‏‏‏‏‏ زائرہ وسیم کا سٹنٹ؟ ہر کوئی اپنی ہانک رہا ہے

زائرہ وسیم کے اسلام سے دوری کو وجہ بتا کر بالی وڈ کو خیر آباد کہنے کے اعلان پر ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔

آئیفا ایوارڈ کے موقع پر زائرہ وسیم کا ایک انداز (اے ایف پی)

زائرہ وسیم نے جب چند روز پہلے سوشل میڈیا پر بالی وڈ سے کنارہ کش ہونے کا اعلان کیا تو ہندوستان میں جیسے ایک زبردست بھونچال آ گیا اور وہ کئی روز تک نیوز چینلوں سے لے کر سوشل میڈیا کا واحد موضوع بحث بنیں۔

ان کے لاکھوں مداحوں نے اس بات پر سب سے زیادہ حیرانی دکھائی جب زائرہ نے بالی وڈ چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے لکھا کہ وہ فلمی دنیا میں رہ کر اسلام اور اللہ سے دور ہوتی جا رہی ہیں اور وہ خود کو قلب سکون سے محروم محسوس کر رہی ہے۔

عوام کے بیشتر حلقوں، سیاست دانوں، بالی وڈ، دانش وروں اور میڈیا کا مختلف ردعمل دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے زائرہ نے نہ جانے کوئی بڑا جرم کر دیا ہے جس پر ہر طرف واویلا ہو رہا ہے۔

آنا فانا ان کے تقریباً چھ ہزار ٹوئٹر مداحوں نے ان سے ناطہ توڑا، چند نے انہیں اسلامی شدت پسند تو بعض نے ان پر حریت کانفرنس کے دباؤ کے تحت بالی وڈ چھوڑنے کا الزام عائد کیا۔

ہندو کٹر پرست میڈیا نے انہیں طالبان کی حامی بتایا تو بعض فلمی اداکاروں نے سستی شہرت حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا۔ زائرہ کے مینیجر نے پہلے کہا کہ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک ہو گیا، پھر بعد میں اس کی تردید کی۔ غرض ہر طرف سے ہاہاکار مچ گئی۔

زائرہ وسیم پانچ سال پہلے بالی وڈ میں اُس وقت متعارف ہوئی تھیں جب معروف اداکار عامر خان نے انہیں ’دنگل‘ فلم میں کشتی لڑنے والی پہلوان کا کردار دیا تھا۔

فلم میں ان کی اداکاری کو داد و تحسین حاصل ہوئی۔ انہیں اس فلم کے لیے بہترین کردار ادا کرنے پر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ان کی دوسری فلم ’سیکرٹ سپرسٹار‘ بھی کافی کامیاب رہی اور اب ان کی فلم ’سکائی از پنک‘ ریلیز ہونے والی ہے جس میں وہ پرینکا چوپڑا اور فرحان خان کے ساتھ پہلی بار کام کر رہی ہیں۔ اس فلم کے آنے سے قبل ہی ان کا بالی وڈ کو الوداع کہنے کا اعلان ہوا جس نے سب کو چونکا دیا۔

زائرہ اکثر میڈیا کی زینت بنی ہیں۔ ان کا کشمیر سے تعلق بھی بھارتی میڈیا کا خاصا موضوع رہا ہے۔ وہ اس وقت بھی کافی میڈیا پر چھائی رہیں جب انہوں نے طیارے میں اپنے ساتھی مسافر پر زیادتی اور ہراساں کرنے کا الزام لگایا حالانکہ وہ میڈیا کی توجہ سے اس وقت بال بال بچ گئیں جب سرینگر کی مشہور جھیل ڈل میں وہ حادثے کا شکار ہوگئیں اور اس حادثے کے بارے میں کئی مختلف کہانیاں منظر عام پر آنے لگی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زائرہ کا بالی وڈ چھوڑنے پر شاید اتنا شدید ردعمل سامنے نہ آتا اگر انہوں نے چھوڑنے کی وجہ اسلام سے دوری نہ بتایا ہوتا۔ بعض ہندو اتنے برہم ہوئے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر زائرہ کو مشورہ دیا کہ سلمان خان، شاہ رخ خان اور عامر خان کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں تاکہ فلم انڈسٹری مسلمانوں سے پاک ہو جائے۔

اداکار انوپم کھیر نے یہاں تک کہہ دیا کہ زائرہ نے یہ فیصلہ دباؤ کے تحت کیا اور یہ دباؤ حریت والوں کا ہو سکتا ہے۔ اداکارہ روینا ٹنڈن نے غصے بھرے ردعمل میں کہا کہ زائرہ نے انڈسٹری سے سب کچھ حاصل کرنے کے بعد اس کی توہین کی۔

ساتھ ہی ہندو مہا سبھا نے زائرہ کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے ہندو اداکاراؤں کو مشورہ دیا کہ وہ ان کی طرح مذہب کا راستہ اختیار کرکے فلمی دنیا کو خیرباد کہیں جبکہ ہندو انتہا پسندوں نے انہیں ’دہشت گردوں‘ کی حامی تک قرار دیا۔

ظاہر ہے بعض مولوی حضرات بھی اس بحث میں کود پڑے اور فورا زائرہ کو راہ راست پر آنے کی شاباشی دی۔ کشمیر کے بیشتر حلقوں میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ وہ اسلام کے دائرے میں واپس آ کر دوسری لڑکیوں کے لیے مثال بن سکتی ہیں۔

زائرہ اب 18 سال کی ہو چکی ہیں اور اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی مجاز ہیں۔ بالی وڈ چھوڑنے کے پس پردہ کوئی بھی وجہ ہو مگر ان کا فیصلے کے ساتھ اسلام جوڑنے سے بعض مسلمانوں کی دل آزاری بھی ہوئی کیونکہ اسلام مخالف بیشتر عناصر نے اس مذہب کو قدامت پسندی اور عورت کی محکومی سے تعبیر کیا۔ اس تاثر کا توڑ کرنے کے لیے بیشتر مذہبی علما نے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ زائرہ نے اپنی نئی فلم کی تشہیر سے پہلے سستی پبلسٹی کا ایک شوشہ چھوڑا جس میں وہ کامیاب ہو گئیں کیونکہ موجودہ ہندوستان میں اس وقت دھرم ہی ہے جو سستے داموں بکتا ہے اور اگر خدانخواستہ زائرہ نے بھی اسلام کا سہارا لے کر اپنے کیرئیر کو آسمان پر لینے کا اسلامی سٹنٹ کھیلا ہے تو انتہا پسند ہندوؤں کا اس پر ہنگامہ کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا جو گذشتہ کئی دہائیوں سے ہندوستان میں صرف دھرم کا کاروبار ہی چلاتے ہیں۔

بالی وڈ میں بہت سے مسلمان کام کر رہے ہیں اور یہ پہلی بار ہے کہ کسی اداکار نے اداکاری چھوڑنے کی وجہ مذہب سے دوری بتایا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی یہی وجہ ہے یا بالی وڈ میں مسلمانوں کے لیے جگہ کم پڑ رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر