا نظر آئے وہ کھڑے کھڑے یہودی ایجنٹ بنا دیا جاتا ہے۔ جے یو آئی سید مودودی کو چیلنج سمجھے تو ’ایک مودودی سو یہودی‘ کا نعرہ سامنے آتا ہے، اس کے لیے عمران خان چیلنج بنیں تو وہ ’یہودی ایجنٹ‘ قرار پاتے ہیں اور مولانا شیرانی جے یو آئی سے راستے الگ کریں تو ان پر ’جمعیت علمائے  اسرائیل‘ کی پھبتی کسی جاتی ہے۔ مولانا جسے چاہیں، جب چاہیں اور جہاں چاہیں للکارتے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں۔ دوسری جانب بھارت کے اہل دیوبند ہیں، خوف نے جن کی قوت گویائی تک سلب کر رکھی ہے۔

پاکستان کے مولانا تو ہر حکمران اور اسٹیبلشمنٹ سمیت امریکہ اور روس کو بھی للکار لیتے ہیں لیکن بھارت کے مولانا بی جے پی کی فسطائیت پر بھی زبان نہیں ہلا پاتے۔ پاکستان کی دیوبندیت عزیمت اور للکار ہے تو بھارت میں یہ نری فدویت اور بے بسی ہے، جو ہر دم  ہاتھ باندھے نیک چلنی کی یقین دہانیاں کراتی پائی جاتی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نہ صرف قومی سیاسی بیانیے میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں بلکہ اقتدار کے موسم بھی ان کی جماعت کے بغیر ادھورے رہتے ہیں۔ جس طرح سالن ہرن کے گوشت کا ہو یا گوبھی کا، نمک کے بغیر بے مزہ رہتا ہے بالکل اسی طرح حکومت ن کی ہو یا پی پی پی کی، وہ جے یو آئی کے بغیر پھیکی رہتی ہے۔

پاکستان میں جے یو آئی کے اراکین پارلیمنٹ لاجز میں گرفتار ہو جائیں تو مولانا اپنے جاہ و جلال کے ساتھ آ پہنچتے ہیں کہ ’اب ہمت ہے تو مجھے بھی گرفتار کرو‘ اور دیوبند کے ضلع سہارن پور میں دارالعلوم کے طلبہ کو بسوں سے اتار کر ان کے سر مونڈ دیے جائیں یا مسلمانوں کے لیے زندگی اجیرن ہو جائے، تحریک دیوبند نیاز مندانہ احتجاج سے آگے نہیں بڑھتی۔

پاکستان میں نیب جیسا ادارہ، جس کی ہیبت سے اہل سیاست سہمے ہوتے ہیں، مولانا کو ایک نوٹس بھیج دے تو مولانا یوں جلال میں آتے ہیں کہ ان کی ہیبت سے پورا ملک اور طاقت کے سارے مراکز لرز اٹھتے ہیں لیکن بھارت میں مسلم لہو بھی ارزاں ہو جائے تو دیوبند کے حجروں اور راہداریوں میں سناٹے طاری رہتے ہیں۔

دیوبند کی سیاسی تحریک کا جو جاہ و جلال پاکستان میں ہے اس کا عشر عشیر بھی بھارت میں نہیں۔ بھارتی لوک سبھا میں کبھی کوئی ایسی آواز اٹھی ہو جو تحریک دیوبند کی عزیمت کی یاد تازہ کر دے تو بتا دیجیے۔ اسد الدین اویسی کی آواز تو بھارت کے سیاسی بیانیے میں نمایاں ہے، سوال مگر یہ ہے کہ تحریک دیوبند کے اپنے بھارت میں تحریک دیوبند کی آواز کہاں ہے؟

پاکستان میں یہ افغان طالبان کے اساتذہ میں شمار کیا جانا باعث شرف سمجھتے ہیں، بھارت میں دارالعلوم وضاحتیں پیش کرتا پھرتا ہے کہ ہمارا طالبان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں، ہم تو مسکین سے سیکولرسے لوگ ہیں۔ ہم تو ڈر کے مارے  لفظ ’K‘ بھی منہ سے نہیں نکالتے کہ کہیں اس کا مطلب ’کشمیر‘ نہ سمجھ لیا جائے۔

جس طنطنے کا مظاہرہ پاکستان میں صبح شام کیا جاتا ہے، اس طنطنے کا مظاہرہ کبھی بھارت میں بھی کوئی کر دکھائے۔ کوئی مانے یا نہ مانے مگر حقیقت یہ ہے کہ اقبال کا پاکستان تحریک دیوبند کو حسین احمد مدنی کے ہندوستان سے زیادہ راس آیا ہے۔


یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ