اردن: عازمین حج کی مہمان نوازی کرنے کی قدیم روایت

وقت کے ساتھ ساتھ یہ روایت زیادہ منظم شکل اختیار کر گئی اور اب معان میں یہ سالانہ روایت ’سبیل معان‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

اردن کے جنوبی شہر معان میں عازمین حج کو مکہ روانہ کرتے ہوئے پھل دینے کی یہ روایت کافی قدیم ہے۔

دہائیوں سے یہاں تمیم الیان جیسے رضاکار مکہ جانے والے عازمین کو مختلف قسم کے کھانے، پھل اور مشروب پیش کر کے مکہ کی جانب روانہ کرتے ہیں۔

اردن کا جنوبی شہر معان جو مکہ کے راستے پر واقع ہے، میں یہ قدیم روایت شہریوں میں بہت مقبول ہے۔

معان کے رہائشی واثق ابودرویش کہتے ہیں ’ماضی میں ہم حجاج کو اپنے دیوان (مہمان خانے) میں خوش آمدید کہتے تھے، وہ ہمارے گھر پر کھانا کھاتے اور مشروب سے لطف اندوز ہوتے تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وقت کے ساتھ ساتھ یہ روایت زیادہ منظم شکل اختیار کر گئی اور اب معان میں یہ سالانہ روایت ’سبیل معان‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

سبیل عربی زبان میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے کو کہتے ہیں جو بلا تفریق ہر طبقے کے کام آتا ہے۔

اس سبیل کے لیے مختلف خاندان اور دکان دار اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔

واثق کہتے ہیں کہ ’کسی کے لیے مفت میں کام کرنا ایک بہت اچھا احساس ہے۔ عازمین سے صرف ہمارا یہ کہنا ہے کہ ہمارے لیے دعا کریں جو ہمارے لیے سب سے اہم چیز ہے۔‘

سعودی عرب میں رواں سال دس لاکھ حجاج حج کا فریضہ ادا کری گے جو گذشتہ دو سال کے بعد پہلی بار بیرون ممالک سے حج میں شریک ہو سکیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا