کیا پاکستان کے معاشی بحران کی وجہ امریکہ ہے؟

ایسا کیا ہوا کہ اس بار آئی ایم ایف کا رویہ ہی کچھ اور ہے۔ وہ کوئی بات مان ہی نہیں رہا اور اس نے عملاً پاکستانی حکومت سے ناک سے لکیریں کھنچوا دی ہیں؟

امریکی صدر جو بائیڈن نے اگر عمران خان کو فون نہیں کیا تھا تو ایسا کوئی رابطہ تاحال شہباز شریف کے ساتھ بھی نہیں ہوا۔ بظاہر امریکہ یہ بات دل پر لے چکا ہے کہ ’پاکستان نے افغانستان میں امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دے دی۔‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یہ تحریر آپ کالم نگار کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں:


پاکستان کے معاشی بحران کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا یہ محض غلط معاشی اور سیاسی پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہے یا اس کا تعلق امور خارجہ سے بھی ہے اور ناراض امریکہ پاکستان کو سزا دینے پر تلا ہوا ہے؟

معاشی مسائل نے پہلی بار پاکستان کا گھر نہیں دیکھا۔ قرض اور امداد کی درخواست لے کر تو ہم 1948 سے پھر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ بھی پہلی بار معاملہ نہیں ہو رہا، یہ طویل کہانی ہے۔ سخت شرائط بھی آئی ایم ایف نے پہلی بار پیش نہیں کیں۔ برسوں سے شرائط بھی آتی رہیں اور  معاملات بھی طے ہوتے رہے۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ اس بار آئی ایم ایف کا رویہ ہی کچھ اور ہے۔ وہ کوئی بات مان ہی نہیں رہا اور اس نے عملاً پاکستانی حکومت سے ناک سے لکیریں کھنچوا دی ہیں؟

بے بسی کا یہ عالم ہے کہ وزیراعظم فرما رہے ہیں اگر آئی ایم ایف نے مزید شرائط عائد نہ کیں تو امید ہے ہمارا اس سے معاہدہ ہو جائے گا۔ خود سپردگی کی کیفیت یہ ہے کہ تنخواہ دار طبقے کو دیا گیا ٹیکس ریلیف دوسرے ہی ہفتے ’یو ٹرن‘ لیتے ہوئے نہ صرف واپس لے لیا گیا بلکہ ٹیکس کی شرح بھی تقریباً دگنی کر دی گئی۔ پیٹرول کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا اور ابھی کھیل جاری ہے۔

اس سے پہلے عمران حکومت نے آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لیے غیر معمولی ’قانون سازیاں‘ کر ڈالیں۔ سٹیٹ بینک کو خودمختار کرکے آئی ایم ایف کے ایک اہلکار کو اس کا سربراہ بنا دیا۔ روپے کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ کر معیشت کی چولیں ہلا دیں، لیکن اس کے باجود آئی ایم ایف کسی ہرجائی محبوب کی طرح دسترس سے باہر ہے۔ معاملہ کیا ہے؟

اس کی تین بڑی وجوہات ہیں اور سب سے بڑی وجہ امریکی ناراضی ہے۔  غلط یا صحیح سے قطع نظر، قرائن بتاتے ہیں کہ امریکہ کے خیال میں افغانستان میں پاکستان نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا اور اب وہ غصے میں اس کا بدلہ چکانا چاہتا ہے۔

یہ سوچنا اب ہمارا کام ہے کہ ’افغان جہاد‘ سے لے کر ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ تک کا ایندھن بن کر ہم نے کیا حاصل کیا؟ یہ کیسی خارجہ پالیسی تھی کہ دونوں جنگوں میں ہم نے امریکہ کا ساتھ دے کر اپنا وجود گھائل کر لیا لیکن جنگ کے اختتام پر ہم ہی معتوب ٹھہرے۔

یہ غصہ کسی ایک حکومت کے ساتھ نہیں، پاکستان کے ساتھ ہے۔ چنانچہ بائیڈن نے اگر عمران خان کو فون نہیں کیا تھا تو ایسا کوئی رابطہ  تاحال شہباز شریف کے ساتھ بھی نہیں ہوا۔ بظاہر امریکہ یہ بات دل پر لے چکا ہے کہ ’پاکستان نے افغانستان میں امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دے دی۔‘

ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو جن مسائل کا سامنا رہا، واقفانِ حال کا دعویٰ ہے کہ اس کی وجوہات وہ نہیں جو بیان کی جاتی ہیں۔ اس معاملے میں کچھ حروف نا گفتہ بھی ہیں جن کا تعلق بین الاقوامی سیاست سے ہے اور پاکستانی نظام احتساب کی طرح ایسا نہیں ہے کہ کوئی اپنے نامہ اعمال کی بنیاد پر گرفت میں آ جائے بلکہ جس گستاخ کو گرفت میں لانا ہو اس کا نامہ اعمال نکال لیا جاتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف سے آئی ایم ایف تک، اس پردہ زنگاری میں کوئی معشوق ہے، جس کا مزاج برہم ہے۔

یہ سوچنا اب ہمارا کام ہے کہ ’افغان جہاد‘ سے لے کر ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ تک کا ایندھن بن کر ہم نے کیا حاصل کیا؟ یہ کیسی خارجہ پالیسی تھی کہ دونوں جنگوں میں ہم نے امریکہ کا ساتھ دے کر اپنا وجود گھائل کر لیا لیکن جنگ کے اختتام پر ہم ہی معتوب ٹھہرے۔

حتیٰ کہ افغان طالبان بھی بھارت سے قربت بڑھا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں  پارلیمان میں اپنی پالیسیوں پر با معنی تنقیدی جائزہ لینے کی رسم کب شروع ہو گی؟

نائن الیون کے بعد ہمیں امریکہ سے نئی شرائط پر معاملہ کرنا چاہیے تھا۔ ایک جمہوری حکومت ہوتی تو شاید بہتر معاملہ کرتی، لیکن پرویز مشرف غیر آئینی حکمران تھے۔ ان کے لیے یہی کافی تھا کہ دنیا ان کے اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے ان سے معاملہ کر لے۔

آمر چونکہ داخلی سطح پر حلقہ انتخاب سے محروم ہوتا ہے تو وہ عالمی برادری میں اپنی اہمیت بنانے کے لیے اسی کو حلقہ انتخاب سمجھتا ہے۔ چنانچہ وہ یوں قائل ہو ئے کہ فون کرنے والے بھی حیرت زدہ رہ گئے۔ معیشت کے اس سونامی سے نکلنے کے لیے ہمیں پہلی بات تو یہ سمجھنا ہو گی کہ ہمیں امور خارجہ کی صورت گری پر نظر ثانی کی ضروت ہے۔

کوئی کمی رہ گئی تھی تو تحریک انصاف کے وزیر خزانہ اسد عمر نے پوری کر دی جنہوں نے آتے ہی انقلابی اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے معیشت اور امور خارجہ دونوں کو بازیچہ اطفال بنا دیا۔ صبح شام وہ آئی ایم ایف کی غلامی کی زنجیر توڑ پھینکنے کے رجز پڑھتے اور انہیں اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ معاشی حقائق کیا ہیں۔ امور خارجہ کانچ کی طرح نازک ہوتے ہیں، یہ جذباتی گنڈاسے سے حل نہیں ہوتے۔

چنانچہ غیر ذمہ دارانہ اسلوب گفتگو سے جب معاملات بگاڑ دیے گئے تو اسد عمر صاحب خود تو وزارت خزانہ سے الگ ہو گئے لیکن آئی ایم ایف نے سارے حساب چکا دیے اور پھر اسی تحریک انصاف نے ہاتھ باندھ کر اسی آئی ایم ایف کی ہر شرط مانی، جس کے خلاف رجز پڑھے جاتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معیشت بہتر تو کبھی بھی نہ تھی لیکن یہ اسد عمر ہی تھے جنہوں نے معیشت کو بند گلی میں لا چھوڑا اور ان کا کام آسان کیا جو پاکستان کو سبق سکھانا چاہتے تھے۔ پھر بھی اگر کوئی کمی رہ گئی تھی تو وہ عمران خان کے حالیہ امریکہ مخالف بیانیے نے پوری کر دی ہے۔

معیشت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن عالم یہ ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے پاس معاشی ماہرین کی کوئی ٹیم ہی نہیں ہے۔ سیاسی جماعت کو کسی نے ادارہ بنایا ہی نہیں۔ خوشامد اور تذلیل ہی ان کا مبلغ زاد راہ بن چکا ہے۔ قومی مسائل پر سنجیدہ مباحث کا نہ ذوق ہے نہ اہلیت۔ چنانچہ جب اقتدار ملتا ہے تو سب کو انہی چند دستیاب ’معاشی ماہرین‘ سے کام چلانا پڑتا ہے جو اکانومی تو سمجھتے ہیں لیکن پولیٹیکل اکانومی سے بے نیاز ہیں۔

اکانومی ایک بے رحم کھیل ہے۔ آپ کے پاس دس روپے ہیں تو روٹی ملے گی ورنہ نہیں، چاہے مر جاؤ، لیکن پولیٹیکل اکانومی کہتی ہے کہ نہیں، ہم نے اعدادو شمار اور عوام کی مجبوریوں میں توازن رکھنا ہے، اس لیے آٹھ روپے کی روٹی دے دو، باقی کے دو روپے ہم کہیں سے پورے کر دیتے ہیں۔  

وزیر خزانہ صرف ’معیشت کا ماہر‘ ہو تو وہ اعدادوشمار ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے لیکن وزیر خزانہ اگر سیاست کی دنیا کا آدمی بھی ہو تو وہ اعدادوشمار کے ساتھ عوام کی غربت، ان کی قوت خرید اور ان کے مسائل کو بھی مد نظر رکھتا ہے۔

جمہوریت کی بنیاد ہی اسی اصول پر ہے کہ معاشی نظام منتخب لوگ چلائیں۔ No Taxation without representation کا اصول یہی تھا کہ ٹیکس عوامی نمائندوں کے فیصلے کے بغیر نہ لگایا جائے۔ حفیظ شیخ سے شوکت ترین اور مفتاح اسماعیل تک یہ لوگ ’اکانومی‘ کے بندے ہیں، ’پولیٹیکل اکانومی‘ کے نہیں۔ ان کی بلا سے عوام پر کیا گزرتی ہے، ان کی منزل مقصود اعداو شمار کا گورکھ دھندا ہے۔

چنانچہ عالم یہ ہے کہ پون صدی گزار کر بھی ہمارے دامن میں دو ہی معاشی اصول ہیں۔ پہلا یہ کہ آئی ایم ایف سے قرض ملے گا تو معیشت چلے گی۔ دوسرا یہ ہے کہ قرض نہیں ملے گا تو ہم دیوالیہ ہو جائیں گے۔ ہمارے پاس نہ کوئی اور متبادل ہے نہ کوئی ویژن اور صلاحیت ہے جو متبادل تلاش کر سکے۔

اب تو لگتا ہے کہ لال قلعے پر جھنڈا لہرانے کی نوبت آئی تو کپڑے کے لیے بھی آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑے گا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ