یوکرین جنگ: پولینڈ میں ایندھن کے لیے لکڑی کی مانگ میں اضافہ

یوکرین جنگ کی وجہ سے یورپ بھر میں بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے پیش نظر پولینڈ میں لوگ موسم سرما میں لکڑی کے استعمال کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

یوکرین جنگ کی وجہ سے یورپ بھر میں بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پولینڈ کے شہری اضافی لکڑی استعمال کر رہے ہیں اور حکومت بھی ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

پولینڈ میں جنگلات ملک کے رقبے کے 30 فیصد حصے پر موجود ہیں جن میں جلانے والی لکڑی والی درخت وافر تعداد میں موجود ہیں۔

سرکاری محکمہ جنگلات کے مطابق جون کے آخر تک تین لاکھ 77 ہزار کیوبک میٹر لکڑی بطور ایندھن بک چکی ہے جو گذشتہ سال کی نسبت 30 فیصد زیادہ ہے۔

پولینڈ میں کوئلے کی قیمتیں 2021 کے مقابلے میں تین گنا بڑھ چکی ہیں۔ اب ایک ٹن کوئلہ تقریباً 449 امریکی ڈالرز کا پڑتا ہے اور ایک اوسط خاندان کو سردیوں میں تین ٹن کوئلے کی ضرورت پڑتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محکمہ جنگلات کے ایک اہلکار ارتور گاسکی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یورپ کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر اور یوکرین کے تنازعے کی وجہ سے سرکاری جنگلات نے شہریوں کے لیے جلانے کی لکڑی کی فراہمی یقینی بنائی ہے تاکہ آئندہ موسم سرما میں استعمال ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم اگلی سردیوں اور ان سے اگلی سردیوں میں اپنے رہائشیوں کی ضروریات پوری کریں گے۔‘

محکمہ جنگلات کے ایک اور اہلکار سزیمون تاتارزیک نے بتایا: ’اس سال کوئلے کی قیمت کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ادراک ہوا کہ ان کے پاس ابھی تک ایسے چولہے ہیں جو لکڑی کے ٹکروں پر دہک سکتے ہیں۔‘

ارتور تروچمیاک پولینڈ میں ایک کسان ہیں۔ انہیں سردیوں کا موسم گزارنے کے لیے لکڑی جمع کرنے کے لیے تین ماہ لگ جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’یہ محنت طلب کام ہے لیکن ہم صبح سے رات تک نہیں کرتے۔ بعض اوقات انہیں منتقل کرنے کے لیے سات سے آٹھ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ لیکن لکڑیوں کو جمع کرنے میں روزانہ تین سے چار گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا