دعا زہرا کیس: ’متعلقہ فورمز سے رجوع کریں، دائرہ کار میں نہیں‘

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے آج دعا زہرہ کی سماعت نمٹا دی اور والد کو متعلقہ فورمز سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔

دعا زہرہ کے والد مہدی کاظمی  (انڈپینڈنٹ اردو فائل تصویر)

سپریم کورٹ نے دعا زہرہ کا کیس آج نمٹا دیا۔ عدالت کے مطابق دعا کا کیس اس کے دائرہ کار میں نہیں تاہم والد دیگر متعلقہ فورمز سے رجوع کریں۔  

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں آج دعا زہرہ کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے دعا کے والد مہدی علی کاظمی کے وکیل نبیل نذیر احمد کی واپسی کی استدعا پر درخواست خارج کردی۔

سماعت جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی جس میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد علی مظہر بھی شامل تھے۔ کیس کی درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی سندھ، ایس ایس پی شرقی،   ایس ایچ او تھانہ الفلاح، تفتیشی افسر اے وی سی سی، اور دعا کے مبینہ شوہر ظہیر احمد بھی فریق تھے۔

کیس کی سماعت نمٹاتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ ’دعا کے والد میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے مناسب فورم سے رجوع کرسکتے ہیں۔‘

سماعت کے بعد دعا کے والد اور ان کے دوسرے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت نے میڈیکل بورڈ سے متعلق فورم سے رجوع کا کہا ہے۔ دعا زہرا کا نکاح نامہ جعلی نہیں ہےاور وہ کسی فورم پر جعلی ثابت نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کی آبزوریشن کی ختم کردی تو اب ہم نئے میڈیکل بورڈ کے لیے جا سکتے ہیں۔ ہم سیکرٹری صحت سے نئے میڈیکل بورڈ بنانے کی استدعا کردیں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ میڈیکل رپورٹ ہمارے حق میں ہی ہوگی۔ اس معاملے کو ہم دوبارہ ٹرائل کورٹ میں بھی اٹھائیں گے۔ آج سپریم کورٹ نے مناسب فیصلہ جاری کیا ہے۔‘

سماعت کے دوران جسٹس سجاد علی شاہ نے دعا کے والد مہدی علی کاظمی سے استفسار کیا کہ ’کیا آپ کو بیٹی سے ملنے دیا گیا؟‘

اس پر دعا کے والد کا کہنا تھا کہ ’مجھے بالکل بھی نہیں ملنے دیا گیا۔‘

عدالت نے پھر استفسار کیا کہ ’کیا واقعی ملاقات نہیں ہوئی؟‘

اس پر دعا کے عالد کا کہنا تھا کہ ’چیمبر میں پانچ منٹ ملاقات کروائی گئی تھی۔ دوران ملاقات کئی پولیس اہلکار کھڑے تھے۔‘

جسٹس منیب اختر نے دعا کے والد سے کہا کہ ’کیا آپ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو وہاں چیلنج کیا تھا؟‘

اس پر دعا کے والد کے وکیل نبیل نذیر احمد کا کہنا تھا کہ ’معذرت خواہ ہوں لیکن لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے درخواست نمٹا دی گئی تھی۔‘

جٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’سندھ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ غیر قانونی حراست کا کیس نہیں بنتا اور مگر کم عمری کی شادی سمجھ آتی ہے۔ دو عدالتوں میں دعا نے بیان دے دیا ہے۔ اب آپ کیا چاہتے ہیں؟ اغوا تو ثابت ہی نہیں ہوتا۔ سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے دعا کا بیان ہو گیا تھا۔‘

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ’دو قانونی نکات ہیں، ایک اغوا اور دوسری کسٹڈی، کیا آپ نے شادی کو چیلنج کیا تھا؟ لڑکی کی شادی کو صرف لڑکی ہی چیلنج کر سکتی ہے۔ آپ میرج ایکٹ پڑھ لیں۔‘

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ’شادی کو چلینج تو والد بھی نہیں کرسکتا۔ لڑکی اتنے بیانات دے رہی ہے، آپ کو کیا شبہ ہے؟ لڑکیاں عدالت میں بیان دے دیں تو پھر کیا ہو سکتا ہے؟َ اگر ملاقات ہوگئی تو لڑکی نے پھر منع کردیا تو پھر کیا ہوگا؟‘ اس پر دعا کے والد نے کہا کہ ’لڑکی ابھی چھوٹی ہے۔‘

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ’آپ قانونی نکات کو سمجھیں۔ آپ سول سوٹ دائر کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ گارڈین کا کیس سیشن عدالت میں دائر کر سکتے ہیں۔ ہراسمنٹ اور اغوا کا کیس تو نہیں بنتا۔ اگر 16 سال سے کم عمر میں بھی شادی ہوئی ہے تو نکاح رہتا ہے۔ نکاح تو آپ ختم نہیں کر سکتے۔ پہلے سے کم عمری میں نکاح ہو تو بھی نکاح ختم نہیں ہوتا سندھ کے کے قوانین میں بھی۔‘

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ’بچی ہے گائے، بھینس، بکری تو نہیں۔ اگر مرضی سے شادی کرلی تو اب کیا کریں گے۔ آپ سے پورے دن کے لیے ملاقات کرا سکتے ہیں۔ مگر بچی نے شادی کرلی، آپ پھر کیا کریں گے؟ ہم بچی سے زبردستی نہیں کر سکتے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان