لاہور میں 20 سالہ ریکارڈ توڑنے والی بارش، ذخائر بھر گئے

لاہور میں بدھ کی رات شروع ہونے والی بارش نے گذشتہ 20 سالہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں حالیہ مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث بلوچستان اور سندھ کے بعد اب پنجاب کے بھی کئی مقامات پر سڑکیں پانی میں ڈوب گئی ہے۔

لاہور میں بدھ کی رات شروع ہونے والی بارش نے گذشتہ 20 سالہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس ریکارڈ بارش کے نتیجے میں انڈر گراؤنڈ ریزر وائر میں 44 لاکھ گیلن پانی سٹور ہو گیا مگر کچھ سڑکیں اب بھی تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں۔

ایم ڈی واسا غفران احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ رات سے شروع ہونے والی بارش نے سات گھنٹے میں 20 برس کا ریکارڈ توڑ دیا۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور میں سات گھنٹوں میں 238 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ 2018 میں 288 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی تاہم اس کا دورانیہ 14 گھنٹے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنی بارش کے باوجود لاہور میں ’کوئی خاص مسئلہ نظر نہیں آیا، کوئی ٹریفک نہیں رکی، کہیں کوئی پونڈنگ نہیں ہوئی۔‘

 ’ہمارا پورا سسٹم بالکل ٹھیک طریقے سے کام کر رہا ہے جس کی وجہ سے کہیں پانی نہیں رکا۔‘

ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ تمام ڈسپوزل سٹیشن فعال ہیں اور جنریٹر بھی استعمال کر رہے ہیں، اتنی زیادہ بارش کے باوجود بیشتر علاقے کلیئر کر دیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت لکشمی چوک، چوک ناخدا، کوپر روڈ، دو موریہ پل، ایک موریہ پل، فردوس مارکیٹ، جی پی او، نابھہ روڈ، بھاٹی گیٹ، قینچی سٹاپ، جناح ہسپتال، ٹکا چوک کلیئر ہیں۔ صرف تاج پورہ رہ گیا ہے جہاں بارش بھی سب سے زیادہ ہوئی وہ علاقہ بھی تین سے چار گھنٹے میں کلئیر ہو جائے گا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ بارش کے پانی کے نکاس کے لیے اس وقت شہر میں تین ریزر وائرز کام کر رہے ہیں جن میں سے ایک لارنس گارڈن، کشمیر روڈ اور شیرانوالہ گیٹ پر انڈر گراؤنڈ کام کر رہے ہیں۔

’یہ ریزر وائرز ان بارشوں میں بہت کام آئے۔ صرف شیرانوالہ کا ٹینک فل ہوگیا ہے کیونکہ اس ریزر وائر سے ایک موریہ اور دو موریہ پل کا ایریا بھی جڑا ہے تو اس لیے وہ جلد بھر گیا۔ لیکن ہم نے فوری ٹینک کو کچھ خالی کیا اور وہاں سڑکیں کلئیر کر دیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ لارنس گارڈن والے ریزرو وائر میں 14 لاکھ گیلن جمع ہو سکتا ہے جبکہ شیرانوالہ اور کشمیر روڈ والے ریزووائرز میں 15، 15 لاکھ گیلن پانی اکٹھا ہو سکتا ہے۔ جمع ہونے والا بارش کا پانی ان میں سٹور ہو جاتا ہے جو بعد میں پنجاب ہورٹی کلچر اتھارٹی اور فائر بریگیڈ کے کام آتا ہے۔ 

کینٹ اور گلبرگ کا ایریا، ظہور الہٰی روڈ بارش رکنے کے باوجود پانی کے تالاب کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہاں تک قذافی سٹیڈیم، نیشنل ہاکی سٹیڈیم، ایل سی سی آئی گراؤنڈ اور نشتر سپورٹس کمپلیکس بھی پانی کے تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے وہاں کئی سرگرمیاں منسوخ کرنی پڑیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حوالے سے ایم ڈی واسا کا کہنا تھا کہ ظہور الٰہی روڈ پر ہمارا سسٹم ہے لیکن آپ دیکھیں کہ ظہور الٰہی روڈ کا لیول کیا ہے اور ہماری نہر کا لیول کیا ہے۔

’ظہور الٰہی روڈ پر سسٹم چل رہا ہے جیسے بارش رکے گی اس کے ایک آدھ گھنٹے میں پانی نکل جائے گا۔‘ 

انہوں نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ ان دنوں میں کسی قسم کا سالڈ ویسٹ ڈرینز میں نہ پھینکیں تاکہ بارش کے پانی کے نکاس میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

دوسری جانب لاہور میں بارشوں کے باعث گذشتہ رات سے 100 سے زائد فیڈر ٹرپ کر گئے ہیں جس کی وجہ سے بیشتر علاقوں میں بجلی کئی گھنٹوں سے بند ہے۔

لیسکو کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس وقت 79 فیڈر بند ہیں اور ان میں سے 50 فیصد کے اندر خرابی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رات کی صورتحال اس وقت نہیں بتائی جاسکتی مگر امکان ہے کہ سو سے زائد فیڈرز بارش کی وجہ سے بند ہوئے ہوں گے۔

لاہور میں جاری بارش نے شہر کی ٹریفک پولیس کو بھی میدان میں اتارے رکھا۔

سی ٹی او لاہور منتظر مہدی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شدید بارش کے باوجود کہیں ٹریفک کی روانی متاثر نہیں ہونے دی جا رہی، تمام لفٹرز اور بریک ڈاؤنز نشیبی سڑکوں پر موجود ہیں۔

منتظر مہدی نے شہریوں اور اپنے ٹریفک وارڈنز کو خبردار کیا ہے کہ وہ بارش کے موسم میں الیکٹرک تنصیبات سے دور رہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان